دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

واشنگٹن کے عسکری فیلڈ کمانڈروں کو پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا
تاریخ :   01-02-2018

پاکستان اور افغانستان(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)  میں دہشت گردوں کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے امریکی فیلڈ کمانڈروں کو دیے گئے حملوں کے اختیارات کو کئی پاکستانی حلقے اسلام آباد کو دباؤ میں رکھنے کے نئے امریکی طریقے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ واشنگٹن حکومت کی طرف سے اس طرح کا کوئی اعلان کیا گیا ہے۔امریکا طالبان کے خلاف ڈرون طیارے تو استعمال کرتا رہا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن کے عسکری فیلڈ کمانڈروں کو پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔
پاکستان میں کئی حلقے اس اعلان کو واشنگٹن کی طرف سے دباؤ ڈالنے کا ایک نیا طریقہ قرار دے رہے ہیں لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں اسلام آباد کو اس امریکی اعلان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے خیال میں اس اعلان کا مقصد پاکستان پر دباؤ بڑھانا ہے۔ انہوں نے ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو  سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’پہلے انہوں نے بھارت کے کہنے پر ہماری امداد بند کی۔ پھر ہمارے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا اور اب ہم پر دباؤ ڈالنے کے لیے وہ یہ فیلڈ کمانڈروں والی باتیں کر رہے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ وہ (امریکی) پاکستانی سرحد کے اندر سو دو سو گز تک آ جائیں اور کسی ٹارگٹ کے خلاف کارروائی کریں۔ ایسی کارروائیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان نے بھی ایسی کارروائیاں کی ہیں۔ لیکن اگر انہوں نے باقاعدہ پاکستانی علاقے میں گھسنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سختی سے مزاحمت کی جائے گی۔ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے وقت پاکستان نے اپنی مغربی سرحد پر ریڈار نہیں لگایا تھا لیکن اب وہاں ریڈار بھی ہے اور فوج بھی۔ اب ایسی کسی اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا تھا کہ پاکستان پر دباؤ محض طالبان کی وجہ سے ہی نہیں ڈالا جا رہا۔ ان کے مطابق، ’’اصل مسئلہ یہ ہے کہ اب امریکا نے باقاعدہ طور پر چین کو اپنا دشمن قرار دے دیا ہے جب کہ پاکستان چین کے ساتھ سی پیک منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ یوں بیجنگ کو آبنائے ہرمز تک رسائی مل رہی ہے، بلکہ چین کی رسائی بحر ہند تک بھی ممکن ہوتی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت امریکی منصوبوں کے برعکس ہے۔ آبنائے ہرمز تیل کا اہم ترین سپلائی روٹ ہے۔ امریکا کیسے برادشت کر سکتا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں چین سے تعاون کرے۔ اس لیے کبھی افغان طالبان، کبھی حقانی نیٹ ورک اور کبھی جوہری پروگرام کے نام پر پاکستان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ پاکستان کویہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب امریکا نہ تو اس کا اتحادی ہے اور نہ ہی دوست۔ میری رائے میں تو اسلام آباد کو واشنگٹن کو اب دشمن ہی سمجھنا چاہیے۔‘‘

لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ مزاحمت آسان نہیں ہو گی۔ پریسٹن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر امان میمن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے یہ مزاحمت اعلانِ جنگ کے مترادف ہو گی۔

انہوں نے ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو  کو بتایا، ’’امریکا ایک عالمی طاقت ہے۔ اگر اس نے واقعی سرحد پار کی اور پاکستان میں داخل ہوا، تو پاکستان کے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو گا کہ وہ ایسی کسی در اندازی کو کیسے روکے۔ یہ ممکن ہے کہ امریکا ایسے اعلانات کو صرف پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرے لیکن پھر بھی پاکستان کو ایسی باتو ں کو بہت سنجیدگی سے لینا ہو گا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر امان میمن نے کہا، ’’پاکستان کو بہت پہلے ہی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہیے تھا۔ اچھے اور برے طالبان کی تمیز ختم کرنا چاہیے تھی۔ طالبا ن آئے دن خطرناک حملے کر رہے ہیں۔ اگر ان کے حملوں میں کبھی کوئی بڑا امریکی عہدیدار ہلاک ہوگیا، تو پاکستان کے لیے بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ بھارت اور افغانستان امریکی غصے سے فائدہ اٹھا کر اسلام آباد کے خلاف زہر اگلیں گے، جس کے نتائج پاکستان کے لیے اچھے نہیں ہوں گے۔ لہٰذا اگر پاکستان کا افغان طالبان پر کوئی اثر و رسوخ ہے، تو اسلام آباد کو انہیں فوراﹰ مذاکرات کی میز پر لانا چاہیے۔‘‘

Print Friendly, PDF & Email
بھارت فوج کے خلاف مقدمہ واپس نہ لینے پر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو برطرفی کی دھمکی
سندھ کے صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی اوراُن کی اہلیہ فریحہ رزاق کراچی میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »