وینزویلا سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ نوجوان لڑکی نے ملکہ حسن کا ٹائٹل جیت لیا     No IMG     حزب اللہ کی ايک اور سرنگ دريافت ,اسرائیلی فوج کا دعوی     No IMG     عوام اپنے مسائل کے حل کیلیے وزیر اعظم کمپلینٹ پورٹل کا استعمال کریں،وزیراعظم     No IMG     سابق صدر آصف زرداری نے پنجاب کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دے دی     No IMG     رشوت کا سب سے بڑا ناسور پٹواری ہیں, چیف جسٹس     No IMG     فرانسیسی پولیس نے پیلے رنگ جیکٹس والے مظاہرین پر شدید تشدد     No IMG     اسلام آباد تھانہ سہالہ میں شدید فائرنگ, بدنام زمانہ شیرپنجاب جاں بحق     No IMG     اگر گرفتار ہوا تو کیا ہوگا کیونکہ جیل تو میرا دوسرا گھر ہے, آصف علی زرداری     No IMG     امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا نیا وزیر داخلہ مقرر کرنے کا اعلان     No IMG     اٹلی میں ہزاروں مظاہرین نے مہاجر مخالف قوانین کے خلاف مظاہرہ     No IMG     پاکستانیوں کے دل پر آرمی پبلک سکول (اے پی ایس ) پشاور میں لگنے والے زخم کو چار سال مکمل ہوگئے     No IMG     رائے ونڈ, چینی انجنئیر، جیا جینیفر پر دل ہار بیٹھا     No IMG     سپین میں یہ بیٹا ایک سال تک ماں کی لاش کے ساتھ کیوں رہا ؟     No IMG     سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے صحافی جمال خاشقجی کے قاتل سعود القحطانی کو معاف کردیا     No IMG     سری لنکن صدر نے برطرف وزیر اعظم کو دوبارہ وزیر اعظم منتخب کرلیا     No IMG    

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی طرح غیر جانبدار اور آزاد میڈیا بھی ملک کے لئے ضروری ہ
تاریخ :   30-05-2018

اسلام آباد ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی طرح غیر جانبدار اور آزاد میڈیا بھی ملک کے لئے ضروری ہے، پاکستان کو 2013ء سے کہیں بہتر حالت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں، تنقید کے ساتھ ساتھ مثبت رپورٹنگ بھی ضروری ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے مسائل کے باوجود ترقی کا سفر جاری رکھا، خواہش ہے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوںحکومت نے پہلے دن سے آزادی صحافت کا فیصلہ کیا اور سیکرٹ فنڈ کا کبھی بھی استعمال نہیں کیا گیا، گزشتہ پانچ سالوں کے دوران سیکرٹ فنڈ کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا، ہمارا مقصد یہ نہیں کہ صرف حکومت کی تعریف کی جائے بلکہ تنقید کے ساتھ ساتھ مثبت رپورٹنگ بھی ضروری ہے، مثبت رپورٹنگ ملک کی ترقی کے لئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے، غلط اطلاعات پر مبنی خبر کی اشاعت کے بعد اس کی تردید بھی ہونی چاہیے اور میڈیا اس حوالے سے میکنزم تیار کرے کہ کسی قسم کی غلط خبر کی تردید کی اشاعت بھی ہو سکے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ پانچ سال کے دوران آزادی رائے کے اقدامات کئے ہیں اور ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ کسی پر کوئی دبائو نہ ڈالا جائے، مسائل کے باوجود ترقی کا سفر جاری رکھااور خواہش ہے کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات ہوں۔بدھ کو آل پاکستان نیوز پیپرزسوسائٹی ( اے پی این ایس) کی ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ اے پی این ایس کے ایوارڈز کی تقریب تاریخی حیثیت کی حامل ہے اور اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اے پی این ایس کی تقریب سے خطاب میرے لئے باعث فخر ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جب سے ہماری حکومت قائم ہوئی تو ہم نے پہلے دن یہ فیصلہ کیا تھاکہ صحافت اور رپورٹنگ میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہو گی اور کسی سیکرٹ فنڈز کااستعمال نہیں کیا جائے گا جس کے آپ گواہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ میڈیا بہتر جانتا ہے کہ ہم ان چیزوں پر پورا اترے کہ نہیں۔ وزیرا عظم نے کہاکہ ماضی میں سیکرٹ فنڈ کااستعمال ہوتا تھا اور حوالے سے آئی بی کے سیکرٹ فنڈ سے اربوں روپے استعمال ہوتے تھے لیکن گزشتہ پانچ سال کے دوران سیکرٹ فنڈ سے ایک روپیہ بھی استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ فرق ہے ماضی کی حکومتوں اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا ۔ انہوں نے کہاکہ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اطلاعات تک رسائی کی ذمہ داری کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکے۔اس میں ہمیں کامیابی ملی یا نہیں آپ بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے تھے کہ صحافیوں پر کوئی دبائو یالالچ نہ ہو اور نہ ہی پریس کے معاملات میں مداخلت کی جائے۔ ہماری حکومت نے اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے ہمیشہ کوشش کی ہے اور اس حوالے سے ہم نے کبھی بھی شکایت کااظہار نہیں کیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میری یہ ذاتی خواہش رہتی ہے کہ اخبارات اور میڈیا میں کچھ مثبت خبریں بھی آنی چاہئیں تاکہ حکومت کی کارکردگی اجاگر ہو کیونکہ اشتہارات سے اس کو صحیح طریقے سے اجاگر نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ مثبت رپورٹنگ ملک و قوم کی ترقی کے لئے ضروری ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ منفی خبریں سن سن کر پریشان رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میرا اور میڈیا کا تعلق سب کے سامنے ہے اور آپ سب جانتے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ جب منفی خبریں چھپتی ہیں تو ان کا اثر بھی ہوتا ہے تاہم میری یہ خواہش ہے کہ اسی طرح مثبت خبریں بھی چھپنی چاہئیں تاکہ حکومت کی کارکردگی سے عوام کو آگاہ کیا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ حکومت دن میں کام کرتی ہے اور رات کو میڈیا پر اپنے کئے گئے کاموں کا دفاع کرتی ہے اور اس طرح صرف ہمارے ہی ملک میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی وزیر کے لئے جہاں قابلیت ضروری ہے وہاں پر اس کے لئے میڈیا ہینڈلنگ بھی ضروری ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میری خواہش ہے کہ میڈیا رپورٹس مثبت اور بامقصد ہونی چاہیے اور نیوز آئٹمز میں حکومت اورملک کے حوالے سے مثبت خبریں بھی عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ اخبارات کو چلانا ناممکن بنتا جا رہا ہے اور اس حوالے سے حکومت کا کردار بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اخبارات کو اشتہارات فراہم کرکے ان کے اظہار رائے کی آزادی پر اثر انداز نہیں ہوئی اور ہم نے ہمیشہ توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اشتہارات کے نرخوں میں شفافیت قائم رکھی گئی ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات صارفین کے لئے قیمتوں کے حساس اشاریے (سی پی آئی) کے حوالے سے ایک کمیٹی قائم کریں جو معاملات کا جائزہ لے تاکہ اخبارات کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ سی پی آئی معاشرے کے تمام افراد پراثر انداز ہوتا ہے اوراس کی انڈیکسیشن کا کوئی نظام موجود ہونا بہت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صحافی برادری اور پرنٹ میڈیا اشتہارات کے نرخوں کو طے کرنے کے حوالے حکومت کی مدد کرے کیونکہ میڈیا کے حوالے سے آج اصلاحات کی جتنی ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی اور اے پی این ایس اس حوالے سے لیڈر کا کردارادا کرے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں خود احتسابی اور قوانین پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا کو چاہیے کہ کسی بھی چھپنے والی خبر کی تصدیق کے لئے خود قوانین بنائے کیونکہ جدید دنیا میں سنسر شپ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ سب جانتے ہیں کہ گزشتہ کئی عشروں میں سنسر شپ کا نظام موجود تھا لیکن اس کا کوئی مثبت اثر نہیں ہوتا تھا۔انہوں نے کہاکہ موجودہ دور میں اطلاعات تک رسائی کے کئی ذرائع موجود ہیں اور سنسر شپ سے وقتی فوائد تو حاصل ہو سکتے ہیں لیکن یہ ملک کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہاکہ پرسوں ہم حکومت میں نہیں ہوگے لیکن ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم اپنے خلاف تمام معاملات میں غیر جانبدار رہے۔ ہمیں تنازعات سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ جس طرح آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ملک کے لئے ضروری ہیں اسی طرح غیر جانبدار اور آزاد میڈیا بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کو جس طرح کا پاکستان ملا تھا آج اس سے کہیں بہتر حالت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ہم نے امن وامان، بجلی،، گیس ، سرمایہ کاری کے ماحول اور مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو میں اضافہ کے لئے جامع اقدامات کئے جو آپ کے سامنے ہیں اور کئی چلینجز کے باوجود حکومت نے ترقی کا سفر جاری رکھا اور گزشتہ 65 سالوں کے دوران کئی شعبوں میں اتنے کام نہیں کرائے گئے جتنے ترقیاتی کام گزشتہ پانچ سالوں میں ہوئے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے قلیل عرصے اور مسائل کے باوجود وہ کام کئے ہیں جو گزشتہ حکومتیں 65 سالوں میں بھی نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہاکہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے لواری ٹنل کا افتتاح کیا تو میں دسویں جماعت میں پڑھتا تھا ۔ اب چالیس پینتالیس سال کے عرصے کے بعد ہماری حکومت نے 28 ارب روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ مکمل کیا ہے۔ اسی طرح گوادر میں بھی کئی منصوبوں پر آٹھ آٹھ افتتاحی تختیاں لگی ہوئی ہیں لیکن کام صرف ہم نے مکمل کیا اور ترقی کا سفر جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے کئی شعبوں میں اصلاحات بھی متعارف کرائی ہیں اور اگر اللہ نے موقع دیا تو خدمات کاسفر مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ملک کی ترقی کے لئے درست سمت کاتعین کر دیا ہے اور خواہش ہے کہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہوں۔ بلوچستان اور سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔ وزیر اعظم نے دعا کی کہ ہم سب مل کر ملک اور جمہوریت کی خدمت کا یہ سفر جاری رکھیں۔

Print Friendly, PDF & Email
شیخ رشید پر قسمت مہربان تا حیات نا اہل ہونے سے بچ گئے
پاکستان مسلم لیگ ن نے عام انتخابات میں ٹکٹیں تقسیم کرنے کے حوالے سے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »