چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

نواز شریف کے خلاف کرپشن ریفرنسز پر فیصلہ 24 دسمبر کو سنایا جائے گا
تاریخ :   19-12-2018

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز میں ان کے وکیل خواجہ حارث نے قانونی نکات پر دلائل مکمل کرلیے جس کے بعد آج فیصلہ محفوظ کیے جانے کا امکان ہے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے آج فریقین کو نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کے قانونی نکات پر حتمی دلائل دینے کی ہدایت کی تھی ۔
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں نئی دستاویزات پیش کرتے ہوئے نیب ریفرنسز کے قانونی نکات پر حتمی دلائل مکمل کیے جس کے بعد پراسیکیوٹر نیب کے دلائل جاری ہیں۔
خواجہ حارث نے جواب الجواب دلائل دیتے ہوئے حسن نواز کی کمپنیوں سے متعلق نئی دستاویزات عدالت میں پیش کیں جو لینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے تصدیق شدہ
اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز میں ان کے وکیل خواجہ حارث نے قانونی نکات پر دلائل مکمل کرلیے جس کے بعد آج فیصلہ محفوظ کیے جانے کا امکان ہے۔
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے آج فریقین کو نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کے قانونی نکات پر حتمی دلائل دینے کی ہدایت کی تھی ۔
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں نئی دستاویزات پیش کرتے ہوئے نیب ریفرنسز کے قانونی نکات پر حتمی دلائل مکمل کیے جس کے بعد پراسیکیوٹر نیب کے دلائل جاری ہیں۔
خواجہ حارث نے جواب الجواب دلائل دیتے ہوئے حسن نواز کی کمپنیوں سے متعلق نئی دستاویزات عدالت میں پیش کیں جو لینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے تصدیق شدہ ہیں۔
خواجہ حارث نے دلائل کے دوران کہا کہ یہ کہتے ہیں جے آئی ٹی رپورٹ تفتیشی رپورٹ نہیں اور اس پر تو لکھا ہے یہ تفتیشی رپورٹ ہے جب کہ اس رپورٹ کا نام ہی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تفتیشی رپورٹ ہے۔
خواجہ حارث نے نواز شریف کی ملازمت اور تنخواہ سے متعلق عدالتی سوالات کے جواب بھی دیے اور کہا کہ نواز شریف کی یہ ملازمت صرف ویزا حاصل کرنے کے لیے تھی، وہ وہاں سے تنخواہ لے سکتے تھے مگر تنخواہ وصول نہیں کی۔
خواجہ حارث نے دلیل دی کہ سپریم کورٹ نے کہا اگر وہ تنخواہ آپ نے نہیں بھی نکلوائی پھر بھی اثاثہ ہے جس پر میرا مؤقف ہے کہ تنخواہ کا تعین صرف ملازمت کے کنٹریکٹ کی حد تک تھا اور وہ صرف کنٹریکٹ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تھا، مقصد تنخواہ لینا نہیں تھا۔
خواجہ حارث نے کہا نواز شریف کا اس کمپنی میں عہدہ صرف رسمی تھا،کمپنیاں چلانے سے اُن کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
جج ارشد ملک نے استفسار کیا تنخواہ سے متعلق آپ کا مؤقف درست مان لیں تو اس کا کیس سے کیا تعلق بنتا ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا تعلق یہ بنتا ہے کہ نواز شریف کی صرف ملازمت ثابت ہو رہی ہے ملکیت نہیں۔
نواز شریف کے وکیل نے کہا جسٹس آصف سعید کھوسہ کے 20 اپریل والے فیصلے پر نظرثانی نا کرنے کا بھی جواب دیتا ہوں، اکثریتی فیصلہ ہی ہمیشہ اصل فیصلہ مانا جاتا ہے، 3 ججز نے جے آئی ٹی بنوائی تھی اور انہوں نے اپنا فیصلہ جے آئی ٹی رپورٹ دیکھ کر ہی دیا اور 28 جولائی کو ان 3 ججز کے فیصلے پر پانچوں ججوں نے دستخط کیے۔
خواجہ حارث نے کہا 28 جولائی کے اسی 5 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دی تھی۔
یاد رہے کہ نیب پراسیکیوٹر اصغر اعوان نے گزشتہ روز اپنے حتمی دلائل مکمل کیے، اس سے قبل نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے پیر کے روز اپنے حتمی دلائل مکمل کیے تھے۔
سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں احتساب عدالت کو فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ 24 دسمبر تک سنانا ہے۔
سپریم کورٹ نے 28 جولائی 2017 کو پاناما کیس کا فیصلہ سنایا جس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا، عدالت نے اپنے فیصلے میں شریف خاندان کے خلاف نیب کو تحقیقات کا حکم دیا۔
عدالت نے احتساب عدالت کو حکم دیا کہ نیب ریفرنسز کو 6 ماہ میں نمٹایا جائے۔
نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسمنٹ ریفرنس بنایا جب کہ نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ (لندن فلیٹس) ریفرنس بنایا۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے تینوں ریفرنسز کی سماعت کی، حسین اور حسین نواز کی مسلسل غیر حاضری پر ان کا کیس الگ کیا گیا اور 6 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 11، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید و جرمانے کی سزا سنائی۔
شریف خاندان نے جج محمد بشیر پر اعتراض کیا جس کے بعد دیگر دو ریفرنسز العزیریہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت جج ارشد ملک کو سونپی گئی جو اس وقت ریفرنسز پر سماعت کر رہے ہیں۔
خواجہ حارث نے دلائل کے دوران کہا کہ یہ کہتے ہیں جے آئی ٹی رپورٹ تفتیشی رپورٹ نہیں اور اس پر تو لکھا ہے یہ تفتیشی رپورٹ ہے جب کہ اس رپورٹ کا نام ہی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تفتیشی رپورٹ ہے۔خواجہ حارث نے نواز شریف کی ملازمت اور تنخواہ سے متعلق عدالتی سوالات کے جواب بھی دیے اور کہا کہ نواز شریف کی یہ ملازمت صرف ویزا حاصل کرنے کے لیے تھی، وہ وہاں سے تنخواہ لے سکتے تھے مگر تنخواہ وصول نہیں کی۔
خواجہ حارث نے دلیل دی کہ سپریم کورٹ نے کہا اگر وہ تنخواہ آپ نے نہیں بھی نکلوائی پھر بھی اثاثہ ہے جس پر میرا مؤقف ہے کہ تنخواہ کا تعین صرف ملازمت کے کنٹریکٹ کی حد تک تھا اور وہ صرف کنٹریکٹ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تھا، مقصد تنخواہ لینا نہیں تھا۔
خواجہ حارث نے کہا نواز شریف کا اس کمپنی میں عہدہ صرف رسمی تھا،کمپنیاں چلانے سے اُن کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
تحریک انصاف کی حکومت کا وہ پہلا وزیر جس کو وزیراعظم نے برطرف کرنے پر غور شروع کر دیا
برطانوی, وزیراعظم اوراپوزیشن لیڈرمیں لفظی جنگ
Translate News »