سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجاپاکسے مستعفی ہوگئے     No IMG     سپریم کورٹ نے افضل کھوکھر اور سیف الملوک کھوکھر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا     No IMG     بھارتی ارب پتی مکیشن امبانی کی شادی پر خزانوں کے منہ کھُل گئے     No IMG     ایرانی وزیر خارجہ کی قطر کے وزير اعظم سے ملاقات     No IMG     وزیر اعظم کا دہشت گردوں کا آخری حد تک پیچھا کرنے کا عزم     No IMG     فرانسیسی پولیس کا معذور افراد پر بھی ظلم و ستم     No IMG     چین کینیڈین شہریوں کو رہا کرے، امریکی وزیر خارجہ     No IMG     بھارتی ریاست کرناٹک میں زہریلی خوراک کھانے سے تقریباً ایک درجن یاتریوں کی ہلاکت     No IMG     یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں، آسٹریلیا     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے کے پاس اب فقط چار آپشنز موجود ہیں۔     No IMG     سپریم کورٹ کا دہری شہریت والے ملازمین کے خلاف کارروائی کا حکم     No IMG     باردوی سرنگ کے دھماکے میں 6 سکیورٹی اہلکار ہلاک     No IMG     آئی ایم ایف سے پیکج صرف پاکستان کے مفاد کو مد نظر رکھ کر لیا جائے گا۔ وزیر خزانہ اسد عمر     No IMG     ہنگری میں غلام ایکٹ کے خلاف مظاہرے     No IMG     امریکی ایوان نمائندگان نے روہنگیا مسلمانوں پر بربریت کونسل کشی قرار دینے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور     No IMG    

چین میں متعدد پاکستانیوں کی بیگمات گرفتار
تاریخ :   14-11-2018

اسلام آباد ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) چین میں کاروبار کرنیوالے متعدد پاکستانیوں نے حکومت پاکستان سے درخواست کی ہے کہ چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں ’اصلاحی مراکز (ری ایجوکیشن سنٹرز) میں قید ان کی بیویوں کی رہائی کے لیے چینی حکومت سے سفارتی سطح پر رابطہ کیا

 

جائے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ اور بیجنگ میں پاکستانی سفیر کے نام اپنی درخواستوں میں ان پاکستانی شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کی چینی شہری بیویوں کو وجہ بتائے بغیر سنکیانگ کے مختلف علاقوں میں قائم ری ایجوکیشن سنٹرز میں رکھا گیا ہے۔

ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ یہ چینی مسلمان خواتین پچھلے دو برسوں کے دوران زبردستی ان مراکز میں بند ہیں اور ان کی سفری دستاویزات بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

درخواست میں درج ہے کہ دو سال قبل چائنیز حکومت نے بغیر کوئی وجہ بتائے ہماری قانونی بیویوں کو صرف اور صرف پاکستان آنے کے جرم میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا ہے اور ہمیں بھی اپنی ذاتی رہائش گاہوں سے بےدخل کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم بھی چین جانے سے قاصر ہیں اور تاحال نہ تو جرم بتایا جاتا ہے نہ ہی ان سے ملنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ہم سائلان کی جملہ مشکلات کے حل کے لیے چائنا حکومت سے بازپرس کی جائے اور ان بےگناہ خواتین کو قید و بند کی سختیوں سے رہائی دلوائی جائے۔
چین میں کتنے پاکستانیوں کی مسلمان بیویوں کو ان مراکز میں رکھا گیا ہے، ان کی درست تعداد تو معلوم نہیں تاہم ان میں سے متعدد افراد نے بی بی سی سے رابطہ کر کے ان حالات کے بارے میں بتایا ہے جن میں ان کی شریک حیات کو ان مراکز میں رکھا گیا ہے جنھیں چینی حکومت ‘سوچ کی تبدیلی کے مراکز قرار دیتی ہے۔

ان افراد کا کہنا ہے کہ ان خواتین میں سے بعض کو ان مراکز میں دو برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے جہاں انھیں مذہب سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ان خواتین کو اپنے شوہروں سے بعض اوقات ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور اسی بات چیت کے دوران ان کے شوہروں کے مطابق انھیں معلوم ہوا ہے کہ ان مراکز میں ان کی بیویوں کو ایسی تعلیم اور تربیت دی جا رہی ہے جس کا مقصد انھیں مذہب سے دور کرنا ہے۔

ایسے ہی ایک شوہر نے بی بی سی کو بتایاان خواتین کو اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے اور اسلام کے مطابق لباس پہننے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے برعکس انھیں رقص کی تربیت دی جاتی ہے، اسلام میں ممنوع اشیا کھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے ترانے سکھائے جا رہے ہیں۔

چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں حکام نے بڑے پیمانے پر مسلم اویغور افراد کے لاپتہ ہونے کی خبروں پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کے بعد ان افراد کیلئے بنائے جانے والے مراکز کو قانونی شکل دینے کا اعلان کیا ہے۔
چینی حکام کے مطابق یہ ہنر سکھانے کے مراکز یاووکیشنل ٹریننگ سینٹرز ہیں جہاںسوچ میں تبدیلی کے ذریعے شدت پسندی سے نمٹا جاتا ہے۔اس کے مطابق جو رویے جو حراست میں لیے جانے کی وجہ بن سکتے ہیں ان میں حلال چیزوں کے تصور کو توسیع دینا اور سرکاری ٹی وی دیکھنے، سرکاری ریڈیو سننے سے انکار اور بچوں کو سرکاری تعلیم دلوانے سے انکار شامل ہیں۔

چین کا کہنا ہے کہ ان حراستی مراکز میں چینی زبان کے علاوہ قانونی نکات کی تعلیم بھی دی جاتی ہے جبکہ وہاں رکھے جانے والے افراد کو ووکیشنل تربیت بھی ملتی ہے۔حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے ہمارے سیاستدان تو اپنے 4 صوبے نہیں سنبھال سکتے۔شاہد خان آفریدی
ساہیوال میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد گرفتار
Translate News »