چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

پاکستان علماء کونسل نے فتوے پر افغان صدر کے اعتراضات مسترد کر دیے
تاریخ :   18-01-2018

پاکستان(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) کے مذہبی طبقے نے خود کش حملوں کے حوالے سے جاری کردہ افغان صدر اشرف غنی کے بیان کو نا مناسب قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے کل بروز بدھ کابل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس فتوے کو پاکستان تک محدود کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا مذہبی اسلامی اصول آفاقی اور تمام اسلامی ممالک کے لیے نہیں ہیں؟

پاکستان علماء کونسل، جس نے اس فتوے کو مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا، کا موقف ہے کہ اشرف غنی کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔ کونسل کے چیئرمین مولانا زاہدالقاسمی نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہم اشرف غنی کے اس بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ انہیں بیانات دینے کے بجائے اپنے ملک کو سنبھالنا چاہیے۔ ہماری حکومت نے ہم سے مشورہ مانگا تھا اور ہم نے پاکستان میں خود کش حملوں، فوج پر حملوں اور جہاد کے اعلان کرنے کو غیر اسلامی قراد دیا ہے۔ صرف ریاست کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ جہاد کا اعلان کرے۔ ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد بھی حرام ہے۔ تاہم میں یہ ضرور کہوں گا کہ نہ یہاں سے افغانستان میں مداخلت ہونی چاہیے اور نہ افغانستان سے پاکستان میں مداخلت ہونی چاہیے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ، ’’ہم نے فتوے میں یہ لکھا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا یا خودکش حملے کرنا پاکستان میں بالخصوص حرام ہیں لیکن اس کے ساتھ ہم نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایسے حملے تمام اسلامی ممالک میں حرام ہیں۔ جس میں ظاہر ہے افغانستان بھی آجاتا ہے۔‘‘
کونسل کے ترجمان مولانا سید محمد قاسمی کا کہنا تھا کہ اگر اشرف غنی کو کوئی فتویٰ لینا ہے تو وہ اپنے ملک کے علماء سے لیں، ’’ہمارے ملک میں دہشت گرد خود کش حملوں کو اسلام کے نام پر جائز قرار دے رہے تھے اور پاکستان کو ایک غیر اسلامی ریاست کہتے تھے۔ لہذا ہم نے ان حملوں کو پاکستان میں غیر اسلامی قرار دیا۔ ہمارا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم پاکستان کے شہری ہیں اور پاکستان کے لیے ہی فتویٰ دے سکتے ہیں۔ اس لیے ہم اشرف غنی کے اس بیان کو مسترد کرتے ہیں اور اسے نا مناسب قرار دیتے ہیں۔‘‘

انہوں نے اس فتوے کا پس منظر بتائے ہوئے کہا، ’’یہ فتویٰ دراصل گزشتہ برس مئی کے مہینے میں تقریبا انتالیس علماء کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔ بعد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ ء تحقیقات نے اس کو مختلف علماء کے پاس بھیجا ، جنہوں نے اس کا مطالعہ کر کے اس کی توثیق کی۔ اب یہ ایک کتابی شکل میں آیا ہے، جس میں پاکستان کے صدر ممنون حسین کے بھی تاثرات ہیں۔‘‘

ملک میں ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستان میں طالبان کے مذہبی و سیاسی استاد سمجھے جانے والے مولانا سمیع الحق کے گروپ نے اس فتوے کی توثیق نہیں کی۔ سمیع الحق کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے ایک ذریعے نے اس حوالے سے کہا، ’’مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق نے اس فتوے پر دستخط نہیں کیے تھے کیونکہ اس فتوے میں ان کی طرف سے دی گئی تجاویز کو نہیں لیا گیا۔‘‘

ان اطلاعات پر ترجمان پاکستان علماء کونسل نے کہا، ’’میرے خیال سے یہ بات صیح نہیں ہے کیونکہ انہوں نے فتوے پر دستخط کیے تھے۔ تاہم جب یہ فتویٰ کتابی شکل میں آیا اور اس کی افتتاحی تقریب ہوئی اس میں مولانا حامد الحق نے شرکت نہیں کی۔‘‘

ڈوئچے ویلے نے جب افغانستان کے حوالے سے علماء سے پوچھا تو انہوں نے اس کا گول مول جواب دیا۔ تاہم جب ڈی ڈبلیو نے جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ کراچی کے مہتمم مفتی نعیم، جو اس فتوے کے دستخط کنندہ بھی ہیں، سے یہ سوال کیا کہ آیا افغانستان میں خود کش حملے حرام ہیں یا نہیں، تو انہوں نے کہا، ’’اب آپ ایسے سوالات کر کے میرے لیے بھی مشکلات پیدا کریں گے اور اپنے لیے بھی۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خود کش حملے مطلق حرام ہیں۔ وہ کہیں بھی ہوں۔ تو اس میں ساری باتیں آجاتی ہیں۔‘‘

پاکستان میں کئی حلقوں میں اس بات پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ اس تقریب میں مولانا اورنگزیب فاروقی اور مولانا احمد لدھیانوی بھی شریک تھے، جن کی کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کو پاکستان میں کئی حلقے فرقہ وارانہ دہشت کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ تاہم فتوے لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس تقریب میں علامہ ساجد نقوی اور ڈاکڑ افتخار نقوی بھی موجود تھے۔ اس فتوے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا، ’’یہ علماء ہمارے ملک کے بارے میں ایسا نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہم قابض کافر امریکیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘

Print Friendly, PDF & Email
لاہور جلسے میں لوگوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ ڈاکٹر طاہر القادر یے بتا دی
بھارت کا طویل رینج والے بین البراعظمی میزائل کا کامیاب تجربہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »