آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے     No IMG     نیازی صاحب کی نااہلی نے پاکستان کو ایشیا کی بدترین معیشت بنا دیا,مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف     No IMG     ایران سے بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکا کی جانب سے اپنی ائیرلائنز کو خلیجی فضائی حدود میں محتاط رہنے کی ہدایت     No IMG     آصف علی زرداری کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات     No IMG     سمندر میں تیل، گیس کے ذخائر نہ مل سکے، ڈرلنگ روک دی گئی, ندیم بابر     No IMG     شامی فوج کے فضائی دفاعی سسٹم نے دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں اسرائیل کا ڈرون کو مار گرایا     No IMG     لالہ موسی میں قمر زمان کائرہ کے بیٹے اسامہ قمر اور ان کے دوست حمزہ آہوں سسکیوں میں سپرد خاک     No IMG     ملک چلانے کے لئے اسی قوم سے پیسہ اکٹھا کر کے دکھاؤں گا,وزیراعظم عمران خان     No IMG     عوام کو پتہ چلا کہ معاشی بدحالی کیا ہوتی ہے: مریم نواز     No IMG     وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دو روزہ سرکاری دورے پر کویت روانہ     No IMG     بارسلونا قونصلیٹ نے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان کردیا     No IMG     کوئٹہ میں بم دھماکے کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی     No IMG     امریکہ نے ایک پاکستانی کمپنی سمیت متعدد اداروں پر پابندی عائد کردی     No IMG     بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کے لیڈرکی بیٹی نامعلوم افراد کی چھیڑ چھاڑ     No IMG     ضلع کشمور کی تحصیل کندھ کوٹ میں ایک مسافر وین میں سلنڈر پھٹنے سے 2 بچوں اور 2 خواتین سمیت 5 افراد جھلس کر جاں بحق     No IMG    

پاکستان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایران کے اہم دورے پر، صدر روحانی سے ملاقات
تاریخ :   07-11-2017

دورہٴ ایران (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) کے دوران، پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک ایران سرحد کو ’امن اور دوستی‘ کا بارڈر قرار دیتے ہوئے بہتری کے لیے سکیورٹی منیجمنٹ پر زور دیا، تاکہ دہشت گردوں کو اس کے غلط استعمال سے روکا جا سکے۔

پاک فوج کے شعبہٴ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، دورے میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں جن میں بارڈر سکیوٹی منیجمنٹ پر زور دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، آرمی چیف نے ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد بغیری سے جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹر میں ملاقات کی۔

ایرانی فوج کے جنرل سٹاف ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر آرمی چیف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جبکہ انہوں نے یادگار شہدا پر پھول بھی چڑھائے جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے صدارتی محل میں ایرانی صدر حسن روحانی اور وزارت خارجہ میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے بھی ملاقاتیں کیں۔

ترجمان کے مطابق، ایرانی قیادت نے پاکستانی آرمی چیف کے دورہ ایران پر شکریہ ادا کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

ایرانی قیادت کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام میں پاکستان کا کردار انتہائی مثبت ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں میں آرمی چیف اور ایرانی قیادت کے درمیان جیو اسٹریٹیجک ماحول، دفاع و سیکیورٹی اور دوطرفہ و علاقائی سطح پر اقتصادی تعاون پر تبالہ خیال کیا گیا۔

افغانستان کی صورتحال، خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرات اور پاک ایران سرحدی سکیورٹی صورتحال کے معاملات بھی ملاقاتوں میں زیر غور آئے۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اور ایران مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب والے دو برادر ممالک ہیں، جبکہ دونوں آرمیز کا بھی دفاعی اشتراک اور تعاون دہائیوں پر محیط ہے جس سے دونوں ممالک مشترکہ طور پر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

پاکستانی فوجی سربراہ کا یہ دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ حالیہ دنوں میں خطہ میں بھارت کی جانب سے اثر و رسوخ بڑھایا جا رہا ہے اور چند روز قبل ایرانی بندرگاہ کے ذریعے افغانستان کے ساتھ بھارت کی تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان صوبہ بلوچستان میں جاری شورش کے حوالے سے تحفظات رکھتا ہے اور ماضی میں پکڑے گئے مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ایران میں ایک عرصہ تک کاروباری ویزہ پر رہائش پذیر رہا اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا،

توقع ہے کہ جنرل باجوہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے۔

گزشتہ ہفتے ہی پاکستان کے لیے ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے راولپنڈی میں جنرل باجوہ سے ملاقات کی تھی جس میں دو طرفہ تعلقات خصوصاً سرحدی امور اور دفاع کے شعبے سے متعلق بات چیت ہوئی تھی۔

پاکستان اور ایران کے دیرنہ دوستانہ تعلقات ہیں لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں ان میں قدرے سردمہری غالب رہی تاہم حالیہ برسوں میں ان میں ایک بار پھر بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ کے دورہ ایران سے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف امور خصوصاً خطے کے حوالے سے پائے جانے والے عدم اعتماد کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

پاکستان مشرق وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش بھی کر چکا ہے۔

ایران ان چند ملکوں میں بھی شامل ہیں جس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اگست میں افغانستان اور جنوبی ایشیا کے لیے نئی پالیسی میں پاکستان کے لیے انتباہ پر اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا تھا۔

اس پالیسی کے سامنے آنے کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے اپنا دورہ امریکہ موخر کرتے ہوئے خطے میں دوست ممالک سے مشاورت کے لیے مختلف ملکوں کا دورہ کیا تھا جس میں ایران بھی شامل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
ا360بستروں پر مشتمل ہسپتال اگلے سال مکمل ہو گا، گردوں اور جگر کے غریب مریضوں کا علاج مکمل طور پر مفت ہوگا،وزیراعلیٰ پنجاب
، پاکستان اور ایران ؛اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دینے پر اتفاق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »