پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے ہمارے سیاستدان تو اپنے 4 صوبے نہیں سنبھال سکتے۔شاہد خان آفریدی     No IMG     چین میں متعدد پاکستانیوں کی بیگمات گرفتار     No IMG     ساہیوال میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد گرفتار     No IMG     فیصل آباد میں وکلاء کا احتجاج     No IMG     اوورسیز پاکستانیوں کیلئے نیا پاکستان کالنگ ویب پورٹل کا افتتاح     No IMG     بلوچستان ریلوے کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں, وفاقی وزیر ریلوے     No IMG     اسمبلی کی تقریر کو عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا,سابق وزیر اعظم     No IMG     اسرائیلی فوج ’فوری طور پر حملے بند, کرے، ترکی     No IMG     یورپی فوج‘ تشکیل دی جائے ,چانسلر انگیلا میرکل     No IMG     ترکی میں مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک     No IMG     آرمی چیف کی زیر صدارت کمانڈرز کانفرنس     No IMG     ٹریفک کےمختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق     No IMG     اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی مندی کا رحجان     No IMG     ایف بی آرنے وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کیلئے قائم کردہ جے آئی ٹی کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا     No IMG     نیب ادارہ ختم کر دیا جا ئے ، اہم ترین اعلان     No IMG    

یورپ آنے والے نیا غیر ملکیوں کے فنگر پرنٹس لیے جایا کریں گے
تاریخ :   26-10-2017

یورپی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) یونین میں سلامتی کی صورت حال میں بہتری کے لیے اس بلاک کی سرحدوں پر جلد ہی امریکا اور یونین سے باہر کے دیگر ممالک کے شہریوں کے فنگر پرنٹس لیے جایا کریں گے۔ چند حلقے اس اقدام کو انسانی حقوق پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔

یورپی یونین کے اس اقدام کے تحت اس اب تک اٹھائیس رکنی بلاک میں یونین سے باہر کے امریکا سمیت تمام ممالک سے آنے والے مسافروں کے نہ صرف فنگر پرنٹس لیے جائیں گے بلکہ ساتھ ہی ان غیر ملکیوں کے بائیو میٹرک ڈیٹا پر مشتمل ایک پورا ڈیٹا بینک بھی تیار کیا جائے گا۔

امریکا میں ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر ایسا سکیورٹی سسٹم پہلے ہی سے کام کر رہا ہے۔ اب یورپی یونین نے بھی اپنے ہاں اس بلاک کے باہر سے آنے والے غیر یورپی شہریوں کے لیے یہ نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یورپی حکام اس تبدیلی کی وجہ یہ سوچ بتاتے ہیں کہ یونین میں سلامتی کی صورت حال مزید بہتر بنائی جانا چاہیے۔ لیکن اس فیصلے پر ناخوش کئی سماجی حلقوں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ اس طرح بنیادی انسانی حقوق پر حملہ کیا جا رہا ہے۔

اس بارے میں ڈوئچے ویلے کی کارلا بلائیکر لکھتی ہیں کہ امریکا جانے والے غیر امریکی شہری پہلے ہی اس طرح کے سکیورٹی انتظامات سے واقف ہیں کہ جب وہ کسی امریکی ہوائی اڈے یا بندرگاہ پر اترتے ہیں تو امیگریشن سے گزرتے ہوئے ہر غیر ملکی کے فنگر پرنٹس کے علاوہ اس کی ایک ڈیجیٹل کیمرے سے تصویر بھی لی جاتی ہے۔

اب یورپی یونین بھی اپنے ہاں اسی طرح کے انتظامات متعارف کرانا چاہتی ہے، اس بلاک سے باہر کی تمام ریاستوں کے ان شہریوں کے لیے جو کاروباری یا سیاحتی مقاصد کے تحت کسی بھی رکن ملک کے راستے یونین میں داخل ہونا چاہتے ہوں۔

اس مجوزہ یورپی نظام کو نئے ’انٹری ایگزٹ سسٹم‘ یا EES کا نام دیا گیا ہے۔ اس بارے میں یورپی پارلیمان میں بدھ پچیس اکتوبر کو ہونے والی رائے شماری میں ارکان کی اکثریت نے ایک قرارداد کی منظوری دے دی۔ اس نئے نظام کے تحت یونین میں داخل ہونے والے کسی بھی غیر یورپی شہری کے فنگر پرنٹس، اس کی تصویر، دیگر بائیو میٹرک کوائف، یونین میں داخلے کی تاریخ، روانگی کی تاریخ اور اس بلاک میں داخلے سے ممکنہ انکار کی تفصیلات سمیت بہت سی معلومات کو چار سال تک محفوظ رکھا جا سکے گا۔ان جملہ معلومات تک رکن ممالک کے سکیورٹی محکموں، قانون نافذ کرنے والے یورپی اداروں، یورپی بارڈر کنٹرول اور ویزا حکام کو مکمل رسائی حاصل رہے گی۔ اس ای ای ایس سسٹم سے یونین کے رکن ممالک کے شہریوں اور یونین کے شینگن زون میں شامل ریاستوں کے باشندوں کو استثنیٰ حاصل ہو گا۔

ان نئے ضوابط کے حامی یورپی حکام اور سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح یورپی امیگریشن سسٹم کو مزید تیز رفتار اور زیادہ مؤثر بنایا جا سکے گا۔ مثلاﹰ یہ پتہ چلانے میں بھی دیر نہیں لگے گی کہ آیا کوئی غیر یورپی شہری اس بلاک میں اپنے ویزے کی مقررہ مدت سے زیادہ عرصے تک قیام کا مرتکب ہو رہا ہے۔

یورپی پارلیمان کی جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایک قدامت پسند رکن مونیکا ہولمائر کے مطابق، ’’اس نظام سے فوری طور پر یہ طے کرنا بہت آسان ہو جائے گا کہ کون سا غیر ملکی کس وقت یورپی یونین میں قانونی یا غیر قانونی طور پر مقیم ہے۔‘‘

اسی بارے میں یورپی یونین کے ترک وطن سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر دیمیتریس آوراموپولوس کہتے ہیں، ’’یورپی یونین کا یہ حق ہے کہ وہ باخبر رہے کہ کون اس بلاک میں آ رہا ہے اور کون یہاں سے جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس ڈیٹا بینک تک یورپی پولیس ’یوروپول‘ کو مکمل رسائی حاصل ہو گی۔

اس مجوزہ نظام کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ عام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس طرح یورپی نوکر شاہی کو ’غیر ضروری طور پر‘ لوگوں کے نجی کوائف تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔

یورپی یونین کی رکن ریاستوں کی طرف سے منظوری کے بعد یہ نظام پوری یونین میں 2020ء سے مستقل طور پر نافذ ہو سکے گا۔ یورپی حکام کا خیال ہے کہ اس منصوبے پر قریب 480 ملین یورو (567 ملین ڈالر) لاگت آئے گی۔ ناقدین کا لیکن دعویٰ ہے کہ اس منصوبے پر حتمی لاگت ان رقوم کے دو گنا سے بھی زیادہ رہے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
ارب پتی افراد کی تعداد 1541 سو سے بڑھ گئی ہے
بھارت میں سوئس جوڑے کو بری طرح مارا پیٹا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »