پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

چينی پارليمان نے ملکی قوانين ميں ترميم کی منظوری ديتے ہوئے صدارتی مدت ختم کر دی شی جن پنگ کے ليے ميدان صاف
تاریخ :   11-03-2018

چين (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) پارليمان نے ملکی قوانين ميں ترميم کی منظوری ديتے ہوئے صدارتی مدت ختم کر دی ہے۔ اس پيش رفت کے نتيجے ميں شی جن پنگ تاحيات صدر بن سکتے ہيں۔
چين ميں نيشنل پيپلز کانگريس کے سالانہ پارليمانی اجلاس کے دوران اتوار گيارہ مارچ کو ارکان نے بھاری اکثريت کے ساتھ اس آئينی ترميم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت صدر کے عہدے پر فائز رہنے کی اب کوئی مدت مقرر نہيں۔ مجموعی طور پر 2,963 ارکان ميں سے 2,958 نے ترميم کی منظوری دی، دو نے اس کی مخالفت ميں ووٹ ڈالا جبکہ تين نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہيں کيا۔ اس پيشرفت کے نتيجے ميں موجودہ صدر شی جن پنگ ملکی تاريخ کے طاقتور ترين رہنما بن سکتے ہيں۔ ان کے غير معينہ مدت تک کے ليے منصب صدرات پر فائض رہنے ميں اب کوئی دستوری رکاوٹ نہيں۔

چونسٹھ سالہ شی جن پنگ کو سن 2012 ميں چين کی برسر اقتدار کميونسٹ پارٹی کے جنرل سيکرٹری کے طور پر اعلیٰ ترين عہدے پر مقرر کيا گيا تھا۔ اگرچہ اس عہدے کی کوئی حدد مقرر نہيں تاہم ان کے پچھلے دو پيش رو، دو دو مدتوں کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ چين ميں صدر کا عہدہ کافی حد تک علامتی حيثيت رکھتا ہے اور آئين کے مطابق شی جن پنگ کو سن 2023 ميں اس عہدے سے سبکدوش ہونا پڑتا۔

اتوار گيارہ مارچ کو ہونے والی پيش رفت کے نتيجے ميں اب صدارت کے عہدے پر فائز رہنے کی کوئی حد مقرر نہيں۔ يوں شی جن پنگ اس صدی کے وسط تک چين کو عالمی اقتصاديات ميں طاقت ور ترين ملک بنانے اور عالمی سطح کی فوج کھڑی کرنے کے اپنے ارادوں کو تکميل تک پہنچانے کی کوششيں بلا رکاوٹ جاری رکھ سکيں گے۔

چين ميں شی جن پنگ داخلی سطح پر بدعنوانی کے خلاف کريک ڈاؤن کے ليے عوام ميں پسند کيے جاتے ہيں۔ کرپشن کے انسداد کے ليے جاری کارروائيوں ميں اب تک ايک ملين سے زائد پارٹی ارکان کو سزائيں دی جا چکی ہيں۔ دريں اثناء انہوں نے اپنے سياسی حريفوں کو بھی ميدان سے باہر کر ديا ہے۔ شی جن پنگ نے سول سوسائٹی پر قدغنيں لگائيں، ان کے دور ميں وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو حراست ميں رکھے جانے کے عمل ميں تيزی اور انٹرنِٹ پر حکومتی کنٹرول يا گرفت ميں مضبوطی دیکھنے میں آئی۔

Print Friendly, PDF & Email
جرمنی،میں ایک اور مسجد کو آگ لگا دی گئی
چیف جسٹس ہر بات پر سوموٹو ایکشن لیتے ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں کرپشن پر کوئی نوٹس نہیں لے رہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »