چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

گزشتہ چار برسوں کے دوران جرمن اسلحے کی فروخت میں خاصا اضافہ دیکھا گیا
تاریخ :   24-01-2018

جرمنی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) گزشتہ چار برسوں کے دوران جرمن اسلحے کی فروخت میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ اسلحہ بعض یورپی ملکوں کے علاوہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے غیر رکن ممالک کو بھی بیچا گیا۔
سن 2014 سے لے کر سن 2017 کے دوران جرمنی میں تیار کردہ اسلحے کی فروخت کی مالیت 25 بلین یورو یا 30 بلین ڈالر سے زائد رہی ہے۔ سن 2009 سے سن 2013 کے عرصے کے چار برسوں کے مقابلے میں اگلے چار سالوں کے دوران جرمن اسلحے کی مانگ میں اکیس فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق مغربی دفاعی اتحاد کے غیر رکن ملکوں میں جرمن ہتھیاروں کی فروخت غیر معمولی رہی اور یہ اضافہ 47 فیصد تک رہا۔ ان ہتھیاروں کی فروخت سے جرمن خزانے میں ساڑھے چودہ ارب یورو داخل ہوئے۔ سابقہ چار برسوں کے دوران جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپوزیشن جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت قائم کیے رکھی۔

گزشتہ عرصے میں ہتھیاروں کی فروخت کی پالیسی کو موجودہ وزیر خارجہ زیگمار گابریل کے ساتھ وابستہ کیا جاتا ہے۔ وہ مخلوط حکومت میں پہلے اقتصادیات کے وزیر تھے اور بعد میں انہوں نے فرانک والٹر اشٹائن مائر کے صدر بننے کے بعد وزارت خارجہ کے نگران وزیر کا قلمدان سنبھالا۔
جرمنی نے سن 2015 سے سن 2013 کے تین سالہ عرصے میں اوسطًا ہر سال 6.3 ارب ڈالر کے ہتھیار اور دفاعی نوعیت کا سامان فروخت کیا۔ یہ امر اہم ہے کہ حکومت سازی کے جاری مذاکرات کے ابتدائی ادوار میں جرمن اسلحے کی فروخت بھی ایک اہم معاملہ خیال کیا گیا ہے۔

اپوزیشن سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی یمن جنگ میں ملوث ممالک کو جرمن ہتھیاروں کی فروخت پر تحفظات رکھتی تھی۔ اسی باعث جرمن حکومت نے فوری طور پر ایسے ملکوں کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی ہے، جو یمن کی جنگ میں شریک ہیں۔ برلن حکومت کے اس فیصلے کو خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی قرار دیا گیا ہے۔
جرمن ہتھیاروں کو مختلف ملکوں کے لیے ہوائی جہاز پر لادنے کا عمل

جرمنی کی فیڈرل سکیورٹی کونسل نے یمنی جنگ میں شریک ممالک کو اسلحے کی فروخت کی مزید اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جرمن ہتھیاروں کے اہم خریداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک عسکری اتحاد قائم ہے اور اُس میں دوسرے ملکوں کے ساتھ متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
لیبیا کے شہر بن غازی میں دو کار بم دھماکے، کم از کم تیس افراد ہلاک
سلامتی کونسل کی ایک ٹیم مختلف پابندیوں پر عمل کرنے کی نگرانی کا جائزہ لینے پاکستان پہنچ گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »