پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے ہمارے سیاستدان تو اپنے 4 صوبے نہیں سنبھال سکتے۔شاہد خان آفریدی     No IMG     چین میں متعدد پاکستانیوں کی بیگمات گرفتار     No IMG     ساہیوال میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد گرفتار     No IMG     فیصل آباد میں وکلاء کا احتجاج     No IMG     اوورسیز پاکستانیوں کیلئے نیا پاکستان کالنگ ویب پورٹل کا افتتاح     No IMG     بلوچستان ریلوے کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں, وفاقی وزیر ریلوے     No IMG     اسمبلی کی تقریر کو عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا,سابق وزیر اعظم     No IMG     اسرائیلی فوج ’فوری طور پر حملے بند, کرے، ترکی     No IMG     یورپی فوج‘ تشکیل دی جائے ,چانسلر انگیلا میرکل     No IMG     ترکی میں مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک     No IMG     آرمی چیف کی زیر صدارت کمانڈرز کانفرنس     No IMG     ٹریفک کےمختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق     No IMG     اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی مندی کا رحجان     No IMG     ایف بی آرنے وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کیلئے قائم کردہ جے آئی ٹی کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا     No IMG     نیب ادارہ ختم کر دیا جا ئے ، اہم ترین اعلان     No IMG    

چانسلر میرکل کا ’پارٹی قیادت چھوڑ دینے کا فیصلہ
تاریخ :   29-10-2018

برلن( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اٹھارہ سال بعد اپنی قدامت سیاسی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کی قیادت چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بات وفاقی مخلوط وفاقی حکومت میں شامل اس بڑی پارٹی کے اندرونی حلقوں نے بتائی۔

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے پیر انتیس اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق کرسچین ڈیموکریٹک یونین کے اندرونی حلقوں نے بتایا کہ انگیلا میرکل نے اس طرف اشارہ اپنی جماعت کی مجلس صدارت کے ایک اجلاس میں کیا کہ وہ مستقبل میں ایک بار پھر پارٹی کی قیادت کے لیے امیدوار نہیں ہوں گی۔
نگیلا میرکل کے اس فیصلے کو جرمن صوبے ہَیسے میں گزشتہ ویک اینڈ پر ہونے والے صوبائی پارلیمانی انتخابات میں سی ڈی یو کو حاصل ہونے والے برے نتائج کا براہ راست نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ان صوبائی انتخابات میں میرکل کی پارٹی کو حاصل عوامی تائید میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 11 فیصد کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

اس بہت بڑے سیاسی دھچکے کے باوجود سی ڈی یو ہَیسے کے دارالحکومت ویزباڈن میں وجود میں آنے والی نئی پارلیمان میں بھی سب سے بڑی جماعت ہی ہو گی اور گزشتہ ریاستی حکومت کی طرح آئندہ بھی ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کی مدد سے ایک مخلوط حکومت بنا سکے گی۔ لیکن اس حکومت کو ویزباڈن کی پارلیمان میں صرف ایک ووٹ کی انتہائی معمولی سی اکثریت حاصل ہو گی۔

حکومتی اور پارٹی عہدوں کی ایک دوسرے سے علیحدگی

جرمنی میں عام طور پر وفاقی چانسلر ہی حکمران جماعت کا سربراہ بھی ہوتا ہے اور اسی لیے انگیلا میرکل جرمن سربراہ حکومت ہونے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے سی ڈی یو کی سربراہ بھی چلی آ رہی ہیں۔ اب لیکن کرسچین قدامت پسندوں کی اس جماعت میں یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ حکومتی قیادت اور پارٹی سربراہی کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے۔
میرکل ذاتی طور پر اس رائے کی کبھی بھی حامی نہیں رہیں۔ لیکن جرمنی کے متعدد ذرائع ابلاغ اور سی ڈی یو کے ایک سے زائد سینیئر رہنماؤں کے مطابق دسمبر میں اس پارٹی کا ایک ملک گیر کنوینشن منعقد ہو گا، جس میں اس موضوع پر بحث کی جائے گی کہ وفاقی چانسلر اور پارٹی کے مرکزی سربراہ کے عہدوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے۔

اگر عملی طور پر ایسا فیصلہ کر لیا گیا، تو اس کا مطلب یہ ہو گا اگلے عام انتخابات تک برلن میں موجودہ حکومت کی سربراہ تو میرکل ہی رہیں گی تاہم پارٹی کی مرکزی قیادت کسی دوسرے رہنما کو سونپ دی جائے گی۔

پہلی خاتون چانسلر

انگیلا میرکل جرمن چانسلر بننے والی پہلی خاتون سیاستدان ہیں۔ وہ اپنی ہی پارٹی کے ہیلموٹ کوہل کے بعد وفاقی جمہوریہ جرمنی کی سب سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہنے والی چانسلر بھی ہیں۔ وہ گزشتہ 18 برسوں سے کرسچین ڈیموکریٹک یونین کی سربراہ کے عہدے پر بھی فائز ہیں۔
کرسچین ڈیموکریٹک یونین کا اگلا ملک گیر پارٹی کنویشن دسمبر میں ہو گا، جس میں پہلے سے طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق پارٹی کی نئی مرکزی قیادت اور وفاقی سربراہ کا انتخاب کیا جائے گا۔ میرکل نے ملکی میڈیا کو ابھی تک خود یہ نہیں بتایا کہ وہ سی ڈی یو کی قیادت کے لیے دوبارہ امیدوار نہیں ہوں گی۔

پارٹی میں میرکل کے ممکنہ جانشین

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ دسمبر میں سی ڈی یو کی مرکزی قیادت میں سے جن ممکنہ سیاستدانوں میں سے کسی ایک کو انگیلا میرکل کی جگہ پر اس جماعت کا نیا سربراہ چنا جا سکتا ہے، ان میں پارٹی کی موجودہ خاتون سیکرٹری جنرل آنےگرَیٹ کرامپ کارَین باؤر، وفاقی وزیر صحت ژینس شپاہن اور اسی پارٹی کے ماضی میں وفاقی پارلیمانی حزب کے سربراہ رہنے والے فریڈرش مَیرس بھی شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
بھارت مرکزی بینک کے ساتھ اختلافات منظر عام پر، حکومت پریشان
باتیں تو سب بڑی بڑی کرتے ہیں بیرون ملک اثاثے، واپس کون لائے گا؟
Translate News »