پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

چانسلر میرکل کا ’پارٹی قیادت چھوڑ دینے کا فیصلہ
تاریخ :   29-10-2018

برلن( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اٹھارہ سال بعد اپنی قدامت سیاسی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کی قیادت چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بات وفاقی مخلوط وفاقی حکومت میں شامل اس بڑی پارٹی کے اندرونی حلقوں نے بتائی۔

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے پیر انتیس اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق کرسچین ڈیموکریٹک یونین کے اندرونی حلقوں نے بتایا کہ انگیلا میرکل نے اس طرف اشارہ اپنی جماعت کی مجلس صدارت کے ایک اجلاس میں کیا کہ وہ مستقبل میں ایک بار پھر پارٹی کی قیادت کے لیے امیدوار نہیں ہوں گی۔
نگیلا میرکل کے اس فیصلے کو جرمن صوبے ہَیسے میں گزشتہ ویک اینڈ پر ہونے والے صوبائی پارلیمانی انتخابات میں سی ڈی یو کو حاصل ہونے والے برے نتائج کا براہ راست نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ان صوبائی انتخابات میں میرکل کی پارٹی کو حاصل عوامی تائید میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 11 فیصد کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

اس بہت بڑے سیاسی دھچکے کے باوجود سی ڈی یو ہَیسے کے دارالحکومت ویزباڈن میں وجود میں آنے والی نئی پارلیمان میں بھی سب سے بڑی جماعت ہی ہو گی اور گزشتہ ریاستی حکومت کی طرح آئندہ بھی ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کی مدد سے ایک مخلوط حکومت بنا سکے گی۔ لیکن اس حکومت کو ویزباڈن کی پارلیمان میں صرف ایک ووٹ کی انتہائی معمولی سی اکثریت حاصل ہو گی۔

حکومتی اور پارٹی عہدوں کی ایک دوسرے سے علیحدگی

جرمنی میں عام طور پر وفاقی چانسلر ہی حکمران جماعت کا سربراہ بھی ہوتا ہے اور اسی لیے انگیلا میرکل جرمن سربراہ حکومت ہونے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے سی ڈی یو کی سربراہ بھی چلی آ رہی ہیں۔ اب لیکن کرسچین قدامت پسندوں کی اس جماعت میں یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ حکومتی قیادت اور پارٹی سربراہی کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے۔
میرکل ذاتی طور پر اس رائے کی کبھی بھی حامی نہیں رہیں۔ لیکن جرمنی کے متعدد ذرائع ابلاغ اور سی ڈی یو کے ایک سے زائد سینیئر رہنماؤں کے مطابق دسمبر میں اس پارٹی کا ایک ملک گیر کنوینشن منعقد ہو گا، جس میں اس موضوع پر بحث کی جائے گی کہ وفاقی چانسلر اور پارٹی کے مرکزی سربراہ کے عہدوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے۔

اگر عملی طور پر ایسا فیصلہ کر لیا گیا، تو اس کا مطلب یہ ہو گا اگلے عام انتخابات تک برلن میں موجودہ حکومت کی سربراہ تو میرکل ہی رہیں گی تاہم پارٹی کی مرکزی قیادت کسی دوسرے رہنما کو سونپ دی جائے گی۔

پہلی خاتون چانسلر

انگیلا میرکل جرمن چانسلر بننے والی پہلی خاتون سیاستدان ہیں۔ وہ اپنی ہی پارٹی کے ہیلموٹ کوہل کے بعد وفاقی جمہوریہ جرمنی کی سب سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہنے والی چانسلر بھی ہیں۔ وہ گزشتہ 18 برسوں سے کرسچین ڈیموکریٹک یونین کی سربراہ کے عہدے پر بھی فائز ہیں۔
کرسچین ڈیموکریٹک یونین کا اگلا ملک گیر پارٹی کنویشن دسمبر میں ہو گا، جس میں پہلے سے طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق پارٹی کی نئی مرکزی قیادت اور وفاقی سربراہ کا انتخاب کیا جائے گا۔ میرکل نے ملکی میڈیا کو ابھی تک خود یہ نہیں بتایا کہ وہ سی ڈی یو کی قیادت کے لیے دوبارہ امیدوار نہیں ہوں گی۔

پارٹی میں میرکل کے ممکنہ جانشین

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ دسمبر میں سی ڈی یو کی مرکزی قیادت میں سے جن ممکنہ سیاستدانوں میں سے کسی ایک کو انگیلا میرکل کی جگہ پر اس جماعت کا نیا سربراہ چنا جا سکتا ہے، ان میں پارٹی کی موجودہ خاتون سیکرٹری جنرل آنےگرَیٹ کرامپ کارَین باؤر، وفاقی وزیر صحت ژینس شپاہن اور اسی پارٹی کے ماضی میں وفاقی پارلیمانی حزب کے سربراہ رہنے والے فریڈرش مَیرس بھی شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
بھارت مرکزی بینک کے ساتھ اختلافات منظر عام پر، حکومت پریشان
باتیں تو سب بڑی بڑی کرتے ہیں بیرون ملک اثاثے، واپس کون لائے گا؟
Translate News »