وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار     No IMG     وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کو مزید وقت دینے سے انکار کر دیا ہ     No IMG     ای سی جی رپورٹ میں نواز شریف کے دل کا سائز بڑھا ہوا نظر آیا۔ طبی معائنے کے بعد اسپتال داخل کرنے کا فیصلہ     No IMG     انڈونیشیا میں ایک بار پھر 6.6 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا     No IMG     حب کے قریب بیلہ کراس پر مسافر کوچ اور ٹرک کے درمیان تصادم کے بعد آگ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی     No IMG     پنجاب اور سندھ کے متعدد شہروں میں دھند کا راج برقرار     No IMG     سانحہ ساہیوال کی فائل دبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ، حادثے کی جگہ کے تمام شواہد ضائع کر دیئے     No IMG     مسلم لیگ ق نے کا تحریک انصاف کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو تحفظات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ     No IMG     تحریک انصاف نے سابق صدرآصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر بغیر تحقیقات کے بیانات دینے پر وزرا اور پنجاب پولیس پر سخت اظہار برہمی     No IMG     وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جسٹس ثاقب نثارپرتنقید، موجود چیف جسٹس کی تعریف     No IMG     برطانیہ میں بھی برف باری سے شدید سردی     No IMG     برطانیہ کے سابق وزیراعظم کے جان میجر نے موجودہ وزیرِاعظم تھریسا مے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپ سے علیحدگی (بریگزٹ) پر ریڈ لائن سے پیچھے ہٹ جائیں     No IMG     میکسیکو میں پیٹرول کی پائپ لائن میں دھماکے اور آگ لگنے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی     No IMG     امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات     No IMG    

چانسلر میرکل کا ’پارٹی قیادت چھوڑ دینے کا فیصلہ
تاریخ :   29-10-2018

برلن( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اٹھارہ سال بعد اپنی قدامت سیاسی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کی قیادت چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بات وفاقی مخلوط وفاقی حکومت میں شامل اس بڑی پارٹی کے اندرونی حلقوں نے بتائی۔

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے پیر انتیس اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق کرسچین ڈیموکریٹک یونین کے اندرونی حلقوں نے بتایا کہ انگیلا میرکل نے اس طرف اشارہ اپنی جماعت کی مجلس صدارت کے ایک اجلاس میں کیا کہ وہ مستقبل میں ایک بار پھر پارٹی کی قیادت کے لیے امیدوار نہیں ہوں گی۔
نگیلا میرکل کے اس فیصلے کو جرمن صوبے ہَیسے میں گزشتہ ویک اینڈ پر ہونے والے صوبائی پارلیمانی انتخابات میں سی ڈی یو کو حاصل ہونے والے برے نتائج کا براہ راست نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ان صوبائی انتخابات میں میرکل کی پارٹی کو حاصل عوامی تائید میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 11 فیصد کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

اس بہت بڑے سیاسی دھچکے کے باوجود سی ڈی یو ہَیسے کے دارالحکومت ویزباڈن میں وجود میں آنے والی نئی پارلیمان میں بھی سب سے بڑی جماعت ہی ہو گی اور گزشتہ ریاستی حکومت کی طرح آئندہ بھی ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کی مدد سے ایک مخلوط حکومت بنا سکے گی۔ لیکن اس حکومت کو ویزباڈن کی پارلیمان میں صرف ایک ووٹ کی انتہائی معمولی سی اکثریت حاصل ہو گی۔

حکومتی اور پارٹی عہدوں کی ایک دوسرے سے علیحدگی

جرمنی میں عام طور پر وفاقی چانسلر ہی حکمران جماعت کا سربراہ بھی ہوتا ہے اور اسی لیے انگیلا میرکل جرمن سربراہ حکومت ہونے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے سی ڈی یو کی سربراہ بھی چلی آ رہی ہیں۔ اب لیکن کرسچین قدامت پسندوں کی اس جماعت میں یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ حکومتی قیادت اور پارٹی سربراہی کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے۔
میرکل ذاتی طور پر اس رائے کی کبھی بھی حامی نہیں رہیں۔ لیکن جرمنی کے متعدد ذرائع ابلاغ اور سی ڈی یو کے ایک سے زائد سینیئر رہنماؤں کے مطابق دسمبر میں اس پارٹی کا ایک ملک گیر کنوینشن منعقد ہو گا، جس میں اس موضوع پر بحث کی جائے گی کہ وفاقی چانسلر اور پارٹی کے مرکزی سربراہ کے عہدوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے۔

اگر عملی طور پر ایسا فیصلہ کر لیا گیا، تو اس کا مطلب یہ ہو گا اگلے عام انتخابات تک برلن میں موجودہ حکومت کی سربراہ تو میرکل ہی رہیں گی تاہم پارٹی کی مرکزی قیادت کسی دوسرے رہنما کو سونپ دی جائے گی۔

پہلی خاتون چانسلر

انگیلا میرکل جرمن چانسلر بننے والی پہلی خاتون سیاستدان ہیں۔ وہ اپنی ہی پارٹی کے ہیلموٹ کوہل کے بعد وفاقی جمہوریہ جرمنی کی سب سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہنے والی چانسلر بھی ہیں۔ وہ گزشتہ 18 برسوں سے کرسچین ڈیموکریٹک یونین کی سربراہ کے عہدے پر بھی فائز ہیں۔
کرسچین ڈیموکریٹک یونین کا اگلا ملک گیر پارٹی کنویشن دسمبر میں ہو گا، جس میں پہلے سے طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق پارٹی کی نئی مرکزی قیادت اور وفاقی سربراہ کا انتخاب کیا جائے گا۔ میرکل نے ملکی میڈیا کو ابھی تک خود یہ نہیں بتایا کہ وہ سی ڈی یو کی قیادت کے لیے دوبارہ امیدوار نہیں ہوں گی۔

پارٹی میں میرکل کے ممکنہ جانشین

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ دسمبر میں سی ڈی یو کی مرکزی قیادت میں سے جن ممکنہ سیاستدانوں میں سے کسی ایک کو انگیلا میرکل کی جگہ پر اس جماعت کا نیا سربراہ چنا جا سکتا ہے، ان میں پارٹی کی موجودہ خاتون سیکرٹری جنرل آنےگرَیٹ کرامپ کارَین باؤر، وفاقی وزیر صحت ژینس شپاہن اور اسی پارٹی کے ماضی میں وفاقی پارلیمانی حزب کے سربراہ رہنے والے فریڈرش مَیرس بھی شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
بھارت مرکزی بینک کے ساتھ اختلافات منظر عام پر، حکومت پریشان
باتیں تو سب بڑی بڑی کرتے ہیں بیرون ملک اثاثے، واپس کون لائے گا؟
Translate News »