دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

وزیراعظم عمران خان آج حکومت کی 100 روزہ کارکردگی عوام کے سامنے پیش کریں گے
تاریخ :   29-11-2018

اسلام آباد( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) تحریک انصاف کی حکومت کی 100 روزہ کارکردگی اور اہداف کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے آج خصوصی تقریب ہوگی‘ جس میں وزیراعظم حکومت کی 100 روزہ کارکردگی عوام کے سامنے پیش کریں گے. تقریب کا آغاز سہ پہر 3 بجے ہوگا، تمام وزارتوں کی

کارکردگی رپورٹ وزیراعظم کو موصول ہوگئی ہے.
تقریب میں وفاقی وزرا، وزرائے مملکت، مشیر اور معاون خصوصی شریک ہوں گے. وزیراعظم عمران خان تقریب میں معیشت کی بہتری کے لئے اقدامات اور50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے بارے میں بتائیں گے، اس کے علاوہ تعلیمی اصلاحات، احتساب اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لئے اقدامات سے بھی آگاہ کریں گے. دوسری جانب اقتصادیات کے ماہرین تحریک انصاف کی اقتصادی ٹیم کی کارکردگی سے خوش نہیں اور عوام الناس میں پایا جانے والا عمومی تاثربھی اس رائے کو سپورٹ کرتا ہے کہ وزیرخزانہ اسد عمر کی قیادت میں حکومت کی اقتصادی ٹیم عام شہریوں کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے انتہائی کم عرصے میں حکومت کی مقبولیت کم ہوئی ہے.
تحریک انصاف نے انتخابات سے قبل ہی اپنے 100 دنوں کا ایجنڈا تحریری صورت میں جاری کردیا تھا۔
اس ایجنڈے میں متعدد شعبوں سے متعلق منصوبہ بندی کو شامل کیا گیا تھا جس میں حکومتی اصلاحات اور گورننس، وفاق کی مضبوطی، معیشت کی بحالی، زرعی شعبے کی ترقی اور پانی کی بچت، سماجی خدمات میں انقلابی تبدیلیوں اور پاکستان کی قومی سلامتی کی ضمانت اور ساتھ اس بات کی بھی ضمانت دی گئی کہ اس ایجنڈے پر عمل ہوگا.

عمران خان کو وزیرِاعظم بنے 100 دن مکمل ہوگئے ہیں اور اس دوران ایجنڈے پر کام، کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے ہر طرف تبصرے جاری ہیں. اپوزیشن حکومت کی کارکردگی کی ابتدا کو صفر قرار دے رہی ہے تو حکومت اپنی کارکردگی سے مطمئن نظر آتی ہے. ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو، بلواسطہ ٹیکس نظام کی خرابیاں درآمدات میں اضافے، برآمدات میں کمی، زرِمبادلہ ذخائر میں کمی، غیر ملکی قرض میں اضافہ، توانائی کا شعبہ، پی آئی اے اسٹیل ملز میں گورننس کی کمی اور خسارہ اور اس سب کو ٹھیک کرنے کے لیے 10 نکات پیش کیے گئے تھے.
پیش کیے گئے نکات میں ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کے ساتھ ساتھ فوری طور پر ایک کروڑ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا، پیداواری شعبہ، صنعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی بحالی، 50 لاکھ گھروں کی تعمیر، سیاحت کا فروغ، ٹیکس اصلاحات، پاکستان میں کاروبار دوست ماحول کی فراہمی، حکومتی کاروباری اداروں میں اصلاحات، پاکستان کے توانائی کے چیلنجز سے نمٹنا، پاکستان چین اقتصادی راہدری میں اصلاحات اور تبدیلیاِں اور عوام تک مالیاتی صنعت کی خدمات کی فراہمی شامل تھے.
مگر حکومت بنانے کے ساتھ ہی تحریک انصاف ان نکات پر عمل کرنے کے بجائے میکرواکنامک اعشاریوں کو ٹھیک کرنے میں لگ گئی . عمران خان کی حکومت نے قائم ہونے کے ساتھ وہ تمام اقدامات اٹھائے جن پر ماضی کی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا‘ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی، سوئی گیس کو 134 فیصد تک مہنگا کرنا اور بجلی کے فی یونٹ چارجز میں اضافہ ایسے اقدامات تھے جس سے عوام بلبلا اٹھے.
قیمتوں میں اضافے کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے‘ سال 2015ءسے لے کر 2018ءکے اختتام تک مہنگائی کی شرح یا سی پی آئی انفلیشن کی اوسط شرح 3.8 فیصد رہی ہے‘ جبکہ مالی سال 2016ءمیں سی پی آئی انفلیشن 2.9 فیصد کی سطح پر تھا. ماضی میں گیس بجلی اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے اور ان پر عائد ٹیکسوں کے بوجھ پر کڑی تنقید کرنے والی تحریک انصاف نے حکومت سنبھالتے ہی توانائی کے شعبے میں قیمتوں کو بڑھایا جس سے عام صارف اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا.
حکومت کے قیام کے وقت اگست میں سی پی آئی انفلیشن 5.8 فیصد تھا جو اکتوبر میں بڑھ کر 6.8 فیصد ہوگیا ہے‘ انفلیشن کے نومبر کے اعداد و شمار ابھی آنا باقی ہیں. اسی طرح روپے کی قدرمیں کمی سے شدید معاشی بحران پیدا ہوا سال 2014ءسے 2017ءکے دوران ڈالر کی قیمت 98 سے بڑھ کر 111 روپے پر جا پہنچی تھی‘ سال 2018ءکے اوائل میں ڈالر 115 روپے کا ہوگیا‘ جولائی 16 سے 20 جولائی کے دوران ڈالر کی قیمت میں 10 روپے تک اضافہ دیکھنے میں آیا تھا.
مگر پاکستان میں انتخابی نتائج کے بعد نہ صرف روپے کی قدر میں گراوٹ کو بریک لگ گئی بلکہ اس کی قدر دوبارہ بحال بھی ہوئی‘ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 131 روپے سے کم ہوکر پہلے 129 پر آئی پھر 127 روپے ہوگئی. عمران خان کے بطور وزیراعظم حلف اٹھاتے وقت انٹر بینک مارکیٹ میں ایک ڈالر 123 روپے 95 پیسے میں دستیاب تھا‘ مگر 100 دن مکمل ہونے پر ایک ڈالر 134 روپے 10 پیسے کی سطح پر پہنچ گیا ہے‘ اس طرح 100 دنوں کے دوران روپے کی قدر میں 10 روپے 15 پیسے کی کمی دیکھی گئی ہے.
انٹر بینک مارکیٹ کے اثرات سے اوپن مارکیٹ بھی محفوظ نہ رہ سکی اور ایک ڈالر 122 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 100 دنوں میں 135 روپے 40 پیسے کی سطح پر پہنچ گیا ہے‘ اس طرح روپے کی قدر میں 12 روپے 90 پیسے کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے. 9 اکتوبر کو پی ٹی آئی حکومت نے روپے کی قدر میں کمی کی اور ایک ڈالر انٹربینک میں 133 روپے 50 پیسے اور اوپن مارکیٹ میں 136 روپے 50 پیسے تک پہنچ گیا.
مالیاتی صنعت سے وابستہ افراد کو انتخابات کے فوری بعد روپے کی قدر میں اضافے اور ڈالر کو سستا کرنے کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات میں کسی گڑبڑ یا پالیسی سازی کی سطح پر کرپشن کی ب±و محسوس ہوتی ہے۔ اگر روپے کی قدر میں گراوٹ ہی کرنا تھی تو روپے کی قدر میں بہتری کیوں کی گئی؟ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں روپیہ مہنگا، پھر سستا اور پھر مہنگا کرنے کے پیچھے کوئی سازش نظر آتی ہے‘ روپے کی قدر کو کم کرنے سے زرِمبادلہ ذخائر پر اثرات مرتب ہوئے ہیں.
تحریک انصاف کو اقتدار ملتے ہی معیشت میں بیلنس آف پے منٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے. پاکستان اپنے زرِمبادلہ ذخائر کے حوالے سے تشویش کا شکار ہے.پاکستان کے مال

اس دوران حکومت کو سعودی عرب سے صرف 1 ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں، جبکہ معاہدہ 9 ارب ڈالر کا ہے. سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر ملنے کے باوجود مجموعی زرِمبادلہ ذخائر 13 ارب 71 کروڑ ڈالر ہوگئے جس میں سے اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ ذخائر 8 ارب 29 کروڑ ڈالر کی سطح پر ہیں. وفاقی حکومت کی کوشش ہے کہ متحدہ عرب امارات اور چین سے بھی مالی معاونت مل جائے تاکہ پاکستان کو جولائی 2019ءتک جو 9 ارب ڈالر کی قرض کی ادائیگی کرنا ہے اس کے لیے وسائل پیدا کیے جاسکیں مگر گرتے ہوئے زرِمبادلہ ذخائر ایک تشویشناک صورتحال پیدا کررہے ہیں.
کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ وہ شعبہ ہے جس میں وفاقی حکومت نے متعدد اقدامات اٹھائے ہیںجن میں درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے اور برآمدات کو بڑھانے کے حوالے سے اقدامات شامل ہیں روپے کی قدر میں کمی، متعدد اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا نفاذ کیا گیا ہے. جولائی سے اکتوبر 2018ءکے رواں کھاتوں کا خسارہ 4 ارب 84 کروڑ ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی سہہ ماہی میں یہ خسارہ 5 ارب ڈالر سے زائد تھا اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی برآمدات میں کسی قدر اضافہ ہوا ہے، جبکہ درآمدات میں اضافے کی شرح میں کمی ہوئی ہے، مگر مجموعی درآمدات بھی بڑھ گئی ہیں.
پہلی سہہ ماہی میں مصنوعات اور خدمات کی تجارت کا خسارہ 13 ارب 22 کروڑ ڈالر ہوگیا اس طرح اگر یہی صورتحال برقرار رہے تو مالی سال کے اختتام پر مجموعی تجارتی خسارہ 52 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا اب اگر گزشتہ مالی سال کی بات کی جائے تو یہ خسارہ 42 ارب ڈالر سے زائد رہا تھا. وفاقی حکومت کی جانب سے انڈر انوائسنگ کو روکے جانے کے اقدامات ان 100 دنوں میں نظر نہیں آئے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انڈر انوائسنگ پر قابو پالیا جائے تو تقریباً 9 ارب ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے.
اسی طرح مالی سال 2018ء-2019ءکی پہلی سہہ ماہی میں حکومت کے اخراجات 1644 ارب روپے رہے مگر سال 2017ء-2018ءکی پہلی سہہ ماہی میں یہ اخراجات 1466 ارب روپے تھے‘ اس طرح پی ٹی آئی اور نگران حکومت کی جانب سے تمام تر اخراجات میں کٹوتی کے اعلانات کا اثر بجٹ خسارے پر نہیں ہوا، اور سہہ ماہی کے دوران بجٹ خسارے میں 178 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ہوا ہے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے 542 ارب روپے کا قرض لیا جو گزشتہ مالی سال کی پہلی سہہ ماہی کے 101 ارب روپے سے زائد ہے.
سب سے اہم بات یہ ہے کہ مالی خسارہ ایسے وقت میں بڑھا ہے کہ جب حکومت نے ترقیاتی اخراجات کو تقریباً منجمد کیا ہوا ہے اور نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے علاوہ جاری منصوبوں پر بھی پہلے 100 دنوں میں کام کی رفتار سست رہی ہے جس کی بڑی وجہ فنڈز کا اجرا نہ ہونا ہے ماہرین اس بات کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ اگر ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع ہوا تو 5.1 فیصد خسارے کے ہدف سے زیادہ بجٹ خسارے کا سامنا ہوسکتا ہے.
پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ 24 مئی 2017ءکو 100 انڈیکس 53 ہزار کے ساتھ اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا مگر اس کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا عمل جاری نہ رہ سکا. عمران خان کے حلف اٹھاتے وقت 100 انڈیکس 42 ہزار 446 پر موجود تھا اور 100 دنوں کے دوران اتار چڑھاﺅکے بعد 27 نومبر کو 40 ہزار 894 پر بند ہوا . اس طرح حکومت کے 100 دنوں کے دوران 1 ہزار 552 کی کمی ہوئی ہے‘ یہ کمی اس بات کی غماز ہے کہ سیکنڈری مارکیٹ میں سرمایہ کار پیسہ لگانے کو تیار نہیں ہیں، تو پھر پرائمری مارکیٹ میں پیسہ کون لگائے گا؟

Print Friendly, PDF & Email
تحریکِ انصاف کی حکومت کے 100 دن، کیا کھویا کیا پایا
پاکستان بھر میں لاکھوں موبائل فون بندہونے کا خدشہ
Translate News »