وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے پاک برطانیہ اور پاکستان سکاٹ لینڈ بزنس کونسل کے وفد کی ملاقات     No IMG     حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا آئی ایم ایف نے بیل آوٹ پیکج کیلئے اپنی شرائط سخت کردیں     No IMG     آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آرمی سروس کور سینٹر نوشہرہ کا دورہ     No IMG     جاپانی وزیراعظم شینزو آبے آسٹریلیا پہنچ گئے     No IMG     کیلیفورنیا ,کی جنگلاتی آگ ، ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی     No IMG     برطانوی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اگلے ہفتے پیش ہو سکتی ہے     No IMG     ملائیشین ہائی کمشنر اکرام بن محمد ابراہیم کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات     No IMG     امریکی بلیک میلنگ کا مقصد حماس کی قیادت کو نشانہ بنانا ہے     No IMG     زمبابوے بس میں گیس سیلنڈر پھٹنے سے 42 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے     No IMG     زلفی بخاری کیس: ’دوستی پر معاملات نہیں چلیں گے‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار     No IMG     غزہ پرحملے, اسرائیل کو 40 گھنٹوں میں 33 ملین ڈالر کا نقصان     No IMG     تنخواہیں واپس لے لیں سپریم کورٹ کاحکم آتے ہی افسران سیدھے ہو گئے     No IMG     پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن باؤلرز کے نام     No IMG     چودھری پرویز الٰہی اپنے ہی جال میں پھنس گئے     No IMG     ق لیگ نے پاکستان تحریک انصاف کیخلاف بغاوت کردی     No IMG    

چينی پارليمان نے ملکی قوانين ميں ترميم کی منظوری ديتے ہوئے صدارتی مدت ختم کر دی شی جن پنگ کے ليے ميدان صاف
تاریخ :   11-03-2018

چين (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) پارليمان نے ملکی قوانين ميں ترميم کی منظوری ديتے ہوئے صدارتی مدت ختم کر دی ہے۔ اس پيش رفت کے نتيجے ميں شی جن پنگ تاحيات صدر بن سکتے ہيں۔
چين ميں نيشنل پيپلز کانگريس کے سالانہ پارليمانی اجلاس کے دوران اتوار گيارہ مارچ کو ارکان نے بھاری اکثريت کے ساتھ اس آئينی ترميم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت صدر کے عہدے پر فائز رہنے کی اب کوئی مدت مقرر نہيں۔ مجموعی طور پر 2,963 ارکان ميں سے 2,958 نے ترميم کی منظوری دی، دو نے اس کی مخالفت ميں ووٹ ڈالا جبکہ تين نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہيں کيا۔ اس پيشرفت کے نتيجے ميں موجودہ صدر شی جن پنگ ملکی تاريخ کے طاقتور ترين رہنما بن سکتے ہيں۔ ان کے غير معينہ مدت تک کے ليے منصب صدرات پر فائض رہنے ميں اب کوئی دستوری رکاوٹ نہيں۔

چونسٹھ سالہ شی جن پنگ کو سن 2012 ميں چين کی برسر اقتدار کميونسٹ پارٹی کے جنرل سيکرٹری کے طور پر اعلیٰ ترين عہدے پر مقرر کيا گيا تھا۔ اگرچہ اس عہدے کی کوئی حدد مقرر نہيں تاہم ان کے پچھلے دو پيش رو، دو دو مدتوں کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ چين ميں صدر کا عہدہ کافی حد تک علامتی حيثيت رکھتا ہے اور آئين کے مطابق شی جن پنگ کو سن 2023 ميں اس عہدے سے سبکدوش ہونا پڑتا۔

اتوار گيارہ مارچ کو ہونے والی پيش رفت کے نتيجے ميں اب صدارت کے عہدے پر فائز رہنے کی کوئی حد مقرر نہيں۔ يوں شی جن پنگ اس صدی کے وسط تک چين کو عالمی اقتصاديات ميں طاقت ور ترين ملک بنانے اور عالمی سطح کی فوج کھڑی کرنے کے اپنے ارادوں کو تکميل تک پہنچانے کی کوششيں بلا رکاوٹ جاری رکھ سکيں گے۔

چين ميں شی جن پنگ داخلی سطح پر بدعنوانی کے خلاف کريک ڈاؤن کے ليے عوام ميں پسند کيے جاتے ہيں۔ کرپشن کے انسداد کے ليے جاری کارروائيوں ميں اب تک ايک ملين سے زائد پارٹی ارکان کو سزائيں دی جا چکی ہيں۔ دريں اثناء انہوں نے اپنے سياسی حريفوں کو بھی ميدان سے باہر کر ديا ہے۔ شی جن پنگ نے سول سوسائٹی پر قدغنيں لگائيں، ان کے دور ميں وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو حراست ميں رکھے جانے کے عمل ميں تيزی اور انٹرنِٹ پر حکومتی کنٹرول يا گرفت ميں مضبوطی دیکھنے میں آئی۔

Print Friendly, PDF & Email
جرمنی،میں ایک اور مسجد کو آگ لگا دی گئی
چیف جسٹس ہر بات پر سوموٹو ایکشن لیتے ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں کرپشن پر کوئی نوٹس نہیں لے رہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »