وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کردیا     No IMG     ایران کے وزیر خارجہ کی ترک صدر اردوغان کے ساتھ ملاقات     No IMG     عمان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں شام کی عرب لیگ میں واپسی پر تاکیدکی     No IMG     سعودی عرب کی ایک کمپنی نے ترکی میں 100 ملین ڈالر کا سرمایہ لگانے کا اعلان     No IMG     روس کی سرحد پربرطانوی فوجی ہیلی کاپٹروں کی تعیناتی پر شدید رد عمل     No IMG     چین ,نے سی پیک پر بھارت کے اعتراضات کو مسترد کردیا     No IMG     چلی میں چھوٹا طیارہ ایک گھر پر گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک     No IMG     فیصل آباد میں جعلی اکاﺅنٹ پکڑے گئے‘بنکوں کا عملہ بھی ملوث نکلا     No IMG     حمزہ شہبازعبوری ضمانت میں توسیع کے لیے ہائی کورٹ پہنچ گئے     No IMG     عوامی مقامات پر غیر مناسب لباس ممنوع، 5 ہزار ریال جرمانہ     No IMG     عالمی بینک نے پاکستان سے جوہری پروگرام، جے ایف 17 تھنڈر، بحری آبدوزوں اور سی پیک قرضوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     امریکی شہری پاکستان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں, امریکی محکمہ خارجہ     No IMG     ملک بھر میں شدید طوفان آنے کا خدشہ     No IMG    

یورپی ہائی ویز: الیکٹرک کاروں کے چارجنگ اسٹیشن، آغاز اسی سال شروع کر دیا جائے گا
تاریخ :   04-11-2017

موٹر گاڑیاں تیار کرنے والی صنعت کی طرف سے مشترکہ طور پر کئی یورپی ممالک کی شاہراہوں پر الیکٹرک کاروں کو ری چارج کرنے کے لیے چارجنگ اسٹیشنوں کے ایک یورپی نیٹ ورک کی تعمیر پر ابتدائی کام اسی سال شروع کر دیا جائے گا۔

جنوبی جرمنی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) کے دو بڑے شہروں میونخ اور اشٹٹ گارٹ سے جمعہ تین نومبر کو مو‌صولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق کئی مختلف یورپی ملکوں میں موٹر گاڑیاں تیار کرنے والے صنعتی اداروں نے مشترکہ طور پر یہ منصوبہ بنایا ہے کہ وہ اس براعظم میں الیکٹرک کاروں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایک ایسا نیٹ ورک تیار کریں گے، جو بجلی سے چلنے والی کاروں کو ری چارج کرنے کے لیے چارجنگ اسٹیشنوں پر مشتمل ہو گا۔

ماہرین کے مطابق یورپی شاہراہوں پر ’ای۔کاروں‘ کے لیے چارجنگ اسٹیشن بھی اتنے ہی ضروری ہیں، جتنے پٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں اور ٹرکوں کے لیے مختلف شہروں اور ہائی ویز پر جگہ جگہ بنائے گئے پٹرول پمپ۔

مجموعی طور پر یورپی آٹوموبائل انڈسٹری نے مختلف ممالک میں موٹر ویز پر ایسے 400 تیز رفتار چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں سے 20 اولین چارجنگ اسٹیشنوں کی تعمیر کا ابتدائی کام اسی سال شروع کر دیا جائے گا۔

یہ بات کار ساز اداروں بی ایم ڈبلیو، مرسیڈیز گاڑیاں بنانے والے کمپنی ڈائملر، فورڈ، جرمنی سے تعلق رکھنے والے سب سے بڑے یورپی کار ساز ادارے فوکس ویگن اور فوکس ویگن کے ذیلی اداروں آؤڈی اور پورشے کی طرف سے تین نومبر کو ایک مشترکہ بیان میں بتائی گئی۔اس بارے میں تفصیلات جرمن شہروں اشٹٹ گارٹ اور میونخ سے اس لیے آئیں کہ مرسیڈیز گاڑیاں بنانے والے کمپنی ڈائلمر کا ہیڈکوارٹر اشٹٹ گارٹ میں اور بی ایم ڈبلیو کے صدر دفاتر میونخ میں ہیں۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سال جن بیس چارجنگ اسٹیشنوں کی تعمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا، وہ جرمنی، ناروے اور آسٹریا کی مختلف ہائی ویز اور اہم موٹر وے کراسنگز پر بنائے جائیں گے۔

اس کے بعد اگلے سال ایسے مزید 80 چارجنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے، جن کے بعد یہ تعداد 100 ہو جائے گی۔

اسی طرح سن 2020ء تک ایسے الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنوں کی مجموعی تعداد بڑھا کر 400 کر دی جائے گی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ تمام الیکٹرک اسٹیشن ایک ایسی کمپنی تیار کرے گی، جو خاص اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی ہے۔

اس کمپنی کا نام ’ایئونیٹی‘ (Ionity) ہے، جس کا صدر دفتر بھی میونخ ہی میں ہے۔ یہ کمپنی چاروں بڑے کار ساز اداروں بی ایم ڈبلیو، ڈائملر، فورڈ اور فوکس ویگن نے مل کر بنائی ہے، جس میں ان کا فی کس حصہ پچیس فیصد ہے۔

یہ نہیں بتایا گیا کہ اس منصوبے پر کل کتنی لاگت آئے گی لیکن یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ کوشش یہ ہو گی کہ ایسے تمام الیکٹرک کار چارجنگ اسٹیشن ایک دوسرے سے اوسطاﹰ 120  کلومیٹر کے فاصلے پر قائم کیے جائیں۔ ان میں سے ہر اسٹیشن پر ایسے بہت سے چارجنگ پول ہوں گے، جن پر لگے پلگوں سے، مثال کے طور پر کسی عام موبائل فون کی طرح، الیکٹرک کاروں کو ری چارج کیا جا سکے

گا۔

Print Friendly, PDF & Email
کاتالونیا کے لیڈر کارلیس پوج ڈیمونٹ اور ان کے چار ساتھیوں کے یورپی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے
ایران پاکستان گیس پائپ لائن پراجیکٹ ایک بار پھر پاکستان میں زیرِ بحث ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »