چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

واشنگٹن کے عسکری فیلڈ کمانڈروں کو پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا
تاریخ :   01-02-2018

پاکستان اور افغانستان(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)  میں دہشت گردوں کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے امریکی فیلڈ کمانڈروں کو دیے گئے حملوں کے اختیارات کو کئی پاکستانی حلقے اسلام آباد کو دباؤ میں رکھنے کے نئے امریکی طریقے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ واشنگٹن حکومت کی طرف سے اس طرح کا کوئی اعلان کیا گیا ہے۔امریکا طالبان کے خلاف ڈرون طیارے تو استعمال کرتا رہا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن کے عسکری فیلڈ کمانڈروں کو پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔
پاکستان میں کئی حلقے اس اعلان کو واشنگٹن کی طرف سے دباؤ ڈالنے کا ایک نیا طریقہ قرار دے رہے ہیں لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں اسلام آباد کو اس امریکی اعلان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے خیال میں اس اعلان کا مقصد پاکستان پر دباؤ بڑھانا ہے۔ انہوں نے ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو  سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’پہلے انہوں نے بھارت کے کہنے پر ہماری امداد بند کی۔ پھر ہمارے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا اور اب ہم پر دباؤ ڈالنے کے لیے وہ یہ فیلڈ کمانڈروں والی باتیں کر رہے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ وہ (امریکی) پاکستانی سرحد کے اندر سو دو سو گز تک آ جائیں اور کسی ٹارگٹ کے خلاف کارروائی کریں۔ ایسی کارروائیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان نے بھی ایسی کارروائیاں کی ہیں۔ لیکن اگر انہوں نے باقاعدہ پاکستانی علاقے میں گھسنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سختی سے مزاحمت کی جائے گی۔ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے وقت پاکستان نے اپنی مغربی سرحد پر ریڈار نہیں لگایا تھا لیکن اب وہاں ریڈار بھی ہے اور فوج بھی۔ اب ایسی کسی اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا تھا کہ پاکستان پر دباؤ محض طالبان کی وجہ سے ہی نہیں ڈالا جا رہا۔ ان کے مطابق، ’’اصل مسئلہ یہ ہے کہ اب امریکا نے باقاعدہ طور پر چین کو اپنا دشمن قرار دے دیا ہے جب کہ پاکستان چین کے ساتھ سی پیک منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ یوں بیجنگ کو آبنائے ہرمز تک رسائی مل رہی ہے، بلکہ چین کی رسائی بحر ہند تک بھی ممکن ہوتی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت امریکی منصوبوں کے برعکس ہے۔ آبنائے ہرمز تیل کا اہم ترین سپلائی روٹ ہے۔ امریکا کیسے برادشت کر سکتا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں چین سے تعاون کرے۔ اس لیے کبھی افغان طالبان، کبھی حقانی نیٹ ورک اور کبھی جوہری پروگرام کے نام پر پاکستان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ پاکستان کویہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب امریکا نہ تو اس کا اتحادی ہے اور نہ ہی دوست۔ میری رائے میں تو اسلام آباد کو واشنگٹن کو اب دشمن ہی سمجھنا چاہیے۔‘‘

لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ مزاحمت آسان نہیں ہو گی۔ پریسٹن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر امان میمن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے یہ مزاحمت اعلانِ جنگ کے مترادف ہو گی۔

انہوں نے ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو  کو بتایا، ’’امریکا ایک عالمی طاقت ہے۔ اگر اس نے واقعی سرحد پار کی اور پاکستان میں داخل ہوا، تو پاکستان کے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو گا کہ وہ ایسی کسی در اندازی کو کیسے روکے۔ یہ ممکن ہے کہ امریکا ایسے اعلانات کو صرف پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرے لیکن پھر بھی پاکستان کو ایسی باتو ں کو بہت سنجیدگی سے لینا ہو گا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر امان میمن نے کہا، ’’پاکستان کو بہت پہلے ہی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہیے تھا۔ اچھے اور برے طالبان کی تمیز ختم کرنا چاہیے تھی۔ طالبا ن آئے دن خطرناک حملے کر رہے ہیں۔ اگر ان کے حملوں میں کبھی کوئی بڑا امریکی عہدیدار ہلاک ہوگیا، تو پاکستان کے لیے بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ بھارت اور افغانستان امریکی غصے سے فائدہ اٹھا کر اسلام آباد کے خلاف زہر اگلیں گے، جس کے نتائج پاکستان کے لیے اچھے نہیں ہوں گے۔ لہٰذا اگر پاکستان کا افغان طالبان پر کوئی اثر و رسوخ ہے، تو اسلام آباد کو انہیں فوراﹰ مذاکرات کی میز پر لانا چاہیے۔‘‘

Print Friendly, PDF & Email
بھارت فوج کے خلاف مقدمہ واپس نہ لینے پر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو برطرفی کی دھمکی
سندھ کے صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی اوراُن کی اہلیہ فریحہ رزاق کراچی میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »