چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

وزیراعظم آزاد کشمیر کو اڈیالہ جیل کے باہر روک دیا گیا
تاریخ :   09-08-2018

راولپنڈی( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر اڈیالہ جیلمیں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔ جیل انتظامیہ نے ان سے ملاقات کے لیے جمعرات کا دن مختص کر رکھا ہے۔ آج بھی نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے محمود خان اچکزئی اور غلام احمد بلور بھی اڈیالہ جیل پہنچے۔نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کے لیے سیاسی رہنماؤں کی اڈیالہ جیل آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی نواز شریف سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے لیکن انہیں اندر جانے سے روک دیا گیا۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے داخلے کی اجازت نہ ملنے پر وزیراعظم آزاد کشمیر نواز شریف سے ملاقات کیے بغیر ہی واپس روانہ ہوگئے۔

دوسری جانب نواز شریف سے ملاقات کے لیے برجیس طاہر ، طارق فضل چودھری ، عابد شیر علی اور مریم اورنگزیب سمیت مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں نے بھی اڈیالہ جیل کا دورہ کیا۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بھی آج نواز شریف سے ملاقات کریں گے اور سیاسی منظر نامے پر پارٹی قائد کی ہدایات لیں گے۔ اڈیالہ جیل میں آج نواز شریف اور مریم نواز کے اہل خانہ کی آمد کا بھی متوقع ہے۔یاد رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ گذشتہ جمعرات کو سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنے کے بعد سابق چئیرمین پیمرا نے بتایا تھا کہ میریمریم نواز سے جیل میں ملاقات ہوئی ۔ مریم نواز نے مجھے بتایا کہ قیدِ تنہائی کا وقت 7×10 کے سیل میں نماز، تلاوت، وظیفہ اور کتابیں پڑھتے گزرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کل اوریانہ فلاچی کی کتاب “انٹرویو ود ہسٹری” پڑھ رہی ہوں۔ مجھے کوئی شکوہ نہیں، کوئی پچھتاوا نہیں۔ اگر مجھے 100 زندگیاں بھی ملیں تو ایسی ہی زندگی گزاروں گی اور یہی سب کروں گی۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ سب سے زیادہ کیا مِس کرتی ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں سب سے زیادہ اپنی نواسی سیرینا کو مس کرتی ہوں۔ابصار عالم کا کہنا تھا کہ مریم نوازنے بتایا کہ مجھے روزانہ دو اخبار ملتے ہیں۔لوہے کے پلنگ پر ایک گدا اور ایک جیل کی چادر ہے، باتھ روم سیل کے اندر ہی ہے۔ صبح 5 بجے سلاخوں والا دروازہ کُھلتا ہے اور شام کو 7 بجے تالا لگا دیا جاتا ہے۔ کسی سے یا کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغامات میں نواز شریف سے ملاقات کا احوال بھی لکھا اور کہا کہ میں نےنواز شریف سے سوال کیا کہ قید تنہائی میں 24 گھنٹے میں سب سے پُرسکون لمحات کونسے ہیں؟ جس پر میاں صاحب نے جواب دیا کہ سارے کے سارے لمحات پُر سکون ہیں۔نواز شریف نے مجھے بتایا کہ میں اسپتال سے زبردستی واپس جیل آیا ۔۔نواز شریف نے بتایا کہ مجھے پہلی رات بیرک کے فرش پر سُلایا گیا۔ اب ایک لوہے کی چارپائی اور ایک گدا ہے۔ میرا 8×10 کا سیل ہے۔ جس کے دروازے کی جگہ لوہے کی سلاخیں ہیں۔ جسے شام کو7 بجےسے صبح 5 بجے تک بند کر دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر بھی اکیلا نہیں مل سکتا۔ تین یا چار لوگ اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ابصار عالم کا کہنا تھا کہ جیل میں میاں صاحب برصغیر کی تاریخ اور اسلامی تاریخ پر کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ میاں صاحب بہت پُرسکون تھے اور انہیں تمام معاملات کی خبر تھی ۔ انہوں نے پارٹی کے لوگوں کو سیاسی اشوز پر مشورے بھی دئے اور ڈان اخبار کی خبر کا حوالہ بھی دیا۔ ابصار عالم نے بتایا کہ میاں صاحب جب کمرے میں آئے تو تھوڑے ڈسٹرب لگ رہے تھے۔ لیکن تھوڑی دیر میں مکمل اطمینان ان کے چہرے پہ لوٹ آیا۔ بوسکی رنگ کا شلوارقمیض پہنا ہوا تھا اورسوٹ کی تہہ کے نشانات ان کے لباس پر واضح تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر میں سے مریم نواز سب سے زیادہ حوصلے میں تھیں۔ملاقات کے دوران سارا وقت ان کے چہرے پر ایک مُسکراہٹ رہی۔

Print Friendly, PDF & Email
دُبئی:پاکستانی‘ اماراتی اور بھارتی شہریوں کی مشترکہ ڈکیتی سیلزمین سے دو لاکھ بیس ہزار اماراتی درہم لُوٹ لیے
بھارتی فوج کی درندگی رکنے کا نام نہیں لے رہی مزید 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا
Translate News »