پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

پاکستان اور بھارت میں آبی مسائل پر ایک بار پھر تلخی بڑھ رہی ہے اور اسلام آباد نے کشن گنگا پروجیکٹ کے حوالے سے عالمی بینک سے رابطہ کر لیا
تاریخ :   05-04-2018

اسلام آباد ( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ) پاکستان اور بھارت میں آبی مسائل پر ایک بار پھر تلخی بڑھ رہی ہے اور اسلام آباد نے کشن گنگا پروجیکٹ کے حوالے سے عالمی بینک سے رابطہ کر لیا ہے۔ بھارتی وزیرِ اعظم مودی ماضی کہہ چکے ہیں کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا۔

پاکستان میں کئی ناقدین کا خیال ہے کہ بھارت مختلف آبی منصوبوں کے ذریعے پاکستان کے پانی کو متاثر کر سکتا ہے لیکن یہ کہ پاکستان میں حکومتوں نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا، جس کی وجہ سے کئی معاملات میں نئی دہلی کی پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے۔
آبی امور کے ماہر اور قائداعظم یونیورسٹی کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار پاکستان اسٹڈیز کے سابق پروفیسر ڈاکڑ عارف محمود کے خیال میں پاکستان نے کشن کنگا ڈیم پر بہت دیر کر دی،’’جس طرح کے اعتراضات ہم اٹھارہے ہیں، یہ ابتدائی مراحل میں اٹھائے جاتے ہیں تاکہ آپ کا مقدمہ مضبوط ہو سکے لیکن اب تو وہ ڈیم مکمل ہو چکا ہے اور شروع ہونے کے قریب ہیں۔ اب صرف ماحولیات کے لیے ضروری پانی کو ہی بنیاد بنایا جا سکتا ہے لیکن وہ کوئی اتنی طاقتور دلیل نہیں ہے۔ اگر اس کے لیے تین سو کیوسک پانی چھوڑنا پڑا تو وہ بھارت چھوڑ دے گا۔ ہم سے غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے جہلم کی ٹربیوری کے طور پر پہلے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔ اگر ہم اس کا پانی پہلے سے ہی استعمال کر رہے ہوتے، تو ہمارا مقدمہ مضبوط ہوسکتا تھا۔

مثال کے طور پر اگر ہم وہاں زراعت کو فروغ دیتے تو ہمارے پاس یہ دلیل ہوتی ہے کہ ہم اس کو زراعت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن ہم نے وہاں زراعت کو فروغ ہی نہیں دیا۔ اس کے باوجود ہم نے کہا کہ وہاں زراعت ہوتی ہے۔ جب عالمی مبصرین نے وہاں کا دورہ کیا تو انہیں زراعت ہوتی ہوئی نظر نہیں آئی جس سے ہمارا کیس مزید کمزرو ہوا۔ نیلم جہلم انیس سونوے سے بھی پہلے کا منصوبہ ہے لیکن ہم نے اب کہیں جا کر اس کو بنایا ہے۔ اگر یہ تعمیر پہلے ہو چکی ہوتی تو ہمارا مقدمہ مضبوط ہو سکتا تھا کیونکہ ایسی صورت میں بھارت کے لیے پانی کے بہاؤ کو متاثر کرنا یا کم کرنا مشکل ہوجاتا۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’پہلے پانی کے معاہدوں میں ماحولیات اور سماجی اثرات کے حوالے سے شقیں نہیں ہوتی تھی لیکن اب ہوتی ہیں۔ ہم اب یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہاں بڑے پیمانے پر سیاح آرہے ہیں اور اعداد وشمار یہ ثابت بھی کرتے ہیں کہ گزشتہ کچھ برسوں میں سیاح کی ایک بڑی تعداد نیلم وادی آئی ہے۔ گو کہ یہ کوئی بہت بڑی دلیل نہیں ہے لیکن پھر بھی ہمارے پاس کچھ تو ہونا چاہیے۔ اس کو ایک انسانی مسئلے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ آنے والی دہائیوں میں پانی کا مسئلہ بہت سنگین ہونے جارہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بھی بڑھے گی، ’’سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت چار اعشاریہ چھ ایم اے ایف پانی ذخیرہ کر سکتا ہے۔ اس وقت بھارت دو ایم اے ایف سے زیادہ پانی ذخیرہ کر رہا ہے اور باقی ہمارے پاس آجاتا ہے لیکن بھارت میں نئے ڈیموں کی تعمیر کے بعد یہ پانی ہمارے پاس نہیں آئے گا، جس کی وجہ سے پانی کی قلت اور شدید ہوجائے گی۔ اس تناظر میں دونوں ملکوں میں تلخی بڑھے گی اور تعلقات بھی کشیدہ ہوں گے۔‘‘

کشن گنگا منصوبے پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے باندی پور نامی علاقے میں 2007ء سے کام شروع کیا گیا تھا، جو 2016ء میں اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ اس منصوبے پر 846 ڈالر کی لاگت آئی ہے۔

لیکن فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے آبی ا مورکے ماہر عرفان چوہدر ی کے خیال میں صورتِ حال پاکستان کے حق میں اس حد تک خراب نہیں ہے کہ پاکستان اپنا مقدمہ ہی ہار جائے، ’’معاملہ صرف پروجیکٹ مکمل کرنے کا ہی نہیں ہے بلکہ اس کو آپریشنل کرنے کا بھی ہے۔ میر ی اطلاعات کے مطابق ابھی کشن کنگا آپریشنل نہیں ہوا ہے جب کہ نیلم جہلم آپریشنل ہو چکا ہے۔ تو یہ بہت مضبوط نکتہ ہے۔ اگر پاکستان اس کو بنیاد بناتا ہے تو اس نقطے کو نظر انداز کرنا ورلڈ بینک کے لیے آسان نہیں ہو گا اور ورلڈ بینک میں کئی فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں، جہاں ماہرین کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’بھارت اور پاکستان دونوں ہی دریائے نیلم سے پانی نکال کر دریائے جہلم کی طرف کر رہے ہیں اور پھر اس سے بجلی پیدا کی جائے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھارت نے ایسا کیا تو ہماری پیداوار نو سو ساٹھ میگا واٹس کے بجائے چار سو پچاس کے قریب ہو جائے گی، جس سے ہمیں بہت نقصان ہوگا اور دونوں ملکوں میں تلخی بڑھے گی۔ اس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ بھارت میں انتہا پسند جماعتیں پہلے ہی پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو ووٹ بڑھانے کے لدے استعمال کرتی ہیں۔ اس تناظر میں یہ مسئلہ خطرناک صورتِ اختیار کر سکتا ہے۔‘‘

 

Print Friendly, PDF & Email
یورپ میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے مطابق تقریباﹰ پینسٹھ ہزار مہاجرین کے اسمگلروں کو تلاش کیا جارہا,یوروپول
کشمیر میں بھارت فورسز کے تشدد کے خلاف عوامی مظاہرہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »