وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے پاک برطانیہ اور پاکستان سکاٹ لینڈ بزنس کونسل کے وفد کی ملاقات     No IMG     حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا آئی ایم ایف نے بیل آوٹ پیکج کیلئے اپنی شرائط سخت کردیں     No IMG     آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آرمی سروس کور سینٹر نوشہرہ کا دورہ     No IMG     جاپانی وزیراعظم شینزو آبے آسٹریلیا پہنچ گئے     No IMG     کیلیفورنیا ,کی جنگلاتی آگ ، ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی     No IMG     برطانوی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اگلے ہفتے پیش ہو سکتی ہے     No IMG     ملائیشین ہائی کمشنر اکرام بن محمد ابراہیم کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات     No IMG     امریکی بلیک میلنگ کا مقصد حماس کی قیادت کو نشانہ بنانا ہے     No IMG     زمبابوے بس میں گیس سیلنڈر پھٹنے سے 42 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے     No IMG     زلفی بخاری کیس: ’دوستی پر معاملات نہیں چلیں گے‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار     No IMG     غزہ پرحملے, اسرائیل کو 40 گھنٹوں میں 33 ملین ڈالر کا نقصان     No IMG     تنخواہیں واپس لے لیں سپریم کورٹ کاحکم آتے ہی افسران سیدھے ہو گئے     No IMG     پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن باؤلرز کے نام     No IMG     چودھری پرویز الٰہی اپنے ہی جال میں پھنس گئے     No IMG     ق لیگ نے پاکستان تحریک انصاف کیخلاف بغاوت کردی     No IMG    

وزیراعظم 2 نومبرسےچین کاچارروزہ سرکاری دورہ کریں گے
تاریخ :   29-10-2018

اسلام آباد( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو )وزیراعظم عمران خان چین کی قیادت کی دعوت پر اگلے ماہ کی دو تاریخ سے چین کا چار روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان دو نومبر کو چین کے دورے پر جائیں گے، وزیراعظم دورے میں چین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جس

میں سی پیک اوردیگر شعبوں میں تعاون کے معاملات زیرغورآئیں گے۔یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیےاگست دوہزار اٹھارہ میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ وزیراعظم کا چین کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر ریلوے شیخ رشید اور خسرو بختیار بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔اس سے قبل پچیس اکتوبر کو ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ دورہ سعودی عرب میں وزیراعظم عمران خان قرض اور تیل ہی نہیں لائے، پاکستانی ورکرز کے لیے ویزہ فیس بھی کم کروادی ہے ۔ اب دو نومبر کو عمران خان تین روزہ سرکاری دورے پر چین بھی جائیں گے۔چھبیس اکتوبر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے چین کے سفیر یاؤ جنگ نےکہا کہ ہم نیا پاکستان ویژن کو دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ عمران خان کی پالیسیاں چینی اصلاحات سے ممثاثلت رکھتی ہیں۔ چین بھی اپنے تجربات سے آگاہ کرے گا۔چین کے سفیر یاؤ جنگ کا کہنا تھا کہ سی پیک کے بائیس میں سے دس منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ بارہ پرکام جاری ہے۔ سی پیک پاک چین تعلقات کا محور و مرکز ہے۔ چینی قیادت وزیراعظم عمران خان کے دورہ کی بے چینی سے منتظر ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک کا منصوبہ پاک چین تعلقات کا محور و مرکز ہے جس پر انتہائی شفافیت اور تیزی کے ساتھ کام جاری ہے۔ سی پیک کے بائیس منصوبوں میں سے دس مکمل ہوچکے ہیں جبکہ بارہ پر کام جاری ہے۔یاؤ جنگ نے مزید کہاکہ اگلے مرحلے میں سی پیک کو مزید توسیع دی جائے گی۔ پاکستان بین الااقوامی برادری کا ذمہ دار ملک ہے، جس نے افغان امن میں اہم کردار ادا کیا۔اس سے قبل تئیس اکتوبر کو وزیر اعظم عمران خان نے سعودی فرمانروا خادمین حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیےدونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعاون کو مزید بڑھانے اور متنوع کرنے کیلئے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ جبکہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات کے امور پر بھی بات چیت کی گئی۔وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی محنت کشوں اور مزدوروں سے متعلقہ مسائل پر بھی بات چیت کی۔ جس پر سعودی فرما نروا شاہ سلمان کی جانب سے متعلقہ وزارت کو پاکستانیوں کو درپیش مسائل کےحل کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کی تھی۔سعودی فرمانروا اور وزیراعظم پاکستان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر اطلاعات فواد چوہدری، مشیرتجارت عبد الرزاق داؤد، وزیر مملکت ہارون شریف اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر خان ہشام بن صدیق بھی موجود تھے۔اس سے قبل ریاض میں منعقدہ عالمی کانفرنس میں سوال و جواب کے سیشن کے دوران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں اقتدار میں آئے ہوئے ابھی 60 دن ہوئے ہیں۔ ہمیں اپنی برآمدات بڑھانی ہیں

تاکہ زرمبادلہ بڑھا یاجاسکے،یہی وجہ ہے کہ ہم نے قرض کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کیا، انہوں نے واضح کیا کہ نئے پاکستان کا مطلب اپنی اصل بنیادوں کی طرف واپس جانا ہے۔یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیےکانفرنس سے خطاب کے دوران ہمیں فوری طور پر کرنٹ خسارے کے مسئلے کا سامنا ہے۔ منی لانڈرنگ ترقی پذیر ممالک میں بڑا مسئلہ ہے، ہم جو بھی اقدامات کریں گے آنے والے دنوں پر اس کا مثبت اثر ہوگا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ان دو ممالک میں شامل ہے جو نظریے کی بنیاد پر بنے،نیا پاکستان قائد اعظم کے اصولوں کے مطابق بنانا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ انصاف فراہم کرنے والے اداروں کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ پاکستان کو ایک آئیڈیل مسلم ریاست بنانا ہے۔ ہمیں مالیاتی اور جاری کھاتوں کا خسارہ ملا ہے۔ ہماری اولین ترجیح برآمدات میں اضافہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بینکنگ چینلز سے ترسیلات بھیجنے والوں کو رعایت دیں گے۔ جو بھی اصلاحات ہوں گی اس کے نتائج 3 سے 6 ماہ میں آنا شروع ہوں گے۔ آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے مدد کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے اور اس منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 50 لاکھ گھر تعمیر کیے جائیں گے، جس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھی امید ہے۔پاک، چین اقتصادی راہداری سی پیک کو پاکستان کے لیے بہت اہم اقتصادی منصوبہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک سے پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ ہوا،ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کے لیے بہت بڑی مارکیٹ ہے اور سی پیک کے لیے گوادر جیسے اقتصادی زونز کو ترقی دے رہے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے پر توجہ نہیں دی گئی، لیکن ہماری حکومت آئی ٹی سیکٹر پر توجہ دے رہی ہے،ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان سے منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان مستقبل کے لئے سرمایہ کاری کے اقدامات کے بارے میں کانفرنس میں شرکت کے لئے سعودی عرب پہنچے تھے، وہ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں مدینہ منورہ پہنچے، مدینہ کے گورنرشہزادہ فیصل بن سلمان نے ہوائی اڈے پروزیراعظم کااستقبال کیا۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی ،وزیرخزانہ اسدعمر، وزیراطلاعات فوادچوہدری، مشیرتجارت عبدالرزاق اورسرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہارون شریف بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں،وزیراعظم یہ دورہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی دعوت پرکررہے ہیں۔”ڈیووس اِن دی ڈیزرٹ” کے عنوان سے کانفرنس میں سرکردہ کاروباری شخصیات ، سرمایہ کاروں ، بڑی کمپنیوں ، ہائی ٹیکنالوجی کی صنعت اور ذرائع ابلاغ کے اہم اداروں کو ایک پلیٹ فارم پراکٹھاکرنے میں مدد ملے گی۔سالانہ کانفرنس میں سینکڑوں بنکار اور مختلف کمپنیوں کے اہم عہدیداروں کی شرکت متوقع ہے جس کامقصد تیل کی برآمدات پر سعودی عرب پرانحصاری کے خاتمے کے لئے اصلاحات کے سلسلے میں اربوں ڈالرزمالیت کی غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرناہے۔ کانفرنس میں سعودی عرب میں نئے شہر کی تعمیر کے لئے پانچ سو ارب ڈالر مختص کئے جانے کا امکان ہیں۔سعودی عرب روانگی سے قبل برطانوی نشریاتی ادارے کو اپنے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی معیشت کی بہتری کیلئے سعودی عرب سے قرض لینے کے خواہش مند ہیں، ملک کو تاریخ کے سب سے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے، ہمارے پاس دو تین ماہ سے زیادہ کے زرمبادلہ ذخائر نہیں۔انہوں نے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے کہا کہ کانفرنس میں ان کی شرکت کی ایک وجہ جو انھیں محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ وہ یہ موقع سعودی قیادت سے بات کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت 21 کروڑ عوام کا ملک تاریخ کے بدترین قرض بحران کا شکار ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلےکا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ اور اٹارنی جنرل کو آج ہی عدالت طلب کرلیا
ڈاکٹر شاہد مسعود صحافی کے سوال پر آگ بگولہ ہو گئے اور صحافی سے کیمرہ چھین لیا
Translate News »