آرمی چیف سے بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر کی ملاقات     No IMG     اسرائیل کی جیل میں آگ بھڑک اٹھی، کئی کمرے جھلس گئے     No IMG     اسرائیلی فوج کی گھر گھر تلاشی15 فلسطینی شہری گرفتار     No IMG     وزیر ریلوے شیخ رشید کی نا اہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر     No IMG     فضائی حدود کی بندش، ائیرانڈیا کو کروڑوں کا نقصان     No IMG     دہشت گردی کا کوئی دین اور نسل نہیں ہوتی ,سعودی وزیر خارجہ     No IMG     ایران، عراق اور شامی افواج کے خون نے تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا, بشار الاسد     No IMG     آصف زرداری اور فریال تالپور کی 10 دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور     No IMG     سابق وزیراعلی شہباز شریف کے خلاف ایک اور انکوائری شروع     No IMG     کینیڈین وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت     No IMG     روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ وہ روس میں کرائسٹ چرچ جیسا دہشت گرد حملہ نہیں ہونے دیں گے     No IMG     برطانوی حکام نے نیوزی لینڈ کی مسجدوں میں ہوئی دہشت گردی کی طرز پر برطانیہ میں بھی واقعات پیش آنے کا خدشہ     No IMG     نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا     No IMG     نیوزی لینڈ مساجد پر دہشت گرد حملے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیان پر میڈیا کی تنقید سے برہم     No IMG     نیوزی لینڈ کی قومی فٹسل ٹیم کے گول کیپر عطا الیان بھی کرائسٹ چرچ واقعے میں شہید     No IMG    

وزیرِ اعظم عباسی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے “بالآخر افغانوں کو ہی بیٹھ کر بات کرنا ہو گی۔”
تاریخ :   05-02-2018

اسلام آباد (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے افغانستان کے مسئلے کے کسی فوجی حل پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقین کے امن مذاکرات میں شریک ہونے سے ہی اس ضمن میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے ‘بلومبرگ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایک بار پھر وزیرِ اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی پالیسی پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد طالبان سے مذاکرات میں مدد دینے کے لیے تیار رہا ہے۔

وزیرِ اعظم عباسی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے “بالآخر افغانوں کو ہی بیٹھ کر بات کرنا ہو گی۔”

حالیہ دنوں میں کابل میں پے در پے دہشت گرد حملوں کے بعد صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ طالبان سے بات نہیں کی جائے گی۔ جب کہ افغان صدر اشرف غنی کے ایک ترجمان نے ان حملوں کے تناظر میں کہا تھا کہ عسکریت پسندوں نے “سرخ لکیر” عبور کر لی ہے۔

پاکستان اپنے اس موقف پر زور دیتا آیا ہے کہ افغان تنازع کا حل سیاسی مذاکرات سے ہی ممکن ہے اور اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔

امریکہ اور افغانستان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ افغان علاقوں میں سرگرم طالبان شدت پسندوں کے رہنما اور حقانی نیٹ ورک کے جنگجو پاکستان میں موجود ہیں جن کے خلاف پاکستان کارروائی نہیں کر رہا۔ لیکن اسلام آباد ان دعوؤں کو مسترد کرتا آیا ہے۔

اپنے انٹرویو میں وزیرِ اعظم عباسی کا کہنا تھا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں کہ پاکستان ان عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے جو سرحد پار افغانستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔

انھوں نے گزشتہ نومبر میں طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے مبینہ طور پر وابستہ 27 افراد کی افغانستان حوالگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ “معمول” کے مطابق قیدیوں کا تبادلہ تھا۔

“یہ افغان شہری تھے جنہیں پاکستان میں گرفتار کیا گیا۔ یہ ہمارے ہاں کسی دہشت گرد حملے میں ملوث نہیں تھے۔ بصورت دیگر ہم یہیں پر ان کے خلاف مقدمات چلاتے۔ لہذا ہم نے انھیں افغانوں کے حوالے کر دیا۔”

امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق سخت مؤقف کے باوجود پاکستانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ بات چیت اور انٹیلی جینس تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان کے بقول پاکستان کے لیے امریکی فوجی امداد پہلے ہی “بہت معمولی” تھی اور اتحادی اعانتی فنڈ کی مد میں پاکستان کو اب بھی اربوں ڈالر وصول کرنے ہیں۔

امریکہ نے دہشت گردوں کے خلاف مبینہ طور پر فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے کی بنیاد پر گزشتہ سال کے اختتام پر پاکستان کی فوجی امداد معطل کر دی تھی جس کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
اسرائیل نے افریقی مہاجرین کو ملک چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا
وفاقی وزیر داخلہ نے گلگت بلتستان کے وزارت داخلہ کو خبر دار کیا کہ بھارت، پاک چین اقتصادی راہداری کی تنصیبات پر حملے کرواسکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »