وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کردیا     No IMG     ایران کے وزیر خارجہ کی ترک صدر اردوغان کے ساتھ ملاقات     No IMG     عمان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں شام کی عرب لیگ میں واپسی پر تاکیدکی     No IMG     سعودی عرب کی ایک کمپنی نے ترکی میں 100 ملین ڈالر کا سرمایہ لگانے کا اعلان     No IMG     روس کی سرحد پربرطانوی فوجی ہیلی کاپٹروں کی تعیناتی پر شدید رد عمل     No IMG     چین ,نے سی پیک پر بھارت کے اعتراضات کو مسترد کردیا     No IMG     چلی میں چھوٹا طیارہ ایک گھر پر گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک     No IMG     فیصل آباد میں جعلی اکاﺅنٹ پکڑے گئے‘بنکوں کا عملہ بھی ملوث نکلا     No IMG     حمزہ شہبازعبوری ضمانت میں توسیع کے لیے ہائی کورٹ پہنچ گئے     No IMG     عوامی مقامات پر غیر مناسب لباس ممنوع، 5 ہزار ریال جرمانہ     No IMG     عالمی بینک نے پاکستان سے جوہری پروگرام، جے ایف 17 تھنڈر، بحری آبدوزوں اور سی پیک قرضوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     امریکی شہری پاکستان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں, امریکی محکمہ خارجہ     No IMG     ملک بھر میں شدید طوفان آنے کا خدشہ     No IMG    

یورپی یونین کے لیے سن 2019ء بھی آسان نہیں ہوگا
تاریخ :   25-12-2018

یورپی یونین ۔( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) آئندہ برس یورپی پارلیمان اور یورپی کمیشن کے انتخابات ہوں گے۔ یورپی یونین میں تبدیلی تو آئے گے لیکن عوامیت پسندی، تجارتی جنگ، مہاجرت اور بجٹ جیسے مسائل برقرار رہیں گے۔ کیا آئندہ برس سن 2018ء سے بھی مشکل ثابت ہوگا؟

بریگزٹ کے حوالے سے برطانیہ کے ساتھ سست روی کے شکار مذاکرات، امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ، یورپ میں عوامیت پسندی کی لہر اور پولینڈ، ہنگری اور رومانیہ میں قانون کی حکمرانی کی کمی جیسے مسائل نے رواں برس یورپی یونین کو مصروف رکھا لیکن کیا آئندہ برس اس سے بھی برا ثابت ہو سکتا ہے؟ جی بالکل ہو سکتا ہے لیکن لازمی نہیں ایسا ہی ہو۔

مئی دو ہزار نو میں یورپی پارلیمان کے نئے انتخابات ہوں گے۔ بعدازاں خزاں میں یورپی کمیشن سے لے کر یورپی مرکزی بینک تک یونین کے تمام اعلیٰ دفاتر میں نئے عہدیدار براجمان ہونا ہیں۔ اس طرح یورپ کو درپیش مسائل خود بخود تو حل نہیں ہوں گے لیکن ایک نئے آغاز کی توقع ضرور ہے۔
انتخابی جائزوں کے مطابق یورپی پارلیمان میں آئندہ برس دائیں بازو کے بنیاد پرستوں اور عوامیت پسند اراکین کی تعداد دس سے بڑھ کر بیس تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ بنیاد پرست یورپی پارلیمان میں کوئی بڑی طاقت بن کر تو نہیں ابھریں گے لیکن ان کا اثرو رسوخ زیادہ ہو جائے گا۔ یہ ارکان انضمام اور اصلاحات کے عمل کو مغوی بنا سکتے ہیں۔ انتخابی نتائج یورپی یونین کے عوام میں مزید بے چینی کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہاں پر یورپی یونین کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ امن اور خوشحالی کے لیے ’سب سے پہلے میرا ملک‘ کی بجائے ’یورپ زیادہ اہم‘ ہے۔

یورپی یونین چھوٹی ہو جائے گی

برطانیہ کے اخراج کے بعد تاریخ میں پہلی مرتبہ یورپی یونین سکڑ جائے گی۔ اگر خارجہ اور سلامتی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یورپی یونین کے لیے یہ یقینی طور پر ایک بہت بڑا نقصان ہو گا۔ برطانیہ کی فوجی طاقت کے بغیر دنیا میں یورپی یونین کا شمار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہاں معاشی لحاظ سے یورپی یونین برطانیہ کے بغیر بھی اپنے مسائل سے نمٹنے کی طاقت رکھتی ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کے لیے بریگزٹ کے نتائج اس سے بھی برے ہو سکتے ہیں اور اس کا اندازہ خود برطانوی حکومت کو بھی ہے۔ برطانوی ایوان زیریں میں بریگزٹ کے عمل کو مکمل بلاک کرنے سے یہ موقع ابھی بھی موجود ہے کہ بریگزٹ کو ملتوی کر دیا جائے لیکن مطلوب تو یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا جائے۔

نئے مسائل کا سامنا

برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے بعد اٹلی جیسے ملکوں کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ دوسری جانب اٹلی کی عوامیت پسند نئی حکومت یورپی یونین میں غیریقینی صورتحال کا باعث بن رہی ہے۔ دائیں بازو کی بنیاد پرست حکمران پارٹی کے سربراہ ماتیو سالوینی وزارت داخلہ کے عہدے سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ وزیراعظم کا عہدہ چاہتے ہیں اور انتخابات میں برسلز مخالف مہم چلائیں گے۔
یورپ میں عوامیت پسندی کے خلاف بڑی آوازوں میں سے ایک فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں ہیں۔ لیکن اگر فرانس میں ’پیلی جیکٹوں‘ والے مظاہرین کی وجہ سے ان کی طاقت میں کمی آتی ہے تو یورپی یونین اپنے انجن کو چلانے والے بلیٹ سے محروم ہو جائے گی۔
یورپی یونین کے داخلی بحرانوں سے قطع نظر روس کے خطرے، ٹیکنالوجی کے میدان میں چین سے مقابلے، افریقہ میں اثرو رسوخ اور وائٹ ہاوس کے غیر متوقع رویے کی وجہ سے خارجہ طوفانوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ ڈیجیٹل دنیا میں تبدیلی، مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافے اور ماحول دوست معیشت کو سن دو ہزار نو میں نئی طاقت اور نئے خیالات کی ضرورت ہو گی۔ یہاں پر یورپی یونین اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ یورپ یہ ثابت کر سکتا ہے کہ جو کچھ مشترکہ کوششوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے وہ تنہا ممکن نہیں ہے۔
مشرقی یورپ میں سماجی تبدیلیوں کے تیس برس بعد سن 2019ء کوئی آسان سال ثابت نہیں ہو گا لیکن کیا یورپی یونین کے لیے کوئی ایک برس آسان بھی تھا؟ یورپی یونین بحرانی صورتحال سے نمٹنے کی عادی ہو چکی ہے۔ یہ آئندہ برس بھی ممکنہ بحرانوں کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کر ہی لے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
شمالی کوریا وارم بیئر کے خاندان کو 501 ملین ڈالر ادا کرے امریکہ
قائد اعظم محمد علی جناح کے مشن کو پاکستان مسلم لیگ (ن) پایہ تکمیل کو پہچانے کے لئے تن، من، دھن لگائے گی,اپوزیشن لیڈر شہباز شریف
Translate News »