دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

یورپی سرحدوں پر نگرانی سخت ہونے اور غیرقانونی طور پر یورپی یونین میں داخلے میں مشکلات کی وجہ سے الجزائر کو پریشانی کا سامنا
تاریخ :   27-04-2018

الجزائر ی(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) ورپی سرحدوں پر نگرانی سخت ہونے اور غیرقانونی طور پر یورپی یونین میں داخلے میں مشکلات کی وجہ سے الجزائر کو پریشانی کا سامنا ہے۔ یورپ پہنچنے کے خواہش مند ہزاروں غیرقانونی تارکین وطن الجزائر کا رخ کر رہے ہیں
الجزائر کو خدشات ہیں کہ بحیرہء روم میں لیبیا سے اٹلی کے درمیانی راستے پر سخت جانچ پڑتال اور نگرانی کی وجہ سے زیریں صحارا افریقہ کے خطے سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن الجزائرکا رخ کر سکتے ہیں۔ الجزائر کے وزیرداخلہ نے جمعرات کے روز کہا کہ یورپ کی سخت سرحدی پالیسی کی وجہ سے الجزائر کو تارکین وطن کے بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
2016ء میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پانے والی ڈیل کی وجہ سے بحیرہء ایجیئن کے راستے یونان پہنچنا مشکل بنا دیا گیا تھا، جب کہ بلقان خطے نے بھی غیرقانونی تارکین وطن کے لیے اپنی اپنی قومی سرحدیں بند کر رکھی ہیں۔ یورپ اور انقرہ کے درمیان ڈیل سے قبل اس راستے سے ایک ملین سے زائد افراد یورپی یونین پہنچے تھے۔

اس کے بعد تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد نے شمالی افریقہ خصوصاﹰ لیبیا سے اٹلی کا رخ کرنا شروع کر دیا تھا۔ تاہم اٹلی اور لیبیا کے درمیان بھی اب اس معاملے پر قریبی تعاون اور کوسٹ گارڈز کی امداد اور تربیت کے تناظر میں بحیرہ روم کے اس وسطی علاقے کا راستہ بھی مہاجرین کے لیے نہایت مشکل بن چکا ہے۔ اسی طرح یورپی یونین نے تیونس کے ساتھ بھی اس معاملے پر اپنے تعاون میں اضافہ کیا ہے۔
الجزائر کے وزیرداخلہ، حسن کاچمی کے مطابق، ’’ہمارے ہاں اب ہزاروں تارکین وطن موجود ہیں اور ہمیں خدشات ہیں کہ یورپ کی جانب سے دروازے بند کر دیے جانے کے بعد مزید لاکھوں افراد الجزائر کا رخ کریں گے۔‘‘ انہوں کا مزید کہنا تھا، ’’مسئلے کا حل یہ نہیں کہ آپ اپنے اپنے ملک کے دروازے بند کر لیں اور کسی دوسری جگہ پر لوگوں کو مرنے دیں۔

الجزائر کو اپنے ہاں مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید تشویش ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مالی اور نائجر کے ساتھ ملنے والی قریب ڈھائی ہزار کلومیٹر کی سرحد پر مہاجرین کے سیلاب کو روکنے کے لیے الجزائر بیس ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
میرا ضمیر نہیں مانتا کہ گھر بیٹھ جاؤں اور شکست تسلیم کرلوں،بے بسی مجھے نہیں آپ کومنظور ہوسکتی ہے,سابق وزیراعظم نواز شریف
سپین گینگ ریپ کے ملزموں کو بری کیے جانے بعد مظاہروں کا سلسلہ جاری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »