چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

کشمیر پر بات چيت کی پیش کش فریب ہے
تاریخ :   25-10-2017

بھارتی(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) حکومت نے پیر کی شام اچانک اعلان کیا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے سبھی ’اسٹیک ہولڈرز‘ یعنی تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ کشمیر کے حوالے سے نریندر مودی کی حکومت کا موقف اب تک بہت سخت رہا ہے۔

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے لیے ملک کے خفیہ ادارے انٹلیجنس بیورو ( آئی بی) کے سابق سربراہ دنیشور پرساد کو حکومت کی طرف سے ثالث مقرر کیا گيا ہے جو کشمیر میں کسی سے بھی بات کرنے کے مجاز ہیں۔

 مرکزی حکومت اسے سیاسی مسئلہ تسلیم کرنے کے بجائے صرف امن و قانون کا مسئلہ بتاتی رہی ہے اور گزشتہ تین برس سے اس  کی پالیسی یہ تھی کہ کشمیر کے علیحدگی پسندوں سے بات چيت نہیں ہوسکتی۔ اس نے ریاست میں مخالف آوازوں کو کچلنے کے لیے خفیہ ایجنسیوں اور فوج کو سختی برتنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ اس کا خيال تھا کہ علیحدگی پسندوں سے سختی سے نمٹنے اور پاکستان کی مداخلت پر قابو پا لینے سے مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔ یہ پالیسی اب بھی جاری ہے لیکن حقیقتاﹰ یہ ناکام ثابت ہوئی ہے اور حالات اب پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔ حکومت بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ کشمیر میں اتنی بے چینی شاید اس سے پہلے کبھی بھی نہیں تھی جتنی اس وقت پائی جاتی ہے۔

کشمیر کی ہندو نواز سیاسی جماعتوں نے مذاکرات کی پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے۔ ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’کشمیری عوام جن حالات سے گزر رہے ہیں، ایسے میں بات چیت کا آغاز بہت ضروری ہے۔ مذاکرات سے ہی لوگوں کی مشکلات دور ہوں گی۔‘‘

اپوزیشن نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے بھی حکومت کی بات چیت کی پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے تاہم انہوں نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں حکومت پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’کشمیر کے مسئلے کو ایک سیاسی مسئلہ تسلیم کر لینا ان سبھی کی شکست فاش ہے، جو صرف طاقت کے استعمال کو اس مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔‘‘ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں اور کشمیر پر بات چیت میں پاکستان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

کشمیر کی ہندو نواز سیاسی جماعتوں نے مذاکرات کی اس پیش کش کو خوش آئند بتایا ہے تاہم علیحدگی پسندوں کی جانب سے اس پر جو سرد مہری اختیار کی گئی ہے، اس سے لگتا ہے کہ وہ اس پیش کش کو مسترد کر چکے ہیں۔ ڈی ڈبلیو نے کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں سے بات چیت کی کوشش کی تاہم کسی نے بھی فون کال کا جواب نہیں دیا۔ وادی کشمیر کے دانشوروں، انسانی انسانی کے کارکنوں اور دیگر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اعلانات پہلے بھی کئی بار ہوتے رہے ہیں لیکن ان کے نتائج بہت مایوس کن رہے ہیں۔

کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ سیاست سے وابستہ ایک پروفیسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ’’تاریخی طور پر تو یہ ثابت ہے کہ یہ حکومت کی طرف سے بسوقت گزارنے کی ایک کوشش ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی اثر پڑتا ہے کیونکہ اس طرح کے اعلانات بہت بار پہلے بھی ہو چکے ہیں لیکن حقیقت میں ہوتا کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں حکومت نے بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کو ان سے کچھ ہاتھ  لگا ہو کہ اس وقت بات چیت کرنے سے کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے، ’’شاید اسی لیے اس کا اعلان کیا گيا ہے۔‘‘

دارالحکومت دہلی میں بھی سیاسی اور سماجی حلقوں نے مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ آخر حکومت گزشتہ تین برسوں سے کیا کر رہی تھی؟ کشمیر مسئلے کے حل کے لیے کانگریس کی حکومت نے پہلے جو تین ثالث مقرر کیے تھے ان میں سے ایک ایم ایم انصاری نے حکومت کے اس اعلان کو فریب کا نام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’’ایک پولیس افسر کی بطور ثالث تقرری اس بات کی غماز ہے کہ حکومت ’کشمیریوں کو گولی یا گالی سے نہیں بلکہ گلے لگانے سے بات بنے گی‘ کے نعرے پر یقین نہیں رکھتی۔ حکومت اس مسئلے کو اب بھی سکیورٹی اور انٹلیجنس کے نظریے سے ہی دیکھ رہی ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ دل کے مرض کے علاج کے لیے ہڈی والے ڈاکٹر کے پاس جایا جائے۔ یہ ایک فریب ہے، بلکل بے کار عمل ہے۔‘‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مستقل فوجی آپریشنوں،  مسلسل گرفتاریوں، سکیورٹی فورسز کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں اور علیحدگی پسندوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جیسے اقدامات سے خوف و ہراس کا ماحول ہے، جس کے سبب لوگوں میں سخت مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت کی اس پیش کش پر سرد مہری پائی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس وقت ہر عمر اور طبقے کے سینکڑوں کشمیری اس الزام میں جیلوں میں پڑے ہیں کہ انہوں نے بھارت مخالف مظاہروں میں حصہ لیا تھا جبکہ بیشتر علیحدگی پسند رہنما بھارتی ایجنسیوں کی حراست میں ہیں۔

 سید علی گیلانی جیسے رہنما کئی برسوں سے گھر میں نظر بند ہیں جبکہ میر واعظ عمر فاروق کو تاریخی جامع مسجد میں جمعے کے اجتماع سے خطاب کی اجازت تک نہیں ہے۔ مبصرین کے مطابق اس طرح کی سختیوں کے ماحول میں بات چیت کی پیش کش بے معنی ہے اور اس سے گراؤنڈ پر کوئی تبدیلی نہیں آنے والی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
امریکا سے کوئی معاشی امداد اور اسلحہ نہیں چاہیے ‘صرف اور صرف احترام چاہتے ہیں-خواجہ آصف
امریکی وزیر جارجہ ریکس ٹلرسن کا ’انتہائی بے رخی‘ سے استقبال کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »