محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG     پاکستان ,کو زاہدان کے دہشتگردانہ حملے کا جواب دینا ہوگا، ایران     No IMG    

پرویز مشرف کی سربراہی میں بننے والا سیاسی اتحاد ایک روزبعد ہی تنکا تنکا
تاریخ :   12-11-2017

لاہور(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) : سابق صدرمملکت پرویز مشرف کی سربراہی میں بننے والا سیاسی اتحاد ایک روز بعد ہی تنکا تنکا ہونا

شروع گیا،پاکستان عوامی تحریک اورسنی اتحاد کونسل نے بھی عوامی اتحاد کا حصہ بننے سے معذرت کر لی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق صدر مملکت پرویز مشرف نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے 23جماعتی اتحاد قائم کیاہے۔تاہم مشرف کے اتحاد میں شامل دو جماعتوں عوامی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین نے اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔ اسی طرح چیئرمین سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا  کا کہنا ہے کہ عوامی اتحاد میں ان کی جماعت کی شمولیت انتخابات کے لیے نہیں ہے۔انتخابی سیاست گرینڈ الائنس ’’نظام متحدہ متحدہ محاذ‘‘ کے پلیٹ فارم سے ہی کی جائے گی۔دوسری جانب اے پی ایم ایل کے سربراہ اور پاکستان عوامی اتحاد کے چیئرمین پرویز مشرف نے کہا کہ کراچی کی سیاست میں میرا نام خواہ مخواہ لایا جارہا ہے، پہلے بھی وضاحت کر چکا ہوں کہ میں اپنے آپ کوایک علاقائی یا لسانی جماعت تک محدود نہیں کرسکتا ۔ ایم کیو ایم سے کوئی ہمدردی نہیں،مہاجروں سے ہمدردی ہے مگراپنے آپ کو صرف مہاجر برادری کا لیڈر نہیں سمجھتا۔پی ایس پی نے قیادت کی پیش کش کی نہ ہی اس کی قیادت کروں گا،ہم نے 23جماعتی اتحاد قائم کیاہے، مزید لوگوں کو ساتھ ملاکر پورے ملک میں تیسری سیاسی قوت بنائی جاسکتی ہے۔ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کا اتحاد غیرفطری تھا مگر مہاجروں کے لئے اچھا تھا۔ایم کیو ایم اور پی ایس پی متحد ہو کر نئے نام کے ساتھ ہمارے اتحاد میں شامل ہوجائیں تو پیر پگاڑا اور دیگر سیاسی قوتوں کو ساتھ ملا کر پیپلز پارٹی کو مات دی جاسکتی ہے۔پنجاب میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے فارورڈ بلاکس کو ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔اپنے ایک ویڈیو پیغام میں پرویز مشرف نے کہا کہ کراچی اوی ایم کیو ایم کے حوالے سے خواہ مخواہ ان کا نام لیاجاتا ہے۔ایک کمیونٹی کی حد تک کسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا بلکہ میری سوچ قومی سطح کی ہے۔ایم کیو ایم کی سربراہی کرنا میرے لئے احمقانہ بات ہے اور میں یہ کبھی نہیں کرسکتا۔پی ایس پی نے مجھے سربراہی کے لئے کہا ہے اور نہ ہی میں ایسا کرسکتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ آج آل پاکستان مسلم لیگ کے اسلام آباد میں موجود مرکزی دفتر میں 23سیاسی جماعتوں نے پاکستان عوامی اتحاد کے نام سے گرینڈ الائنس کی بنیاد رکھی ہے جس کا انہیں چیئرمین بنایا گیا ہے۔اتحاد کا مرکزی دفتر F-6میں قائم کیاگیا ہے۔ اقبال ڈار کو اتحاد کا سیکرٹری جنرل اور ڈاکٹر محمد امجد کو کوآرڈینیٹر مقرر کیاگیا ہے۔اس اتحاد میں پنجاب سے مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ناراض دھڑوں اور فارورڈ بلاکس کو ساتھ ملا کر مضبوط بلاک بنایا جاسکتا ہے۔اس بلاک کو کے پی کے اور بلوچستان تک بڑھایا جائے تو وہ تیسری سیاسی قوت سامنے آ سکتی ہے جس کی ہم بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک سندھ اور کراچی کا تعلق ہے تو ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ میرا نام خواہ مخواہ جوڑدیا جاتا ہے۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایم کیو ایم کے ساتھ مجھے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ میری ہمدردی مہاجر کمیونٹی کے ساتھ ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں صرف مہاجروں کا لیڈر ہوں۔ ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کا اتحاد غیر فطری تھا اسی لئے دوسرے دن ہی ناکام ہوگیا۔ مگر مہاجر برادی کے اتحاد کے لئے ایسا اتحاد اچھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجر کمیونٹی کو ایم کیو ایم اور مہاجر کا لیبل ہٹا کر کراچی میں موجود دیگر تمام قومیتوں کو ساتھ ملاکر نئے نام کے ساتھ ملاکر کراچی سے ایک پاکستانی سیاسی پارٹی کا آغاز کیاجائے۔یہ نیاسیاسی گروپ ہمارے پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ مل جائے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کے ایک قومی سطح کے بڑے سیاسی اتحاد کی بات کرتے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس شاہد مبین نے ناصر محمود تارڑ کی رٹ خارج کر دی۔
عمران خان چاہتےہیں کہ اسمبلیاں ٹوٹ جائیں اورسینیٹ کاالیکشن رُک جائے,وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »