پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

یوم پاکستان کے موقع پرچین کاپاکستان کو بہت بڑا تحفہ
تاریخ :   23-03-2018

چین ( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ) کی طرف سے پاکستان کو میزائل ٹریکنگ سسٹم کی فراہمی کو پاکستان میں کئی ماہرین نے پاکستانی دفاع کے لئے مثبت قرار دیا ہے اور ان کے خیال میں یہ چینی اقدام خطے میں استحکام پیدا کرے گا۔
دفاعی تجزیہ نگار کرنل ریٹارئرڈ انعام الرحیم کے خیال میں اس ٹیکنالوجی کی بدولت پاکستان بھارت کا مقابلہ کر سکتا ہے، ’’آج کے دور میں بیلنس آف پاورکو نظر انداز کرنا تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بھارت روایتی طور پر مضبوط ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمیں فوری طور پر بھارت کے عزائم کا پتہ چل سکتا ہے اور ہم بھر پور جواب کی تیاری کر سکتے ہیں۔ ہم نے اس ٹیکنالوجی کی آج نمائش بھی کی ہے، جس سے بھارت کو ایک بھر پور پیغام جائے گا کہ وہ خطے میں کوئی بھی ایڈوینچر کرنے کی کوشش نہ کرے۔ بھارت نے پہلے ہی ایل او سی کو گرم کیا ہوا ہے اور وہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہمارے سفارتکاروں کو بھی تنگ کر رہا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کے عزائم ٹھیک نہیں ہیں۔ ایسے موقع پر اس ٹیکنالوجی کا پاکستان کو ملنا بہت اچھا ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’بین الاقوامی طور پر اب روس نے ایسے میزائل تیار کر لئے ہیں، جن کو ٹریس بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمارا مقابلہ بھارت کے ساتھ ہے۔ ابھی یہ ٹیکنالوجی یا امریکی اسٹیلتھ طیارے بھارت کے پاس نہیں آئے ہیں۔ جب یہ ٹیکنالوجی بھارت کے پاس آئے گی تو پھر ہمارے لئے مشکلات ہوں گی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ دفاعی شعبے میں بھر پور کفالت کی طرف جائے۔ میزائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی کے علاوہ ہمارے پاس بہترین ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بھی ہیں، جن سے ہماری دفاعی پوزیشن بہتر ہوگی۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ چین نے پاکستان کو یہ ٹیکنالوجی اس لئے دی ہے کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا نہیں چاہتا، ’’چین معاشی طور پر تیز رفتار انداز میں ترقی کرنا چاہتا ہے۔ اس تیز رفتار ترقی کے لئے سی پیک ایک اہم عنصر ہے اور سی پیک اسی وقت کامیاب ہوگا جب پاکستان مستحکم اور مضبوط ہوگا۔ تو چین کا اس حوالے سے پاکستان کی مدد کرنا قدرتی عمل ہے کیونکہ امریکا خطے میں بھارت کو مضبوط کر کے چین کی اس ترقی کو روکنا چاہتا ہے۔ واشنگٹن نے ابھی دو بلین ڈالرز کی ڈرون ٹیکنالوجی بھارت کو دی ہے۔ اوباما نے یہ ٹیکنالوجی دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن ٹرمپ نے چین کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے۔ اس لئے اس نے یہ ٹیکنالوجی بھارت کو دے دی ہے کیونکہ وہ چین اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔‘
اسلام آباد کی قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع نہیں ہوگی،’’یہ دوڑ تو پہلے ہی سے شروع ہے۔ بھارت کے پاس پہلے ہی برہمو سمیت کئی جدید میزائل ہیں۔ اس کے پاس میزائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ وہ پہلے ہی اسرائیل اور امریکا کی مدد سے جدید سے جدید ترین ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان نے صرف ایک بیلنسنگ ایکٹ کیا ہے، جو ہمارے دفاع کے لئے بہت ضروری ہے۔‘‘
اسلام آباد کی پریسٹن یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ پروفیسر امان میمن کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی غیر دانشمندانہ پالیسیاں جنوبی ایشیا کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں،’’امریکا چین کا راستہ روکنے کے لئے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لئے بھارت کو بے تحاشا ہتھیار دے رہا ہے اور اس کو عسکری لحاظ سے بہت مضبوط کر رہا ہے۔ یہ سمجھے بغیر کہ بھارت میں ایک قوم پرست تنظیم بر سرِ اقتدار ہے، جو خطے میں کسی بھی وقت جنگ کے شعلے بھڑکا سکتی ہے۔ پاکستان کا اس صورتِ حال سے پریشان ہونا فطری عمل ہے۔ لیکن یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ دونوں ممالک اپنے وسائل ان ہتھیاروں پر لگا رہے ہیں اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ دونوں ممالک میں غربت بڑھ رہی ہے اور انسانی ترقی کے انڈیکس میں دونوں ممالک پیچھے ہیں۔ میرے خیال میں پاکستان اور بھارت کو دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر ہتھیاروں کی اس لعنت کو ختم کرنے کی بات کرنی چاہیے۔ یہ بات خیالی لگتی ہے لیکن خطے کو تباہی سے بچانے کے لئے یہ کرنا پڑے گا۔‘‘

Print Friendly, PDF & Email
جرمنی میں نئے آنے والے تارکین وطن کو آئندہ ان کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے ہونے تک خصوصی حراستی مراکز میں رکھا جائے
تیز رفتار ڈمپر نے رکشہ کو ٹکر مار دی جس کے نتیجہ میں رکشہ ڈرائیور سمیت 2 افراد جاں بحق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »