گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG     قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ     No IMG     اپوزیشن ,جماعتوں نے منی بجٹ مسترد کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کو سونے کی کلاشنکوف کا تحفہ مل گیا     No IMG     سعودی لڑکی رھف کا فرار ہونے کے بعد پہلا انٹرویو     No IMG     بنگلہ دیش,گارمنٹس ملازمین کا تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر مظاہرہ     No IMG     بھارتی فوج مغربی سرحد کیساتھ دہشتگردانہ کارروائیوں کیخلاف سخت ایکشن لینے سے نہیں ہچکچائے گی۔     No IMG     حکومت نے ایک ہفتے میں ہم سے 113 ارب روپے قرض لیاہے، پاکستانی اسٹیٹ بینک     No IMG     وزیراعظم کی اپوزیشن پر شدید تنقید     No IMG     چین کی عدالت نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں کینیڈا کے شہری کی 15 سال قید کی سزا کو پھانسی میں تبدیل کردیا     No IMG    

وزیراعظم عمران خان کا وفد کے ہمراہ تُرکی کا سرکاری دورہ موجود وفد سفارتی آداب بھول گیا
تاریخ :   05-01-2019

انقرہ ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) وزیراعظم عمران خان دو روز قبل دو روزہ سرکاری دورے پر تُرکی پہنچے ۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر اوروزیر برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار , وزیراعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانیوں زلفی بخاری اور وزیراعظم

کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد موجود تھے۔
وزیراعظم عمران خان کی وفد کے ہمراہ تُرک حکام کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جسے دیکھ کر صارفین نے حکومتی وفد کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اس تصویر میں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ تُرکی جانے والے وفد کو تُرک حکام کے ساتھ ہونے والی اعلیٰ سطح کی میٹنگ میں بے تکلف ہو کر بیٹھے ہوئے دیکھا گیا جبکہ ان کے سامنے بیٹھے تُرک حکام نے سفارتی آداب کی مکمل طور پر پاسداری کی اور سفارتی ادب و احترام کا مظاہرہ کیا۔
اس تصویر میں پاکستانی وفد کے سفارتی آداب بھولنے کی نشاندہی سب سے پہلے ایک صحافی سلمان محمود نے کی ۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں سلمان محمود نے کہا کہ تُرک حکام باقاعدہ سفارتی آداب کے تحت بیٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستانی وفد میں شریک حکام سفارتی آداب اور روایات سے ناآشنا نظر آتے ہیں جنہیں اتنا بھی علم نہیں کہ سرکاری دورے پر سفارتی سطح کی میٹنگ میں کس طرح بیٹھا جاتا ہے۔
ایک اور صحافی وسیم عباسی نے کہا کہ اس تصویر میں تُرک حکام اور پاکستانی وفد کی سنجیدگی اور باڈی لینگوئج کا مظاہر کیجئیے۔ وسیم عباسی نے وزیراعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانیوں زلفی بخاری کی باڈی لینگوئج پر ان کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ زلفی بخاری پاکستانی مفاد کے لیے سب سے زیادہ سنجیدہ نظر آ رہے ہیں۔
وسیم عباسی نے ایک اور ٹویٹر پیغام میں کہا کہ پاکستانی وزیراعظم اور ان کے مشیر زلفی بخاری ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھے ہیں جبکہ پاکستانی وفد کا ایک رکن اپنے فون پر مصروف ہے ۔ دوسری جانب ترک وفد کے تمام ارکان مکمل طور پر سفارتی آداب اور رکھ رکھاؤ کے ساتھ بیٹھے ہیں ۔
ایک اور صحافی عامر غوری نے کہا کہ سرکاری دورے کے دوران تُرک اور پاکستانی وفود کی باڈی لینگوئج پر اگر سرسری نگاہ ڈالی جائے تو اس سے بہت کچھ ظاہر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ایک تربیت یافتہ، سنجیدہ، مہذب اور اپنے کام سے آشنا وفد کی زبردستی اکٹھے کیے گئے کچھ لوگوں کے ساتھ ملاقات ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تُرکی آج اس مقام پر ہے اور پاکستان وہیں کا وہیں ہے
پاکستانی وفد کی یہ تصویر اپوزیشن جماعتوں سے بھی چھُپی نہیں رہی ، اس تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان کی اس طرح کی نمائندگی قابل افسوس ہے۔
ہو سکتا ہے کہ اس میں کوئی اچھا پہلو بھی ہو ، لیکن میں وہ اچھا پہلو دیکھنے سے قاصر ہوں۔ تُرک وفد عام سفارتی آداب کے تحت بیٹھا ہوا ہے، تُرک حکام اپنی سنگین روایات اور رسمی ثقافت کی پیروی کرتے ہیں لیکن ہمارا وفد کیا پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے؟
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے حکومتی وفد کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومتی وفد کو بلا شُبہ ایک ٹیوٹر کی ضرورت ہے جو انہیں سفارتی آداب کی تربیت دے سکے اور انہیں بتا سکے کہ ایک سرکاری دورے کے دوران اعلیٰ سطحی میٹنگز اور اجلاسوں میں کس طرح بیٹھا جاتا ہے۔کیونکہ اس تصویر میں جہاں تُرک حکام میں ڈسپلن دیکھنے میں آ رہا ہے وہیں پاکستانی وفد کی بے فکری اور بے تکلفی عیاں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
پاکستان نالائقوں کے حوالے کردیا ،ان کو حکمران بنانے والے خود پچھتا رہے ہیں
ترک صدر نے پاکستان سے جنگی طیارے خریدنے کی خواہش
Translate News »