آرمی چیف سے بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر کی ملاقات     No IMG     اسرائیل کی جیل میں آگ بھڑک اٹھی، کئی کمرے جھلس گئے     No IMG     اسرائیلی فوج کی گھر گھر تلاشی15 فلسطینی شہری گرفتار     No IMG     وزیر ریلوے شیخ رشید کی نا اہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر     No IMG     فضائی حدود کی بندش، ائیرانڈیا کو کروڑوں کا نقصان     No IMG     دہشت گردی کا کوئی دین اور نسل نہیں ہوتی ,سعودی وزیر خارجہ     No IMG     ایران، عراق اور شامی افواج کے خون نے تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا, بشار الاسد     No IMG     آصف زرداری اور فریال تالپور کی 10 دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور     No IMG     سابق وزیراعلی شہباز شریف کے خلاف ایک اور انکوائری شروع     No IMG     کینیڈین وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت     No IMG     روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ وہ روس میں کرائسٹ چرچ جیسا دہشت گرد حملہ نہیں ہونے دیں گے     No IMG     برطانوی حکام نے نیوزی لینڈ کی مسجدوں میں ہوئی دہشت گردی کی طرز پر برطانیہ میں بھی واقعات پیش آنے کا خدشہ     No IMG     نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا     No IMG     نیوزی لینڈ مساجد پر دہشت گرد حملے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیان پر میڈیا کی تنقید سے برہم     No IMG     نیوزی لینڈ کی قومی فٹسل ٹیم کے گول کیپر عطا الیان بھی کرائسٹ چرچ واقعے میں شہید     No IMG    

وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں کچھ بہتری
تاریخ :   12-10-2018

واشنگٹن( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) کیا پاکستان کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے۔ اس بارے میں امریکی اور پاکستانی تجزیہ کاروں اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ تعلقات وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے، تاہم مزید بات چیت کے راستے

کچھ ہموار ہوئے ہیں۔کیا پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ جواب میں مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ میں قائم پاکستان سینٹر کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر مارون وائن بام کا کہنا تھا کہ تعلقات وہیں کھڑے ہیں جہاں تھے۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے بارے میں یہ نہیں کہوں گا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں برف کچھ پگھلی ہے، بلکہ مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ ایک وقفہ ہے، ایک توقف ہے۔ اور اگر کوئی غیر معمولی واقعہ نہ ہوا جس سے منظر نامہ تبدیل ہو جائے، تو دونوں جانب سے بات کوئی زیادہ آگے نہیں بڑھے گی۔جب یہ سوال ایف سی کالج لاہور میں شعبہ سیاسیات کے سربراہ ڈاکٹر فاروق حسنات سے کیا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ تعلقات اگر بہتر نہیں ہوئے تو بگڑے بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جیسے پہلے تعلقات تھے، بات اس سے آگے نہیں بڑھی۔ البتہ بات چیت کا دروازہ ضرور کھلا ہے۔ اور اس میں افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زادہ پاکستان آئے اور ان سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔ تو میرے نزدیک دروازہ ضرور کھلا ہے۔پاکستان کے لئے امریکہ کے سابق سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اپنے دورے کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ نے حالات کا بہت مثبت اور مناسب تعین کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے لئے افغانستان کا سوال بہت اہم ہے، جو کہ ایک مثبت بات ہے۔ مگر مجھے اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے کسی نئی کوشش کا تذکرہ نہیں ملا۔دورے کے بعد، دونوں ممالک کی وزارت خارجہ نے جو پریس ریلیز جاری کیں، ان میں پہلی بار کچھ یکسانیت پائی گئی۔ اس بارے میں ڈاکٹر وائن بام کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی نتیجہ خیز بات سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم ایک ہی صفحے پر ہیں یعنی ہمارے خیالات میں یکسانیت ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو اس صفحے پر ہے وہ واضح نہیں ہے، سوائے اس کے کہ ہم مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اور نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ دونوں جانب سے پریس ریلیزیں تو جاری ہوئیں لیکن کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ڈاکٹر حسنات کہتے ہیں کہ دونوں ملک اپنے زاویے سے پریس نوٹ جاری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہ اپنے اپنے مطلب کی گنجائش رکھتے ہوئے، اس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں کہ دونوں اس کی تشریح اپنی مرضی کے مطابق کر لیں۔ اور اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ بات چیت پر جمود نہ طاری ہو بلکہ بات چیت کو آگے رکھا جائے، چاہے وہ اس تشریح اپنی مرضی سے کریں۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا تعلقات میں بہتری دونوں ممالک کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ڈاکٹر وائن بام کہتے ہیں کہ نہیں۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ دونوں کی توجہ کا مرکز خارجہ پالیسی کی بجائے ان کی دیگر باتوں پر ہے۔ اس وقت ان کی اولین ترجیحات اور ہیں۔ پاکستان کے لئے اس وقت اس کی اندرونی پالیسی اولین ہے۔ جس پر انہیں توجہ مرکوز رکھنی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات بعد کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ڈاکٹر فاروق کہتے ہیں کہ ایک تو ترجیحات کی بات ہے اور دوسرا یہ ہے کہ جو اسٹریٹیجک شراکت داری ہے وہ اب امریکہ اور پاکستان کی نہیں رہی۔ وہ اب امریکہ اور بھارت میں ہو گئی ہے، اور پاکستان چین کے ساتھ اور روس کے ساتھ تعلقات بنا رہا ہے۔ اس لئے یہ ترجیحات تو نہیں ہو سکتیں کہ آئیے مل بیٹھیے اور پھر وہ جو سرد جنگ کا دور تھا اس کی طرح ہم تعلقات بنا لیں ، تو ایسا یقیناً نہیں ہے۔ تاہم تمام تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ اگر تعلقات اچھے نہیں ہوئے تب بھی ایک دوسرے کے موقف کو بہتر طور پر سنا اور سمجھا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
ہتھکڑی مجاہد کامران اور پروفیسرز کی موت ہے, میں استاد کی بے حرمتی برداشت نہیں کروں گا, چیف جسٹس آف سپریم کورٹ
جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں 3 اہلکار جاں بحق
Translate News »