محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG     پاکستان ,کو زاہدان کے دہشتگردانہ حملے کا جواب دینا ہوگا، ایران     No IMG    

یورپی ملکوں میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی گئی ہیں
تاریخ :   28-10-2018

سپین ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) اور کئی دیگر یورپی ملکوں میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی گئی ہیں۔ یوں موسم سرما کے معیاری وقت کا آغاز ہو گیا ہے۔ تاہم یورپی یونین تبدیلی وقت کا یہ نظام ختم کرتے ہوئے ہم آہنگی پیدا کرنا چاہتی ہے۔

وسطی یورپ کے متعدد ممالک میں گھڑیوں کو آگے پیچھے کرنے کے نظام پر تحفظات بھی پائے جاتے ہیں۔ تاہم اب مارچ 2019ء کے بعد سے معیاری وقت میں تبدیلی کا یہ سلسلہ بند کر دیا جائے گا۔

اس سال فروری میں یورپی پارلیمان نے یورپی کمیشن سے کہا تھا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ اس نظام پر عمل درآمد جاری رکھنے کے فوائد کیا ہیں اور اس میں ممکنہ تبدیلی کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔

اس کے بعد یورپی سطح پر مکمل کیے گئے ایک آن لائن جائزے میں 4.6 ملین یورپی شہریوں نے حصہ لیا۔ ان میں سے تقریباً 84 فیصد سے زائد نے کہا کہ گرمیوں اور سردیوں میں یورپ کے مختلف معیاری اوقات کا نظام ختم کر دینا چاہیے۔ اس سروے میں حصہ لینے والے جرمن شہریوں کی تعداد تین ملین کے قریب تھی۔
یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ینکر چاہتے ہیں کہ اگلے برس ہونے والے یورپی یونین کے انتخابات تک اس بارے میں مزید تفصیلات اکٹھی کی جائیں، ’’شہری جو چاہتے ہیں، ہم بھی وہی کریں گے۔‘‘

اس تجویز کے مطابق یورپی یونین کے رکن تمام ممالک کے پاس اپریل 2019ء تک کا وقت ہے، یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ وہ موسم سرما یا گرما میں سے کون سے معیاری وقت کا اپنے لیے مستقل انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔ معیاری وقت میں تبدیلی کے نظام کا مقصد گرمیوں میں توانائی کے ذرائع کو بہتر طور پر استعمال کرنا اور سورج کی روشنی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے۔

موجودہ ’ٹائم سسٹم‘ کے مطابق مغربی یورپ میں ہر سال معیاری وقت دو بار تبدیل ہوتا ہے۔ ایک بار مارچ کے اواخر میں جب موسم گرما کا معیاری وقت شروع ہوتا ہے اور تمام گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی جاتی ہیں اور دوسری بار اکتوبر کے اواخر میں جب موسم سرما کے معیاری وقت کا آغاز ہوتا ہے۔
یورپی یونین میں آج کل تین ’ٹائم زون‘ ہیں۔ جرمنی اور مزید سولہ یورپی ممالک کا وقت یکساں ہے۔ بلغاریہ، ایسٹونیا، فن لینڈ، یونان اور قبرص سمیت آٹھ ممالک مغربی یورپ سے ایک گھنٹہ آگے ہیں جبکہ آئرلینڈ، پرتگال اور برطانیہ ایک گھنٹہ پیچھے ہیں۔

تاہم اب کئی ممالک چاہتے ہیں کہ موسم سرما میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے نہ کی جائیں۔ سال بھر موسم گرما کے معیاری وقت کی حمایت کرنے والے ممالک میں بَینے لُکس ریاستیں (بیلجیم، ہالینڈ اور لکسمبرگ)، آسٹریا اور جرمنی شامل ہیں جبکہ سلوواکیہ موسم سرما کا وقت اور پرتگال وقت کی تبدیلی کے موجودہ نظام پر عمل پیرا رہنا چاہتا ہے۔

اگر یہ تمام ممالک اپنی مرضی کے مطابق تبدیلی وقت کے نظام پر عمل کرتے رہے، تو یورپی کمیشن کا یورپی سطح پر معیاری وقت میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا اور اگلے سال سے مختلف ممالک کی گھڑیوں میں وقت بھی مختلف ہی ہو گا۔

Print Friendly, PDF & Email
سوئٹزرلینڈ کی طرف سے ایسا اعلان سامنے آ گیا ہے کہ سن کر سعودی حکمران خوش ہو جائیں گے
سپین علیحدگی پسند رہنما پوج ڈیمونٹ کی نئی جماعت
Translate News »