پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے ہمارے سیاستدان تو اپنے 4 صوبے نہیں سنبھال سکتے۔شاہد خان آفریدی     No IMG     چین میں متعدد پاکستانیوں کی بیگمات گرفتار     No IMG     ساہیوال میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد گرفتار     No IMG     فیصل آباد میں وکلاء کا احتجاج     No IMG     اوورسیز پاکستانیوں کیلئے نیا پاکستان کالنگ ویب پورٹل کا افتتاح     No IMG     بلوچستان ریلوے کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں, وفاقی وزیر ریلوے     No IMG     اسمبلی کی تقریر کو عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا,سابق وزیر اعظم     No IMG     اسرائیلی فوج ’فوری طور پر حملے بند, کرے، ترکی     No IMG     یورپی فوج‘ تشکیل دی جائے ,چانسلر انگیلا میرکل     No IMG     ترکی میں مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک     No IMG     آرمی چیف کی زیر صدارت کمانڈرز کانفرنس     No IMG     ٹریفک کےمختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق     No IMG     اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی مندی کا رحجان     No IMG     ایف بی آرنے وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کیلئے قائم کردہ جے آئی ٹی کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا     No IMG     نیب ادارہ ختم کر دیا جا ئے ، اہم ترین اعلان     No IMG    

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آمد پر لندن میں برطانوی کشمیریوں کا پُرجوش احتجاج
تاریخ :   01-04-2018

 لندن( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ) نریندر مودی کی آمد پر میں برطانوی کشمیریوں کا پُرجوش احتجاج۔ مودی کے خلاف اقلیتوں کا اتحاد اور مودی ناٹ ویلکم۔ احتجاج کا پروگرام حسب ذیل درج ہے:
۱) لندن کی سیاحوں والی بسیں اور ویگنیں جن پر فری کشمیر کے بینرز لگے ہوں گے وہ 15 اپریل بروز اتوار کو برطانوی ھاوس آف لارڈز کے سامنے سے اپنا تین روزہ سفر جاری کریں گے۔ ان بسوں پر عورتیں اور بچے ہوں گے جو پیلے رنگ کی شرٹس پہنے گیں اور ہاتھوں میں چھاتے ہوں گے جن پر لکھا ہوگا فریڈم 4 کشمیر اور یہ بچے غبارے ہوا میں چھوڑیں گے۔ لندن کی فضائیں غباروں سے بھر جائیں گی۔ یہ بسیں سارا دن تاریخی مقامات جیسا کہ بکینگھم پیلس، ھاوس آف پارلیمنٹ، سینٹ جیمس، پال مال، ہائیڈ پارک اور دوسرے تفریح مقامات پر وقفے وقفے سےرکتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھیں گی۔ ہر تفریح مقام پر بسیں تھوڑی دیر کیلئے رُکیں گی اور بچے غبارے ہوا میں چھوڑے گیں اور اسطرح یہ دوستانہ ماحول میں احتجاج ہوگا جو لندن کے لوگ اور میڈیا کے ذریعے دنیا بھر سے لوگ دیکھیں گے کہ بچے کس طرح معصومانہ انداز میں کشمیر کیلئے احتجاج کرتے ہیں۔ ہر خاص و عام کو دعوت ہے کہ خود بھی تشریف لائیں اور ساتھ بچوں کو بھی موقع فراہم کریں۔ اس سارے احتجاج کا خرچہ لارڈ نزیر صاحب اٹھا رہے ہیں اور لندن کی سیر بالکل مفت میں ہوگی۔ ویگنوں کے اخراجات کشمیر پیٹریاٹیک فورم اٹھائے گی اور انتظامات کی نگرانی بھی کرے گی۔

۲) عظیم آلیشان احتجاج مورخہ 18 اپریل 2018 دن بدھ وار 12 بجے دوپہر پارلیمنٹ سکویر میں جو ایک چھوٹا سا پارک ہے پارلیمنٹ ھاوس کے سامنے اس میں مشترکہ اجتماعی مظاہرہ ہوگا جس میں تمام تنظیمیں، سیاسی جماعتیں اور مزہبی جماعتوں کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیمیں، سکھ کمیونٹی، دلت کمیونٹی، عیسائی کمیونٹی اور دیگر میناریٹیز سے بھاری تعداد میں لوگ شرکت کر رہے ہیں۔ کشمیری سیاسی شخصیات میں بیرسٹر سلطان محمود، اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین، حکومتی رہنما، برٹش ایم پی، لارڈز، مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ، آزادُکشمیر کی لیڈرشپ، الحاقی، خود مختاری اور دیگر تمام بھاری تعداد میں موجود ہوں گے۔ ایک ہزار سے لیکر تیس ہزار تک ایسٹیمیٹٹ افراد متوقع ہیں۔ ہر خاص و عام کو دعوت ہے کہ اس مظاہرے میں شریک ہوں اور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ یہ سُنہرا موقع ہے کہ 53 ریاستوں کے سربراہان اس جگہ پر موجود ہوں گے اور ان کے ساتھ انٹرنیشنل میڈیا بھی موجود ہوگا جن کی موجودگی میں ہم مسئلہ کشمیر کو بہترین طریقے سے ہائی لائیٹ کرسکیں گے کیونکہ ساری دنیا کی نظریں اس وقت لندن پر لگی ہوں گی اور اس وقت مظاہرین کامن ویلتھ کانفرنس کے باہر چند گز کے فاصلے پر اپنا احتجاج کر رہے ہوں گے۔ ہندوستان پہلے سے اس احتجاج کو لیکر سخت پریشان ہے۔ اچھا موقع ہے کہ ہندوستان کے ظلم و ستم، بربریت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ دنیا کو یہ یاد کرایا جائے کہ کشمیری 70 سال کے بعد بھی ابھی تک انصاف کے متلاشی ہیں اور اپنے حقوق کی مانگ کر رہے ہیں۔ ملتے ہیں لندن میں ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ اپنے کشمیر کیلئے۔

نریندر مودی کی آمد پر لندن میں برطانوی کشمیریوں کا پُرجوش احتجاج۔ مودی کے خلاف اقلیتوں کا اتحاد اور مودی ناٹ ویلکم۔ احتجاج کا پروگرام حسب ذیل درج ہے:
۱) لندن کی سیاحوں والی بسیں اور ویگنیں جن پر فری کشمیر کے بینرز لگے ہوں گے وہ 15 اپریل بروز اتوار کو برطانوی ھاوس آف لارڈز کے سامنے سے اپنا تین روزہ سفر جاری کریں گے۔ ان بسوں پر عورتیں اور بچے ہوں گے جو پیلے رنگ کی شرٹس پہنے گیں اور ہاتھوں میں چھاتے ہوں گے جن پر لکھا ہوگا فریڈم 4 کشمیر اور یہ بچے غبارے ہوا میں چھوڑیں گے۔ لندن کی فضائیں غباروں سے بھر جائیں گی۔ یہ بسیں سارا دن تاریخی مقامات جیسا کہ بکینگھم پیلس، ھاوس آف پارلیمنٹ، سینٹ جیمس، پال مال، ہائیڈ پارک اور دوسرے تفریح مقامات پر وقفے وقفے سےرکتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھیں گی۔ ہر تفریح مقام پر بسیں تھوڑی دیر کیلئے رُکیں گی اور بچے غبارے ہوا میں چھوڑے گیں اور اسطرح یہ دوستانہ ماحول میں احتجاج ہوگا جو لندن کے لوگ اور میڈیا کے ذریعے دنیا بھر سے لوگ دیکھیں گے کہ بچے کس طرح معصومانہ انداز میں کشمیر کیلئے احتجاج کرتے ہیں۔ ہر خاص و عام کو دعوت ہے کہ خود بھی تشریف لائیں اور ساتھ بچوں کو بھی موقع فراہم کریں۔ اس سارے احتجاج کا خرچہ لارڈ نزیر صاحب اٹھا رہے ہیں اور لندن کی سیر بالکل مفت میں ہوگی۔ ویگنوں کے اخراجات کشمیر پیٹریاٹیک فورم اٹھائے گی اور انتظامات کی نگرانی بھی کرے گی۔

۲) عظیم آلیشان احتجاج مورخہ 18 اپریل 2018 دن بدھ وار 12 بجے دوپہر پارلیمنٹ سکویر میں جو ایک چھوٹا سا پارک ہے پارلیمنٹ ھاوس کے سامنے اس میں مشترکہ اجتماعی مظاہرہ ہوگا جس میں تمام تنظیمیں، سیاسی جماعتیں اور مزہبی جماعتوں کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیمیں، سکھ کمیونٹی، دلت کمیونٹی، عیسائی کمیونٹی اور دیگر میناریٹیز سے بھاری تعداد میں لوگ شرکت کر رہے ہیں۔ کشمیری سیاسی شخصیات میں بیرسٹر سلطان محمود، اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین، حکومتی رہنما، برٹش ایم پی، لارڈز، مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ، آزادُکشمیر کی لیڈرشپ، الحاقی، خود مختاری اور دیگر تمام بھاری تعداد میں موجود ہوں گے۔ ایک ہزار سے لیکر تیس ہزار تک ایسٹیمیٹٹ افراد متوقع ہیں۔ ہر خاص و عام کو دعوت ہے کہ اس مظاہرے میں شریک ہوں اور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ یہ سُنہرا موقع ہے کہ 53 ریاستوں کے سربراہان اس جگہ پر موجود ہوں گے اور ان کے ساتھ انٹرنیشنل میڈیا بھی موجود ہوگا جن کی موجودگی میں ہم مسئلہ کشمیر کو بہترین طریقے سے ہائی لائیٹ کرسکیں گے کیونکہ ساری دنیا کی نظریں اس وقت لندن پر لگی ہوں گی اور اس وقت مظاہرین کامن ویلتھ کانفرنس کے باہر چند گز کے فاصلے پر اپنا احتجاج کر رہے ہوں گے۔ ہندوستان پہلے سے اس احتجاج کو لیکر سخت پریشان ہے۔ اچھا موقع ہے کہ ہندوستان کے ظلم و ستم، بربریت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ دنیا کو یہ یاد کرایا جائے کہ کشمیری 70 سال کے بعد بھی ابھی تک انصاف کے متلاشی ہیں اور اپنے حقوق کی مانگ کر رہے ہیں۔ ملتے ہیں لندن میں ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ اپنے کشمیر کیلئے۔

Print Friendly, PDF & Email
سرگودھا،کپڑا فروخت کرنیوالے دکانداروں کے پیمانےچیک کیاجائیں,پروفیسرفرحت اقبال مغل
تحریک انصاف والے 2ارب درختوں کے پیسے کھاگئے,سابق وزیر اعظم نواز شریف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »