چودھری پرویزالٰہی سے فردوس عاشق اعوان کی ملاقات     No IMG     یوکرین کے مزاحیہ اداکار ملک کے صدر منتخب     No IMG     وزیروں کو نکالنے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کی نااہلی نہیں چھپے گی, بلاول بھٹو زرداری     No IMG     ایران کے صدر حسن روحانی نے تہران میں سعد آباد محل میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا باقاعدہ اور سرکاری طور پر استقبال     No IMG     بھارت اور چین کے مابین پیر کے روز بیجنگ میں باہمی فیصلہ کن مذاکرات کا آغاز     No IMG     بھارتی وزیر اعظم,ہمارا پائلٹ واپس نہ کیا جاتا تو اگلی رات خون خرابے کی ہوتی     No IMG     ملکی سیاسی پارٹیاں ووٹ تو غریبوں ،محنت کشوں کے نام پر لیتی ہیں مگر تحفظ جاگیرداروں اور مافیاز کو دیتی ہیں ,جواد احمد     No IMG     افغان سپریم کورٹ نے صدر کے انتخاب تک صدر اشرف غنی کی مدت صدارت میں توسیع کردی     No IMG     آزاد کشمیر میں منڈا بانڈی کے مقام پر ایک جیپ کھائی میں گرنے سے 5 افراد ہلاک     No IMG     مصرمیں صدرکےاختیارات میں اضافے کےلیے ہونےوالے تین روزہ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنےکا سلسلہ جاری ہے     No IMG     لاہور میں 3 منزلہ خستہ حال گھر زمین بوس ہونے کے نتیجے میں خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان ایران کے پہلے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے     No IMG     سری لنکا میں کل ہونے والے آٹھ بم دھماکوں کے نتیجے میں 300 افراد ہلاک اور 500 زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG    

ہاتھ پھیلا کر ہماری قومی غیرت ختم کی گئی وزیر اعظم عمران خان
تاریخ :   07-12-2018

اسلام آباد ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی کیلئے بھی کرائے کے فوجی کا کام نہیں کرے گا بلکہ وہی کرے گا جو اس کے مفاد میں ہوگا۔ پاکستان میں دہشتگردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہے، نہیں چاہتے کہ امریکہ جلد بازی میں افغانستان سے نکل جائے ۔

افغانستان میں قیام امن پاکستان کے مفاد میں ہے اور پاکستان مذاکراتی عمل کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ سپر پاور کے ساتھ کون بہتر تعلقات نہیں رکھنا چاہتا لیکن پاکستان امریکہ کے ساتھ ویسے ہی تعلقات چاہتا ہے جیسے دو طرفہ تعلقات چین کے ساتھ ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم واشنگٹن کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں لیکن ہم امریکہ کی جنگ نہیں لڑیں گے۔ میری ٹرمپ کے ساتھ ٹوئٹر پر کوئی جنگ نہیں ہوئی بلکہ میں نے ریکارڈ کی درستی کی ۔ یہ اس وجہ سے ہوا کیونکہ ہمیں افغانستان میں امریکہ کی ناکام پالیسیوں کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ٹرمپ کی جانب سے سابق حکمرانوں پر نہیں بلکہ پاکستان پر تنقید کی گئی تھی اور الزام لگایا گیا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ہیں، لیکن پاکستان میں دہشتگردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب میں حکومت میں آیا تو سکیورٹی فورسز کی جانب سے مجھے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس بریفنگ میں مجھے بتایا گیا کہ پاکستان نے بار بار امریکیوں سے پوچھا کہ اگر ہمارے ملک میں دہشتگردوں کی کوئی پناہ گاہ ہے تو ہمیں اس بارے میں آگاہ کیا جائے ہم انہیں ختم کردیں گے۔ پاک افغان بارڈر پر نگرانی کا سخت نظام موجود ہے اوردہشتگردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ لیکن پاکستان میں 27 لاکھ افغان مہاجرین کیمپوں میں رہ رہے ہیں جبکہ طالبان کی تعداد دو سے تین ہزار ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ وہ پاکستان آکر ان افغان بستیوں میں پناہ لے لیتے ہوں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے لکھے گئے خط کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے اور ہم اس کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ ہم امن مذاکرات کیلئے اپنی پوری کوشش کریں گے لیکن طالبان پر دباﺅ ڈالنا مشکل ہوگا کیونکہ افغانستان کا 40 فیصد سے زائد حصہ افغان حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے۔
امریکہ کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ پاکستان طالبان کی لیڈر شپ کو ٹھکانہ فراہم کرتا ہے۔ اس بارے میں پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ انہیں کبھی ان الزامات کی سمجھ نہیں آئی۔ پاکستان کا نائن الیون سے کوئی لینا دینا نہیں ، القاعدہ افغانستان میں تھی، کوئی پاکستانی اس میں ملوث نہیں تھا لیکن پھر بھی پاکستان کو کہا گیا کہ امریکہ کی جنگ میں حصہ لے۔ مجھ سمیت پاکستان میں بہت سے لوگوں نے اس کی مخالفت کی کیونکہ 1989 میں جب افغان جہاد ختم ہوا تو امریکہ تو یہاں سے چلا گیا لیکن عسکریت پسند پاکستان کو مل گئے۔ اگر ہم نائن الیون کے بعدغیر جانبدار رہتے تو میرا خیال ہے کہ ہم تباہی سے دوچار نہ ہوتے۔ امریکی جنگ کی فرنٹ لائن بننے کے باعث ہماری قوم جہنم سے گزری۔ ہمارے 80 ہزار لوگ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مارے گئے، جبکہ ہمیں 150 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب پاکستان وہ کرے گا جو اس کے مفاد میں ہوگا۔
عمران خان نے کہا کہ جب وہ یہ کہتے تھے کہ افغانستان کے مسئلے کو فوجی حل نہیں ہے تو انہیں طالبان خان کہا گیا لیکن اب انہیں خوشی ہے کہ ہر کسی کو یہ بات سمجھ میں آنے لگ گئی ہے۔ بطور پاکستانی ہم نہیں چاہتے کہ امریکہ افغانستان سے جلد بازی میں نکلے جس طرح انہوں نے 1989 میں کیا تھا۔اس بار امریکہ نکلے تو اس سے پہلے معاملات کو درست کرے کیونکہ 1989 میں امریکہ کے جلدی چلے جانے کے باعث طالبان کو طاقت ملی۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان امریکہ کیلئے کرائے کے اس فوجی کا کام کرے جسے دوسرے کی جنگ لڑنے کیلئے پیسے دیے جاتے ہیں، ہم پاکستان کو دوبارہ اس صورتحال میں کبھی نہیں لے کر جائیں گے۔ ہم اپنی عزت کو داﺅ پر لگا کر تعلقات نہیں بنائیں گے بلکہ امریکہ کے ساتھ باقاعدہ تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات چاہتے ہیں جیسے ہمارے چین کے ساتھ ہیں۔ چین کے ساتھ ہمارے تجارتی تعلقات بھی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سپر پاور کے ساتھ کون بہتر تعلقات نہیں رکھنا چاہے گا۔ ہم نے چین سے تعلقات کے باعث امریکہ سے قطع تعلق نہیں کیا بلکہ امریکہ نے ہمیں دور دھکیل دیا۔ اگر آپ امریکہ کی پالیسی سے متفق نہیں ہیں تو اس کایہ مطلب نہیں کہ آپ امریکہ کے مخالف ہیں، یہ بہت ہی سامراجی سوچ ہے کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے مخالف ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
ڈڈیال, میں آل جموں ومسلم کانفرنس کا جلاس زیر صدارت چوہدری عبدالمالک
ناقص بیٹنگ آخری اور فیصلہ کن ٹیسٹ میں شکست کا سبب بنی، کپتان سرفراز
Translate News »