محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG     پاکستان ,کو زاہدان کے دہشتگردانہ حملے کا جواب دینا ہوگا، ایران     No IMG    

پاکستان تحریک انصاف کے اسد قیصر آئندہ پانچ سالوں کیلئے قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب
تاریخ :   15-08-2018

اسلام آباد ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) پاکستان تحریک انصاف کے اسد قیصر آئندہ پانچ سالوں کیلئے قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو گئے ،اسد قیصر کے حلف اٹھانے کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کا شدید احتجاج۔

تفصیلات کے مطابق سبکدوش سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے نئے سپیکر کی کامیابی کا نتیجہ سناتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے 330 اراکین نے حلف لیا تھا اور آج ووٹ بھی 330 کاسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 8 ووٹ مسترد ہوئے ہیں تاہم پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر 176 ووٹ حاصل کر کے قومی اسمبلی کے نئے سپیکر منتخب ہو گئے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل اپوزیشن کے خورشید شاہ نے 146 ووٹ حاصل کئے،قومی اسمبلی کیلئے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہوا تو پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے دوبارہ گنتی کی درخواست کی جسے قبول کرتے ہوئے ایک مرتبہ دو بارہ گنتی کی گئی جس کے بعد حتمی نتیجہ تشکیل دیا گیا ۔
پولنگ کے نتائج کا اعلان کرنے کے بعد سردار ایاز صادق نے اسد قیصر سےسپیکر قومی اسمبلی کا حلف لیا،ایاز صادق نے اسد قیصر کو حلف لینے کیلئے آنے کا کہا اور جب اسد قیصر نے حلف اٹھانا شروع کیا تو ن لیگی رہنماوں کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی اور ایوان نعروں سے گونج اٹھا، ن لیگی اراکین اسمبلی نے نواز شریف کی تصاویر والے پوسٹرز اٹھا کر سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہوگئےاور ’’ ووٹ کو عزت دو ‘‘ کے نعرے بلند کیے جبکہ دوسری جانب اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنماخاموشی اختیار کیے ہوئے تھےتاہم شوروغل کے باوجود بھی ایاز صادق حلف لینے میں مصروف رہےاور قومی اسمبلی کا دوسرا مرحلہ مکمل ہوا۔اسد قیصر نے سپیکر قومی اسمبلی کی نشست سنبھالنے کے بعد شدید احتجاج کے باعث اجلاس 15 منٹ کیلئے موخر کر دیا۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان میں اپنے پہلے خطاب میں کہنا تھا کہ لازمی ہے ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر ملکی مفادات کے لیے کام کریں،ہم سب کی شناخت پاکستان ہے، اس سے ہی ہماری آن اور شان ہے، ہم مل جل کر پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں،میںمیڈیا کو یقین دہانی کراتا ہوں اسمبلی سیکریٹریٹ کی طرف سے میڈیا کو ہر قسم کا تعاون فراہم کیا جائے گا۔اس سے قبل سپیکر کے انتخاب کے لیے 2 پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے،ایک پولنگ بوتھ پر پیپلز پارٹی سے غلام مصطفیٰ شاہ اور تحریک انصاف کے عمران خٹک پولنگ ایجنٹ تھے جبکہ دوسرے پولنگ بوتھ پر پیپلز پارٹی کی شازیہ مری اور تحریک انصاف کےعمر ایوب پولنگ ایجنٹ تھے۔
پولنگ کا عمل جاری تھا کہ اس دوران عمران خان سپیکر کے انتخاب کیلئے اپنا ووٹ ڈالنے کیلئے سپیکر کے ڈائس کے آگے پہنچے اور کارڈ نکالنے کیلئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہ خالی تھی اور وہ اپنا کارڈ گھر بھول آئے تاہم انہوں نے سپیکر ایاز صادق سے کارڈ کے بغیر ووٹ ڈالنے کی اجازت طلب کی جس پر اجازت دیدی گئی اور انہوں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ عمران خان ووٹ ڈالنے کے بعد سپیکر ایاز صادق سے ہاتھ ملائے بغیر ہی سپیکر کی کرسی کے پیچھے سے نکل کر واپس چلے اور سر ہلاک کر سلام کیا۔عمران خان کی جانب سے بغیر کارڈ ووٹ ڈالنے پر پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس بھی کارڈ نہیں تھا تو مجھے کہا گیا کہ آپ کارڈ لے کر آئیں یا نیابنوائیں اور جب میں کارڈ بنو کر لایا تو اس کے بعد ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تاہم عمران خان کارڈ کے بغیر ہی ووٹ ڈال کر چلے گئے۔عبدالقادر کے اعتراض پر سپیکر قومی اسمبلی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے کارڈ نہ ہونے پر مجھ سے ووٹ ڈالنے کی اجازت طلب کی تو میں نے انہیں اجازت دیدی لیکن آپ نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا اور اگر آپ بھی مجھ سے بات کرتے تو میں آپ کو اجازت دے دیتا۔

سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کیلئے پولنگ کا عمل شروع ہو توسب سے پہلے سابق صدر آصف علی زرداری کانام پکارا گیا لیکن وہ ایوان میں موجود نہیں تھے تاہم انہوں نے بعد میں آ کر اپنا ووٹ کاسٹ کیا ۔ تحریک انصاف کی جانب سے قاسم سوری جن کا تعلق بلوچستان سے ہے ڈپٹی سپیکر کیلئے امیدوار نامزدکیاگیاہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کیلئے مشترکہ امیدوارمولانا اسعدمحمود کو نامزد کیاگیاہے ۔
تحریک انصاف کو ایم کیوایم، بلوچستان عوامی پارٹی، بی این پی مینگل، جی ڈی اے، ق لیگ، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں 151 نشستیں ہیں جبکہ ایم کیوایم کی 7، بلوچستان عوامی پارٹی کی 5، بی این پی مینگل کی 4، جی ڈی اے کی 3، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی ایک ایک نشست ہے۔ 4 میں سے 2 آزاد ارکان نے بھی تحریک انصاف کو حمایت کی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔ یوں تحریک انصاف کے مجموعی ووٹوں کی تعداد 177 بنتی ہے۔دوسری جانب مولانا اسعد محمود کو مسلم لیگ ن کے 81، پیپلزپارٹی کے 53، ایم ایم اے کے 15 اور اے این پی کے ایک رکن کی حمایت حاصل ہے۔ اس طرح اپوزیشن اتحاد کے امیدوار کو 150 کے قریب ووٹ مل سکتے ہیں۔واضح رہے کہ ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ آئے گا،اس سلسلے میں کاغذات نامزدگی 16 اگست دن 2 بجے تک جمع ہوں گے جس کے بعد وزیراعظم کا انتخاب اگلے روز 17 اگست کو ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
اسلام آباد ہائیکورٹ ،نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ک
قبائلی علاقے پارا چنار سے ایک اور شہری گرفتار ہوا جس کا تعلق بھارت کی ریاست گجرات سے ہے
Translate News »