آرمی چیف سے بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر کی ملاقات     No IMG     اسرائیل کی جیل میں آگ بھڑک اٹھی، کئی کمرے جھلس گئے     No IMG     اسرائیلی فوج کی گھر گھر تلاشی15 فلسطینی شہری گرفتار     No IMG     وزیر ریلوے شیخ رشید کی نا اہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر     No IMG     فضائی حدود کی بندش، ائیرانڈیا کو کروڑوں کا نقصان     No IMG     دہشت گردی کا کوئی دین اور نسل نہیں ہوتی ,سعودی وزیر خارجہ     No IMG     ایران، عراق اور شامی افواج کے خون نے تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا, بشار الاسد     No IMG     آصف زرداری اور فریال تالپور کی 10 دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور     No IMG     سابق وزیراعلی شہباز شریف کے خلاف ایک اور انکوائری شروع     No IMG     کینیڈین وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت     No IMG     روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ وہ روس میں کرائسٹ چرچ جیسا دہشت گرد حملہ نہیں ہونے دیں گے     No IMG     برطانوی حکام نے نیوزی لینڈ کی مسجدوں میں ہوئی دہشت گردی کی طرز پر برطانیہ میں بھی واقعات پیش آنے کا خدشہ     No IMG     نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا     No IMG     نیوزی لینڈ مساجد پر دہشت گرد حملے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیان پر میڈیا کی تنقید سے برہم     No IMG     نیوزی لینڈ کی قومی فٹسل ٹیم کے گول کیپر عطا الیان بھی کرائسٹ چرچ واقعے میں شہید     No IMG    

پاک سعودی مشترکہ فوجی مشقیں، ہدف کون
تاریخ :   20-11-2017

پاکستان  (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) اور سعودی عرب کے مابین ایک بار پھر مشترکہ فوجی مشقیں ہونے جا رہی ہیں، جس پر ملک کے کئی حلقے یہ سوال کر رہے ہیں کہ ان مشقوں کا اصل ہدف کون ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب نےحال ہی میں ایک مشترکہ فوجی مشق کی تھی جب کہ آنے والے دنوں میں شہابِ دوئم کے نام سے ایک اور مشق ہونے جارہی ہے۔ مڈل ایسٹ مانٹیر کے مطابق ریاض میں ان مشقوں کے حوالے سے انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ تاہم اخبار نے ان مشقوں کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔
ان مشقوں کے حوالے سے یہ خبر ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے، جب قدامت پسند بادشاہت کے شام، ایران اور لبنان سے تعلقات کشیدہ ہیں جب کہ سعودی عرب یمن میں بھی حوثی باغیوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہے۔ سعودی عرب میں حالیہ گرفتاریوں اور سیاسی تبدیلی کے بعد وہاں سیاسی استحکام پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیںç

ایسے موقع پر اس طرح کی مشقوں کو پاکستان میں تجزیہ نگار بہت دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔کچھ اس حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران مخالف جذبات اپنے عروج پر ہیں لیکن کچھ کے خیال میں یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے اور یہ کہ ان مشقوں کا ایران سعودی کشیدہ تعلقات سے کوئی تعلق نہیں۔

معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے ان فوجی مشقوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میرے خیال سے ایران کو ان مشقوں پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آرمی چیف نے حال ہی میں ایران کا دورہ کر کے انہیں کئی مسائل پر وضاحتیں دیں ہیں۔ ہم نے ایران عراق جنگ کے دوران بھی غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک طرح سے ایران کا ساتھ دیا۔ تو ایران کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کی سرزمین تہران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔‘‘

ان مشقوں کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ اس بارے میں انہوں نے کہا، ’’داعش کو شام و عراق میں شکست ہو چکی ہے۔ سعودی عرب اور امریکا نے پہلے تو ان جنگجووں کی حمایت کی اور بعد میں انہیں چھوڑ دیا۔ ان میں کئی سعودی شہری بھی ہیں، جو یقیناً واپس آ کر ملک میں مسائل کھڑ ے کر سکتے ہیں۔ تو ہم صرف سعودی عرب کی اندورنی سلامتی کے حوالے سے اس کی مدد کرنے کے ذمہ دار ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان اور سعودی عرب کا باقاعدہ ایک معاہدہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ اگر سعودی عرب کے خلاف جارحیت ہوتی ہے، تو بھی ہم ان کی مدد کرنے کے پابند ہیں۔ لیکن اگر سعودی عرب کا یمن یا کسی اور ملک میں کوئی مسئلہ ہے، تو ہم اس کے لیے لڑنے کے پابند نہیں۔‘‘

جنرل امجد کا کہنا تھا کہ ممالک اس طرح کے معاہدے کرتے ہیں، اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔’’ ایران نے بھی بھارت سے دوہزار چار میں اسٹریجک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت تہران اپنے ہوائی اڈے بھارت کو استعمال کرنے کے لیے دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چاہ بہار کی بندرگاہ بھی بھارت نے تعمیر کی ہے، جہاں اب بھارتی خفیہ اداروں کا پورا نیٹ ورک ہے۔ کلبھوشن بھی تو وہیں سے پکڑا گیا ہے لیکن پاکستان نے تو کبھی ایران سے کوئی شکایت نہیں کی کیونکہ اسلام آباد کو پتہ ہے کہ ایرانی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوسکتی۔‘‘

مشرق وسطیٰ پر گہری نظر رکھنے والی فلسطینی تجزیہ نگار جمال اسماعیل بھی جنرل امجد کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ان مشقوں کا ہدف ایران نہیں ہے اور نہ ہی ان کا ایران سے کوئی تعلق ہے۔ ایسے مشقیں ہر سال ہوتی ہیں۔ تہران کو معلوم ہے کہ پاکستان اس کے خلاف کوئی جارحیت نہیں کر سکتا۔ اسلام آباد صرف سعودی عرب کا اس ہی صورت میں دفاع کرے گا جب ان کے خلاف کوئی بیرونی جارحیت ہوگی یا سعودی عرب پر جنگ مسلط کی جائے گی۔‘‘
لیکن لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا ان مشقوں کو ایران سعودی کشیدگی کے تناظر میں ہی دیکھتے ہیں،’’ان مشقوں سے یہ بات واضح ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی یا تصادم کی صورت میں پاکستان آرمی کی مہارت اور پیشہ وارانہ صلاحتیں کس طرف ہوں گی۔ ہمارا ایران سے کوئی زیادہ فوجی تعاون نہیں ہے۔ پاکستان شاید کسی تصادم کی صورت میں فوج نہ بھیجے لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے کون مستفیض ہو گا۔ اگر سعودی عرب کو داعش سے خطرہ ہے تو داعش کو تو شکست شام اور عراق نے دی ہے۔ تو یہ مشقیں پھر اصولاً ان کے ساتھ ہونی چاہیے تھیں۔ تو جن کی مشرقِ وسطیٰ پر گہری نظر ہے، انہیں بخوبی علم ہے کہ قدامت پرست ریاست کا اصل ہدف داعش نہیں بلکہ ایران اور خطے میں اس کے اتحادی ہیں۔‘‘

Print Friendly, PDF & Email
گوادرچین پاکستان اقتصادی راہداری کی بنیاد ہے ,وزیراعلیٰ بلوچستان
اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ بہت سے عرب اور مسلم ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے خفیہ تعلقات ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »