چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

پاکستان بہت کچھ کھو دے گا: امریکی نائب صدر کی دھمکی
تاریخ :   22-12-2017

امریکہ (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) کے نائب صدر مائیک پینس نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی جاری رکھی تو وہ بہت کچھ کھو دے گا۔
جمعرات کو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے کے دوران بگرام ایئر بیس پر امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک عرصے سے طالبان اور دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا آرہا ہے لیکن اب اب ان کے بقول دہشت گردوں کو پناہ دینے کے دن گئے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو نوٹس دے چکے ہیں کہ اسے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنا ہوں گی۔
مائیک پینس کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں اور اب وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر پاکستان امریکہ سے تعاون کرے گا تو وہ بہت کچھ پائے گا لیکن اگر اس نے دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھی تو وہ بہت کچھ کھونے کے لیے تیار رہے۔
رواں ہفتے امریکہ کی قومی سلامتی کی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ اپنے علاقے میں موجود دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہوگا کیوں کہ ان کے بقول امریکہ ہر سال پاکستان کو اس مد میں بڑی رقوم فراہم کرتا ہے ۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کاخواہش مند ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کرے۔
مائیک پینس جمعرات کو غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچے تھے۔ ان کے کرسمس کی سالانہ تعطیلات سے عین قبل ہونے والے اس دورے کا مقصد افغانستان تعینات امریکی فوجیوں کو کرسمس اور تعطیلات کی مبارک باد دینا تھا۔
امریکی نائب صدر نے بگرام ایئربیس پر جہازوں کے ایک ہینگر میں لگ بھگ 500 امریکی فوجی اہلکاروں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ہینگر کو کرسمس کی مناسبت سے سجایا گیا تھا۔
اپنے خطاب میں امریکی نائب صدر نے کہا کہ ٹرمپ حکومت نے امریکی فوج پر عائد وہ قدغنیں ختم کردی ہیں جس کے باعث ان کے بقول امریکی فوج کی صلاحیتیں محدود ہوگئی تھی۔

مائیک پینس نے کہا کہ ان پابندیوں کے خاتمے کے بعد اب امریکی فوج دشمن سے پوری قوت اور سرعت سے لڑسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ حکومت نے امریکی فوج کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو کہیں بھی نشانہ بنانے کا اختیار دے دیا ہے چاہے وہ کہیں بھی چھپے ہوں۔

مائیک پینس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی اس نئی حکمتِ عملی کے افغانستان میں مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فضائی حملوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے اور امریکی فوج کی اپنے افغان شراکت داروں کے ساتھ مل کر کی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں طالبان دفاعی پوزیشن پر چلے گئے ہیں۔
اپنے اس دورے کے دوران امریکی نائب صدر نے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات کےبعد امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے افغان قائدین کو یقین دلایا ہے کہ تمام دہشت گردوں کے خاتمے تک امریکی فوج افغانستان میں موجود رہے گی۔
پاکستان کا ردِ عمل
امریکی نائب صدر کے بیان پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے تو باضابطہ طور پر تاحال کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے البتہ پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین شیخ روحیل اصغر نے کہا ہے کہ یہ بات قطعی طور پر درست نہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اُن کے بقول پاک افغان سرحد میں امریکی ڈرون حملوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
’’اس وقت تو (قبائلی علاقوں) میں ڈرون حملوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے علاقوں کو اُن لوگوں (دہشت گردوں) سے بالکل صاف کروا لیا ہے۔‘‘
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان بار ہا یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
اس سے قبل رواں ہفتے پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے نئی سیکیورٹی پالیسی میں پاکستان کے حوالے سے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا بیان زمینی حقائق کا عکاس نہیں ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں اگلے ہفتے چینی، افغان اور پاکستانی وزرائے خارجہ ملاقات کریں گے
یورپی یونین سے سن 2019ء میں اخراج کے بعد برطانیہ ایک بار پھر نیلے رنگ کے پاسپورٹ کی طرف لوٹ جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »