چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

پاکستان کو بتا دیا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے، امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن
تاریخ :   29-10-2017

امریکی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستانیوں کو یہ بتانے کے لیے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا کہ واشنگٹن نے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کا تہیہ کر رکھا ہے اگر وہ تعاون نہیں کرتے تو امریکہ دوسرا طریقے سے عمل کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ دھمکی نہیں ہے، بلکہ یہ حقیقت ہے کہ ہم زمینی صورت حال سے نمٹنا چاہتے ہیں۔

نیویارک ٹائمز اور کئی دوسرے میڈیا چینلز کی رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کو یہ کرنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستاان یہ کا م کرے۔ ہم آپ سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ آپ ایک خود مختار ملک ہیں۔یہ آپ کو طے کرنا ہے کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔

یورپ، مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے اپنے سات روزہ دورے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کو یہ پیش کش کی ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ ان کے تنازعات کے حل میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں ۔ جب کہ دوسری جانب بھارت کا یہ کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنا نہیں چاہتا۔

اعلی امریکی سفارت کا ر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کو بتا دیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کے لیے نئی حکمت عملی پر اسلام آباد کی مدد یا اس کی مددکے بغیر عمل کریں گے کیونکہ ان کے خیال میں یہ کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ یہ کرنا نہیں چاہتے یا یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ یہ نہیں کرسکتے تو ہم اپنے یہ مقاصد کسی مختلف طریقے سے حاصل کریں گے۔

ٹلر سن نے کہا کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ احترام پر مبنی تعلقات ہیں ، لیکن ہم ایک بہت جائز اور قانونی کام کر نا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس سلسلے میں ان کی مدد درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ آپ یہ کام کرسکتے ہیں، یا یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آپ یہ نہیں کریں گے۔اگر آپ نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہمیں بتا دیں۔ ہم اسے دوسرے طریقوں سے حل کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کر لیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمارےلیے اس بات کی اہمیت نہیں ہے کہ عسکریت پسند پاکستان کی سرزمین پر ہیں یا وہ افغانستان کے علاقے میں ہیں کیونکہ دونوں ملکوں کی سرحد کا حفاظتی نظام بہت کمزور ہے۔ ہماری دلچسپی مخصوص نوعیت کی معلومات سے ہے۔ ہم پاکستان سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں مطلوبہ عسکریت پسندوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ ہم ان کا خاتمہ کریں گے۔ ہم نے ان کے ذمے مخصوص کام لگایا ہے ، ہم نے انہیں معلومات کے تبادلے کی پیش کش کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن کا کہنا تھا کہ انہوں نے افغانستان، پاکستان اور بھارت کے لیڈروں کو جنوبی ایشیا سے متعلق صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کی وضاحت کی۔ اس حکمت عملی میں پاکستان کا ایک اہم کردار ہے کیونکہ پاکستان خطے کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔پاکستان کے ساتھ ہمارے طویل عرصے تک مثبت تعلقات رہے ہیں، لیکن دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پاکستان کچھ زیادہ حصہ ڈالنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان سے، جس میں دہشت گردوں کے ٹھکانے نہ ہوں، سب سے زیادہ فائدہ پاکستانی عوام کو پہنچے گا۔میں نے یہ اہم پیغام پاکستان کے وزیر اعظم ، پاکستانی فوج کے سربراہ اور اعلی عہدے داروں کو پہنچا دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہ پاکستان میں ان کا پہلا دورہ تھا اس لیے انہوں نے اپنا زیادہ وقت ان کی بات سننے میں گذارا۔ اس ملاقات سے دونوں فریقوں کو ایک اپنا موقف بیان کرنے کا موقع ملا۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق جنوبی اور مشرقی ایشیا کے امور کی معاون وزیر اور افغانستان اور پاکستان کے لیے قائم مقام خصوصی امریکی ایلچی ایلس ڈبلیو ویلز نے جمعے کے روز کہا کہ ہم نے پاکستان کو بتا دیا ہے کہ اس کے پاس دہشت گردی سے لڑنے اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے چند ہفتے اور کچھ مہینے ہیں۔اگر اس نے یہ نہ کیا تو ہم صورت حال کے مطابق عمل کریں گے۔

ایلس کا کہنا تھا کہ نئی حکمت عملی کے تحت ہم نے پاکستان سے کچھ مخصوص توقعات قائم کی ہیں کہ وہ کس طرح ایسے حالات پیدا کر سکتا ہے جو طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مددگار ثابت ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں پاکستان اپنے مفاد میں ان گروپس کے خلاف عملی اقدامات کرے گا جو اس کی سرزمین استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وہ اسے عدم استحکام سے دو چار نہ کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ فوجی مشقوں
قطر کے امیر نے چار عرب ریاستوں کے ساتھ جاری سفارتی تنازع کے تناظر میں کہا ہے کہ کسی بھی طرح کا عسکری تصادم خطے میں صرف افراتفری کا باعث بنے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »