دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

پاکستانیوں کی بے دخلی کا سلسلہ جاری جمعرات کو چالیس پاکستانیوں کو امریکا، برطانیہ اور یونان سے بے دخل کیا گیا
تاریخ :   11-05-2018

اسلام آباد ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) مختلف ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کی بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے اور کل بروز جمعرات چالیس پاکستانیوں کو امریکا، برطانیہ اور یونان سے بے دخل کیا گیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کے ڈپٹی ڈائریکٹر( اینٹی ہیومن ٹریفیکنگ) چوہدری محمد اشفاق نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’صرف چالیس تارکینِ وطن کو واپس پاکستان بھیجا گیا ہے، جس میں سے ایک امریکا، ایک برطانیہ اور اڑتیس یونان میں مقیم تھے۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ جو پاکستانی اپنی ویزہ میعاد ختم ہونے کے بعد ڈی پورٹ کیے جاتے ہیں وہ غیر قانونی طور پر ملک چھوڑ کر جانے والوں میں شمار نہیں ہوتے بلکہ جن افراد کے کوئی سفری کاغذات میسر نہ ہوں، وہ اس تعریف میں آتے ہیں۔ واپس آنے والے افراد کا تعلق گوجرنوالہ سے تھا۔ انہیں ایف آئی اے گوجرنوالہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے مزید تفتیش کی جائے گی۔‘‘
تاہم ڈوئچے ویلے نے جب ایف آئی آئی گوجرنوالہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مفخرعدیل سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا ان تما م افراد کو رہا کر دیا گیا ہے، ’’ان تمام افراد سے تفتیش کی گئی ہے اور تفتیش کے بعد ان کی ایک پروفائل بنائی جاتی ہے، جو بنا لی گئی ہے۔ اس کے بعد ان کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق منڈی بہاوالدین اور گجرات سے تھا۔‘‘
ماہرین کا خیال ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں معاشی ترقی کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے ان ممالک میں نہ صرف معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں بلکہ وہاں تارکینِ وطن کے خلاف نفرت بھی بڑھ رہی ہے۔ اس لیے یہ ممالک مقامی افراد کو روزگار دینے کے لیے غیر ملکیوں کو بے دخل کر رہے ہیں۔ یورپ سمیت دنیا کے دوسرے خطوں میں تارکین وطن کے خلاف غصہ بڑھتا جارہا ہے اور کئی سیاسی جماعتیں ان تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات کا وعدہ کر کے انتخابات جیتنے کی بھی کوشش کر رہی ہیں۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر نہ صرف یورپ و امریکا سے غیر ملکی تارکین وطن کو نکالنے کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے بلکہ اب کچھ دوسرے ممالک بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ مفخر عدیل کا کہنا ہے کہ صرف گوجرنوالہ میں ہر مہینے تقریباً دو سو بے دخل افراد واپس آرہے ہیں۔
پاکستان میں اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ جو لوگ انہیں بھیجتے ہیں۔ ان کے خلاف کیا اقدامات کیے جارہے ہیں۔ مفخر عدیل نے اس سوال کو جواب دیتے ہوئے کہا، ’’صرف گزشتہ سال نومبر سے اب تک ہم نے کوئی 63 گینگ پکڑے ہیں جو اس طرح کے کام میں ملوث ہیں۔ ان پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور انکو سزائیں بھی ہوں گی۔‘‘
پاکستان میں معاشی بدحالی کی وجہ سے بہتر مستقبل کے خواب لیے ہر سال ہزاروں پاکستانی یورپی ممالک، امریکا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک طارق حسین ہیں۔ جو نوے کی دہائی میں برطانیہ گئے اور اب وہ وہاں ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے تارکینِ وطن کی زندگی کے حوالے سے اپنے تاثرات دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میں نوے کی دہائی میں برطانیہ آیا اور مجھے ایک ہی سال بعد بے دخل کر دیا گیا۔ میں واپس یہاں آیا اور دن رات محنت کر کے اپنے اور گھر والوں کے معاشی مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔ میرے خیال میں ہجرت کا یہ سلسلہ اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک ترقی پزید ممالک میں روزگار کے خاطر خواہ مواقع فراہم نہ ہوں اور ہر شخص کو زندگی کی بنیادی ضروریات آسانی سے میسر نہ آجائیں۔ اب بھی یورپ و امریکا جانے کے لیے لوگ کئی کئی لاکھ روپے خرچ کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں پاکستان میں ان کا مسقتبل روشن نہیں ہے۔‘‘
لیکن کئی تجزیہ نگاروں کے خیال میں صرف معاشی مسئلہ ہی اہم نہیں ہے۔ پاکستان سے ہزارہ کمیونٹی کے سینکڑوں افراد نے صرف اس لیے اپنے وطن کو چھوڑا کیونکہ انہیں جان کا کوئی تحفظ نہیں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
جنوبی افریقہ مسجد میں نمازیوں پر دہشت گردوں نے چاقو سے حملہ کردیا امام مسجد سمیت 3 افراد جاں بحق
ضلع بنوں میں دہشت گردوں کے حملے میں 1 سکیورٹی اہلکار ہلاک 10 زخمی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »