پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

پاکستان بہت کچھ کھو دے گا: امریکی نائب صدر کی دھمکی
تاریخ :   22-12-2017

امریکہ (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) کے نائب صدر مائیک پینس نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی جاری رکھی تو وہ بہت کچھ کھو دے گا۔
جمعرات کو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے کے دوران بگرام ایئر بیس پر امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک عرصے سے طالبان اور دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا آرہا ہے لیکن اب اب ان کے بقول دہشت گردوں کو پناہ دینے کے دن گئے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو نوٹس دے چکے ہیں کہ اسے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنا ہوں گی۔
مائیک پینس کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں اور اب وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر پاکستان امریکہ سے تعاون کرے گا تو وہ بہت کچھ پائے گا لیکن اگر اس نے دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھی تو وہ بہت کچھ کھونے کے لیے تیار رہے۔
رواں ہفتے امریکہ کی قومی سلامتی کی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ اپنے علاقے میں موجود دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہوگا کیوں کہ ان کے بقول امریکہ ہر سال پاکستان کو اس مد میں بڑی رقوم فراہم کرتا ہے ۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کاخواہش مند ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کرے۔
مائیک پینس جمعرات کو غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچے تھے۔ ان کے کرسمس کی سالانہ تعطیلات سے عین قبل ہونے والے اس دورے کا مقصد افغانستان تعینات امریکی فوجیوں کو کرسمس اور تعطیلات کی مبارک باد دینا تھا۔
امریکی نائب صدر نے بگرام ایئربیس پر جہازوں کے ایک ہینگر میں لگ بھگ 500 امریکی فوجی اہلکاروں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ہینگر کو کرسمس کی مناسبت سے سجایا گیا تھا۔
اپنے خطاب میں امریکی نائب صدر نے کہا کہ ٹرمپ حکومت نے امریکی فوج پر عائد وہ قدغنیں ختم کردی ہیں جس کے باعث ان کے بقول امریکی فوج کی صلاحیتیں محدود ہوگئی تھی۔

مائیک پینس نے کہا کہ ان پابندیوں کے خاتمے کے بعد اب امریکی فوج دشمن سے پوری قوت اور سرعت سے لڑسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ حکومت نے امریکی فوج کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو کہیں بھی نشانہ بنانے کا اختیار دے دیا ہے چاہے وہ کہیں بھی چھپے ہوں۔

مائیک پینس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی اس نئی حکمتِ عملی کے افغانستان میں مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فضائی حملوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے اور امریکی فوج کی اپنے افغان شراکت داروں کے ساتھ مل کر کی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں طالبان دفاعی پوزیشن پر چلے گئے ہیں۔
اپنے اس دورے کے دوران امریکی نائب صدر نے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات کےبعد امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے افغان قائدین کو یقین دلایا ہے کہ تمام دہشت گردوں کے خاتمے تک امریکی فوج افغانستان میں موجود رہے گی۔
پاکستان کا ردِ عمل
امریکی نائب صدر کے بیان پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے تو باضابطہ طور پر تاحال کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے البتہ پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین شیخ روحیل اصغر نے کہا ہے کہ یہ بات قطعی طور پر درست نہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اُن کے بقول پاک افغان سرحد میں امریکی ڈرون حملوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
’’اس وقت تو (قبائلی علاقوں) میں ڈرون حملوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے علاقوں کو اُن لوگوں (دہشت گردوں) سے بالکل صاف کروا لیا ہے۔‘‘
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان بار ہا یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
اس سے قبل رواں ہفتے پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے نئی سیکیورٹی پالیسی میں پاکستان کے حوالے سے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا بیان زمینی حقائق کا عکاس نہیں ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں اگلے ہفتے چینی، افغان اور پاکستانی وزرائے خارجہ ملاقات کریں گے
یورپی یونین سے سن 2019ء میں اخراج کے بعد برطانیہ ایک بار پھر نیلے رنگ کے پاسپورٹ کی طرف لوٹ جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »