پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

نئی حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک برقرار, شاہ محمود قریشی
تاریخ :   07-11-2017

اسلام آبا(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)نئی حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک جاری، ،پیپلز پارٹی پہلے مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کے مطالبے پر قائم جبکہ حکومت کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کی
ضرورت نہیں بنتی پر اصرار۔ تفصیلات کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نئی حلقہ بندیوں کی آئینی ضرورت کے بارے میں منگل کو پارلیمنٹ میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آفتاب شیرپائو نے بتایا کہ ابھی تک اپوزیشن اور حکومت دونوں یکساں موقف پر اتفاق نہیں پایا گیا، پیپلز پارٹی مشترکہ مفادات کونسل کے مطالبے پر اڑی ہوئی ہے لیکن مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کیلئے سندھ حکومت نے خود ریکوزیشن کیوں نہیں دی۔ شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سارے پارلیمانی رہنمائوں کا سپیکر سے مطالبہ تھا کہ انہوں نے گزشتہ روز اجلاس کیوں منسوخ کیا اس لئے کیونکہ منگل کو نا اہلی کا بل اسمبلی میں آنا تھا، جس پر سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے صدارتی احکام کی روشنی میں اجلاس منسوخ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن تاخیر سے ہونے کا خدشہ ہے، سپیکر نے الیکشن کمیشن کو کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں جائیں، کیونکہ 10نومبر تک حلقہ بندیاں مکمل نہیں ہو سکتیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب کی 11سیٹیں متاثر ہو رہی ہیں، جس کا مقصد 33قومی اسمبلی کے حلقے متاثر ہوں گے، اگر الیکشن کمیشن سپریم کورٹ گیا تو الیکشن بروقت نہ ہو سکیں گے۔ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ بنیادی طور پر ہمیں مردم شماری پر اعتراض ہے، ہم اس معاملے میں ہائی کورٹ گئے ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ میں بھی جائیں گے کیونکہ سندھ کی تعداد کم کرنے کا مطلب سیٹیں کم کرنا ہے، جتنی آبادی ہو گی، اتنے ہی فنڈز ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانیوں کو مردم شماری میں شمار کرنے سے اس حلقے کی تعداد میں اضافہ تو ہو جائے گا لیکن کیا یہ منصفانہ تقسیم ہو گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ بروقت حلقہ بندیاں نہ ہوئیں تو وقت پر الیکشن نہیں ہو سکیں گے، بروقت الیکشن کرنا مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی ذمہ داری ہے، انہوں نے 9سال کی تاخیر سے کیوں مردم شماری کرائی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق مشترکہ مفادات کونسل سے اجازت نہیں لی، نمبرز میں فرق ہونے کی وجہ سے سیٹوں کی تعداد میں بھی فرق آئے گا، انہوں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے بارے میں کہا کہ وہ ایک ادارہ ہے، سپریم کورٹ کو جانے سے کوئی کسی کو نہیں روک سکتا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس اس لئے منسوخ کیا کیونکہ نا اہل شخص کو پارٹی سربراہ کے روکنے کا بل اسمبلی میں آتاتھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی پارٹی سے اجلاس کے حوالے سے معاملہ رکھیں گے اور آج اس بارے میں اجلاس میں دیکھیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف جمہوریت کا تسلسل چاہتی ہے، انہوں نے کہا قبل از وقت الیکشن کا مطالبہ غیر آئینی نہیں، حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، سپیکر قومی اسمبلی کا عجلت میں اجلاس منسوخ کیا، مسلم لیگ کا بڑا دھڑا محاذ آرائی سے تنگ آچکا ہے، مسلم لیگ کا بڑا دھڑا سمجھتا ہے کہ نا اہل شخص کو پارٹی صدارت دینے سے مشکلات بڑھیں گی، اپوزیشن نے منگل کو قومی اسمبلی میں نا اہل شخص کی جانب سے پارٹی صدارت نہ رکھ سکنے کا بل پیش کرنا تھا، حکومت کو شکست کا یقین تھا اس لئے اجلاس منسوخ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ہونے والی تفصیلات کو پارٹی کے اجلاس میں رکھوں گا اور بدھ کو اس بارے میں ہونے والے اجلاس میں پارٹی پالیسی بیان کروں گا۔
Print Friendly, PDF & Email
وہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ آنے والے الیکشن پرانی حلقہ بندیاں یا نئی حلقہ بندیوں کے تحت ہوں
ا360بستروں پر مشتمل ہسپتال اگلے سال مکمل ہو گا، گردوں اور جگر کے غریب مریضوں کا علاج مکمل طور پر مفت ہوگا،وزیراعلیٰ پنجاب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »