دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

پاکستان علماء کونسل نے فتوے پر افغان صدر کے اعتراضات مسترد کر دیے
تاریخ :   18-01-2018

پاکستان(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) کے مذہبی طبقے نے خود کش حملوں کے حوالے سے جاری کردہ افغان صدر اشرف غنی کے بیان کو نا مناسب قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے کل بروز بدھ کابل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس فتوے کو پاکستان تک محدود کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا مذہبی اسلامی اصول آفاقی اور تمام اسلامی ممالک کے لیے نہیں ہیں؟

پاکستان علماء کونسل، جس نے اس فتوے کو مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا، کا موقف ہے کہ اشرف غنی کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔ کونسل کے چیئرمین مولانا زاہدالقاسمی نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہم اشرف غنی کے اس بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ انہیں بیانات دینے کے بجائے اپنے ملک کو سنبھالنا چاہیے۔ ہماری حکومت نے ہم سے مشورہ مانگا تھا اور ہم نے پاکستان میں خود کش حملوں، فوج پر حملوں اور جہاد کے اعلان کرنے کو غیر اسلامی قراد دیا ہے۔ صرف ریاست کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ جہاد کا اعلان کرے۔ ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد بھی حرام ہے۔ تاہم میں یہ ضرور کہوں گا کہ نہ یہاں سے افغانستان میں مداخلت ہونی چاہیے اور نہ افغانستان سے پاکستان میں مداخلت ہونی چاہیے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ، ’’ہم نے فتوے میں یہ لکھا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا یا خودکش حملے کرنا پاکستان میں بالخصوص حرام ہیں لیکن اس کے ساتھ ہم نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایسے حملے تمام اسلامی ممالک میں حرام ہیں۔ جس میں ظاہر ہے افغانستان بھی آجاتا ہے۔‘‘
کونسل کے ترجمان مولانا سید محمد قاسمی کا کہنا تھا کہ اگر اشرف غنی کو کوئی فتویٰ لینا ہے تو وہ اپنے ملک کے علماء سے لیں، ’’ہمارے ملک میں دہشت گرد خود کش حملوں کو اسلام کے نام پر جائز قرار دے رہے تھے اور پاکستان کو ایک غیر اسلامی ریاست کہتے تھے۔ لہذا ہم نے ان حملوں کو پاکستان میں غیر اسلامی قرار دیا۔ ہمارا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم پاکستان کے شہری ہیں اور پاکستان کے لیے ہی فتویٰ دے سکتے ہیں۔ اس لیے ہم اشرف غنی کے اس بیان کو مسترد کرتے ہیں اور اسے نا مناسب قرار دیتے ہیں۔‘‘

انہوں نے اس فتوے کا پس منظر بتائے ہوئے کہا، ’’یہ فتویٰ دراصل گزشتہ برس مئی کے مہینے میں تقریبا انتالیس علماء کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔ بعد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ ء تحقیقات نے اس کو مختلف علماء کے پاس بھیجا ، جنہوں نے اس کا مطالعہ کر کے اس کی توثیق کی۔ اب یہ ایک کتابی شکل میں آیا ہے، جس میں پاکستان کے صدر ممنون حسین کے بھی تاثرات ہیں۔‘‘

ملک میں ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستان میں طالبان کے مذہبی و سیاسی استاد سمجھے جانے والے مولانا سمیع الحق کے گروپ نے اس فتوے کی توثیق نہیں کی۔ سمیع الحق کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے ایک ذریعے نے اس حوالے سے کہا، ’’مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق نے اس فتوے پر دستخط نہیں کیے تھے کیونکہ اس فتوے میں ان کی طرف سے دی گئی تجاویز کو نہیں لیا گیا۔‘‘

ان اطلاعات پر ترجمان پاکستان علماء کونسل نے کہا، ’’میرے خیال سے یہ بات صیح نہیں ہے کیونکہ انہوں نے فتوے پر دستخط کیے تھے۔ تاہم جب یہ فتویٰ کتابی شکل میں آیا اور اس کی افتتاحی تقریب ہوئی اس میں مولانا حامد الحق نے شرکت نہیں کی۔‘‘

ڈوئچے ویلے نے جب افغانستان کے حوالے سے علماء سے پوچھا تو انہوں نے اس کا گول مول جواب دیا۔ تاہم جب ڈی ڈبلیو نے جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ کراچی کے مہتمم مفتی نعیم، جو اس فتوے کے دستخط کنندہ بھی ہیں، سے یہ سوال کیا کہ آیا افغانستان میں خود کش حملے حرام ہیں یا نہیں، تو انہوں نے کہا، ’’اب آپ ایسے سوالات کر کے میرے لیے بھی مشکلات پیدا کریں گے اور اپنے لیے بھی۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خود کش حملے مطلق حرام ہیں۔ وہ کہیں بھی ہوں۔ تو اس میں ساری باتیں آجاتی ہیں۔‘‘

پاکستان میں کئی حلقوں میں اس بات پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ اس تقریب میں مولانا اورنگزیب فاروقی اور مولانا احمد لدھیانوی بھی شریک تھے، جن کی کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کو پاکستان میں کئی حلقے فرقہ وارانہ دہشت کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ تاہم فتوے لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس تقریب میں علامہ ساجد نقوی اور ڈاکڑ افتخار نقوی بھی موجود تھے۔ اس فتوے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا، ’’یہ علماء ہمارے ملک کے بارے میں ایسا نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہم قابض کافر امریکیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘

Print Friendly, PDF & Email
لاہور جلسے میں لوگوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ ڈاکٹر طاہر القادر یے بتا دی
بھارت کا طویل رینج والے بین البراعظمی میزائل کا کامیاب تجربہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »