دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

گزشتہ چار برسوں کے دوران جرمن اسلحے کی فروخت میں خاصا اضافہ دیکھا گیا
تاریخ :   24-01-2018

جرمنی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) گزشتہ چار برسوں کے دوران جرمن اسلحے کی فروخت میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ اسلحہ بعض یورپی ملکوں کے علاوہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے غیر رکن ممالک کو بھی بیچا گیا۔
سن 2014 سے لے کر سن 2017 کے دوران جرمنی میں تیار کردہ اسلحے کی فروخت کی مالیت 25 بلین یورو یا 30 بلین ڈالر سے زائد رہی ہے۔ سن 2009 سے سن 2013 کے عرصے کے چار برسوں کے مقابلے میں اگلے چار سالوں کے دوران جرمن اسلحے کی مانگ میں اکیس فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق مغربی دفاعی اتحاد کے غیر رکن ملکوں میں جرمن ہتھیاروں کی فروخت غیر معمولی رہی اور یہ اضافہ 47 فیصد تک رہا۔ ان ہتھیاروں کی فروخت سے جرمن خزانے میں ساڑھے چودہ ارب یورو داخل ہوئے۔ سابقہ چار برسوں کے دوران جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپوزیشن جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت قائم کیے رکھی۔

گزشتہ عرصے میں ہتھیاروں کی فروخت کی پالیسی کو موجودہ وزیر خارجہ زیگمار گابریل کے ساتھ وابستہ کیا جاتا ہے۔ وہ مخلوط حکومت میں پہلے اقتصادیات کے وزیر تھے اور بعد میں انہوں نے فرانک والٹر اشٹائن مائر کے صدر بننے کے بعد وزارت خارجہ کے نگران وزیر کا قلمدان سنبھالا۔
جرمنی نے سن 2015 سے سن 2013 کے تین سالہ عرصے میں اوسطًا ہر سال 6.3 ارب ڈالر کے ہتھیار اور دفاعی نوعیت کا سامان فروخت کیا۔ یہ امر اہم ہے کہ حکومت سازی کے جاری مذاکرات کے ابتدائی ادوار میں جرمن اسلحے کی فروخت بھی ایک اہم معاملہ خیال کیا گیا ہے۔

اپوزیشن سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی یمن جنگ میں ملوث ممالک کو جرمن ہتھیاروں کی فروخت پر تحفظات رکھتی تھی۔ اسی باعث جرمن حکومت نے فوری طور پر ایسے ملکوں کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی ہے، جو یمن کی جنگ میں شریک ہیں۔ برلن حکومت کے اس فیصلے کو خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی قرار دیا گیا ہے۔
جرمن ہتھیاروں کو مختلف ملکوں کے لیے ہوائی جہاز پر لادنے کا عمل

جرمنی کی فیڈرل سکیورٹی کونسل نے یمنی جنگ میں شریک ممالک کو اسلحے کی فروخت کی مزید اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جرمن ہتھیاروں کے اہم خریداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک عسکری اتحاد قائم ہے اور اُس میں دوسرے ملکوں کے ساتھ متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
لیبیا کے شہر بن غازی میں دو کار بم دھماکے، کم از کم تیس افراد ہلاک
سلامتی کونسل کی ایک ٹیم مختلف پابندیوں پر عمل کرنے کی نگرانی کا جائزہ لینے پاکستان پہنچ گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »