بھارتی وزیر اعظم,ہمارا پائلٹ واپس نہ کیا جاتا تو اگلی رات خون خرابے کی ہوتی     No IMG     ملکی سیاسی پارٹیاں ووٹ تو غریبوں ،محنت کشوں کے نام پر لیتی ہیں مگر تحفظ جاگیرداروں اور مافیاز کو دیتی ہیں ,جواد احمد     No IMG     افغان سپریم کورٹ نے صدر کے انتخاب تک صدر اشرف غنی کی مدت صدارت میں توسیع کردی     No IMG     آزاد کشمیر میں منڈا بانڈی کے مقام پر ایک جیپ کھائی میں گرنے سے 5 افراد ہلاک     No IMG     مصرمیں صدرکےاختیارات میں اضافے کےلیے ہونےوالے تین روزہ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنےکا سلسلہ جاری ہے     No IMG     لاہور میں 3 منزلہ خستہ حال گھر زمین بوس ہونے کے نتیجے میں خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان ایران کے پہلے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے     No IMG     سری لنکا میں کل ہونے والے آٹھ بم دھماکوں کے نتیجے میں 300 افراد ہلاک اور 500 زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کردیا     No IMG     ایران کے وزیر خارجہ کی ترک صدر اردوغان کے ساتھ ملاقات     No IMG     عمان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں شام کی عرب لیگ میں واپسی پر تاکیدکی     No IMG     سعودی عرب کی ایک کمپنی نے ترکی میں 100 ملین ڈالر کا سرمایہ لگانے کا اعلان     No IMG     روس کی سرحد پربرطانوی فوجی ہیلی کاپٹروں کی تعیناتی پر شدید رد عمل     No IMG    

پرویز مشرف کی سربراہی میں بننے والا سیاسی اتحاد ایک روزبعد ہی تنکا تنکا
تاریخ :   12-11-2017

لاہور(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) : سابق صدرمملکت پرویز مشرف کی سربراہی میں بننے والا سیاسی اتحاد ایک روز بعد ہی تنکا تنکا ہونا

شروع گیا،پاکستان عوامی تحریک اورسنی اتحاد کونسل نے بھی عوامی اتحاد کا حصہ بننے سے معذرت کر لی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق صدر مملکت پرویز مشرف نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے 23جماعتی اتحاد قائم کیاہے۔تاہم مشرف کے اتحاد میں شامل دو جماعتوں عوامی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین نے اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔ اسی طرح چیئرمین سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا  کا کہنا ہے کہ عوامی اتحاد میں ان کی جماعت کی شمولیت انتخابات کے لیے نہیں ہے۔انتخابی سیاست گرینڈ الائنس ’’نظام متحدہ متحدہ محاذ‘‘ کے پلیٹ فارم سے ہی کی جائے گی۔دوسری جانب اے پی ایم ایل کے سربراہ اور پاکستان عوامی اتحاد کے چیئرمین پرویز مشرف نے کہا کہ کراچی کی سیاست میں میرا نام خواہ مخواہ لایا جارہا ہے، پہلے بھی وضاحت کر چکا ہوں کہ میں اپنے آپ کوایک علاقائی یا لسانی جماعت تک محدود نہیں کرسکتا ۔ ایم کیو ایم سے کوئی ہمدردی نہیں،مہاجروں سے ہمدردی ہے مگراپنے آپ کو صرف مہاجر برادری کا لیڈر نہیں سمجھتا۔پی ایس پی نے قیادت کی پیش کش کی نہ ہی اس کی قیادت کروں گا،ہم نے 23جماعتی اتحاد قائم کیاہے، مزید لوگوں کو ساتھ ملاکر پورے ملک میں تیسری سیاسی قوت بنائی جاسکتی ہے۔ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کا اتحاد غیرفطری تھا مگر مہاجروں کے لئے اچھا تھا۔ایم کیو ایم اور پی ایس پی متحد ہو کر نئے نام کے ساتھ ہمارے اتحاد میں شامل ہوجائیں تو پیر پگاڑا اور دیگر سیاسی قوتوں کو ساتھ ملا کر پیپلز پارٹی کو مات دی جاسکتی ہے۔پنجاب میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے فارورڈ بلاکس کو ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔اپنے ایک ویڈیو پیغام میں پرویز مشرف نے کہا کہ کراچی اوی ایم کیو ایم کے حوالے سے خواہ مخواہ ان کا نام لیاجاتا ہے۔ایک کمیونٹی کی حد تک کسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا بلکہ میری سوچ قومی سطح کی ہے۔ایم کیو ایم کی سربراہی کرنا میرے لئے احمقانہ بات ہے اور میں یہ کبھی نہیں کرسکتا۔پی ایس پی نے مجھے سربراہی کے لئے کہا ہے اور نہ ہی میں ایسا کرسکتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ آج آل پاکستان مسلم لیگ کے اسلام آباد میں موجود مرکزی دفتر میں 23سیاسی جماعتوں نے پاکستان عوامی اتحاد کے نام سے گرینڈ الائنس کی بنیاد رکھی ہے جس کا انہیں چیئرمین بنایا گیا ہے۔اتحاد کا مرکزی دفتر F-6میں قائم کیاگیا ہے۔ اقبال ڈار کو اتحاد کا سیکرٹری جنرل اور ڈاکٹر محمد امجد کو کوآرڈینیٹر مقرر کیاگیا ہے۔اس اتحاد میں پنجاب سے مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ناراض دھڑوں اور فارورڈ بلاکس کو ساتھ ملا کر مضبوط بلاک بنایا جاسکتا ہے۔اس بلاک کو کے پی کے اور بلوچستان تک بڑھایا جائے تو وہ تیسری سیاسی قوت سامنے آ سکتی ہے جس کی ہم بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک سندھ اور کراچی کا تعلق ہے تو ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ میرا نام خواہ مخواہ جوڑدیا جاتا ہے۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایم کیو ایم کے ساتھ مجھے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ میری ہمدردی مہاجر کمیونٹی کے ساتھ ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں صرف مہاجروں کا لیڈر ہوں۔ ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کا اتحاد غیر فطری تھا اسی لئے دوسرے دن ہی ناکام ہوگیا۔ مگر مہاجر برادی کے اتحاد کے لئے ایسا اتحاد اچھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجر کمیونٹی کو ایم کیو ایم اور مہاجر کا لیبل ہٹا کر کراچی میں موجود دیگر تمام قومیتوں کو ساتھ ملاکر نئے نام کے ساتھ ملاکر کراچی سے ایک پاکستانی سیاسی پارٹی کا آغاز کیاجائے۔یہ نیاسیاسی گروپ ہمارے پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ مل جائے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کے ایک قومی سطح کے بڑے سیاسی اتحاد کی بات کرتے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس شاہد مبین نے ناصر محمود تارڑ کی رٹ خارج کر دی۔
عمران خان چاہتےہیں کہ اسمبلیاں ٹوٹ جائیں اورسینیٹ کاالیکشن رُک جائے,وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »