مسلم لیگ ق نے کا تحریک انصاف کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو تحفظات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ     No IMG     تحریک انصاف نے سابق صدرآصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر بغیر تحقیقات کے بیانات دینے پر وزرا اور پنجاب پولیس پر سخت اظہار برہمی     No IMG     وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جسٹس ثاقب نثارپرتنقید، موجود چیف جسٹس کی تعریف     No IMG     برطانیہ میں بھی برف باری سے شدید سردی     No IMG     برطانیہ کے سابق وزیراعظم کے جان میجر نے موجودہ وزیرِاعظم تھریسا مے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپ سے علیحدگی (بریگزٹ) پر ریڈ لائن سے پیچھے ہٹ جائیں     No IMG     میکسیکو میں پیٹرول کی پائپ لائن میں دھماکے اور آگ لگنے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی     No IMG     امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات     No IMG     سی ٹی ڈی کے مطابق ذیشان کا تعلق داعش سے تھا ,صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت     No IMG     وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو معلوم ہی نہیں پھولوں کا گلدستہ کہاں پیش کرنا ہے کہاں نہیں؟     No IMG     لاہورمیں شہریوں نے پولیس کی دھلائی کر ڈالی، بھاگ کر جان بچائی     No IMG     وزارتِ تجارت نےکاروں کی درآمد پر لگائی جانی والی پابندیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے انہیں مزید سخت کردیا     No IMG     خواتین کے مساوی حقوق اور تشدد کے خاتمے کے لیے امریکہ، برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں خواتین کی جانب سے ریلیاں نکالی گئیں۔     No IMG     فرانس میں صدر میکروں کی حکومت کے خلاف پیلی جیکٹ والوں کا احتجاج اس ہفتے بھی جاری رہا، کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں     No IMG     وزیراعلیٰ پنجاب نے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرلیا     No IMG    

منیلا آسیان کانفرنس،امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پیر کو ہونے والی ملاقات توجہ کا اصل مرکز ہے۔
تاریخ :   12-11-2017

منیلا (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) میں آسیان سربراہ کانفرنس میں عالمی رہنما یوں تو دنیا اور بالخصوص جنوب مشرقی ایشیا کی صورت حال پر غور کریں گے تاہم امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پیر کو ہونے والی ملاقات توجہ کا اصل مرکز ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا کے دس اہم ملکوں کا گروپ آسیان کی یہ  سربراہ کانفرنس ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب متنازعہ بحیرہ جنوبی چین کے حوالے سے بیجنگ حکومت نے جارحانہ موقف اختیار کیا ہوا ہے اور شمالی کوریا نے حالیہ مہینوں میں کئی میزائل تجربات کیے ہیں۔ اس اجلاس میں ان دونوں موضوعات پر شدید بحث کی امید ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ بحری سلامتی، دہشت گردی، ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے اور مہاجرت جیسے امور بھی کانفرنس میں زیر بحث آئیں گے۔

تاہم سب سے زیادہ اہمیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پیر کو ہونے والی ملاقات کو دی جا رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک بات چیت ہو گی۔گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ان دونوں کی یہ دوسری ملاقات ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں بھارت کی شاندار ترقی کے لیے مودی اور ان کی حکومت کی تعریف کی تھی۔ بھارت سمجھتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جنوب ایشیا کے حوالے سے نئی پالیسی میں ایک طرف انڈو پیسیفک کی وکالت کی گئی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان اور چین سے نمٹنے کی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی تائید بھی کی گئی ہے۔ یہاں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ خطے میں سلامتی کے منظر نامے سمیت مختلف امور پر بات کریں گے۔

رمپ او رمودی کی اس ملاقات کو کئی لحاظ سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر نے حال ہی میں چین کے دورے کے دوران چین کے بیلٹ اور روڈ منصوبے(بی آر آئی) میں تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جب کہ بھارت چین کے اس منصوبہ کو خطے کی ترقی میں شفافیت اور مساوات کے منافی قرار دیتا ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ دونوں رہنماؤں کی میٹنگ سے قبل بھارت نے امریکا، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل چہار فریقی اجلاس کی تجویز پیش کرکے ماحول کو گرم کردیا ہے۔ آسیان کانفرنس کے دوران ہی یہ چہار فریقی میٹنگ بھی ہو گی۔ چین نے گزشتہ ہفتے اس مجوزہ ملاقات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ چینی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا، ’’ہمیں امید ہے کہ یہ ملاقات کسی تیسرے فریق کے مفادات کو نشانہ بنائے یا نقصان پہنچائے بغیر علاقے میں امن، خیر سگالی اور خوشحالی کو تحفظ اور فروغ دی گی۔‘‘بھارتی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اس میٹنگ کا مقصد چاروں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان اتحاد کے احساس کو فروغ دینا ہے۔ یہ میٹنگ گوکہ چین کی جانب سے خطے میں کیے جانے والے حالیہ اقدامات کے پس منظر اور اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ اس موقع پر  چاروں رہنما ایک دوسرے سے مل کر اپنے اپنے خیالات پیش کر سکیں گے۔

مجوزہ چہار فریقی میٹنگ کے حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا، ’’بھارت، آسٹریلیا، جاپان اور امریکا کی وزارت خارجہ کے افسران کی ایک ملاقات منیلا میں ہوئی جس میں بھارت بحرالکاہل خطے یا (انڈو پیسیفک) میں مشترکہ مفادات کے حوالے سے مختلف امور پر صلاح و مشورہ کیا گیا۔ شرکاء ایک ایسے پر امن، مستحکم اور خوشحال بھارت بحرالکاہل پر متفق تھے جو خصوصی طور پرخطے کے تمام ملکوں اور عمومی طور پر دنیا کے طویل مدتی مفادات کو پورا کرتا ہو۔ شرکاء نے دہشت گردی اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ جیسے مشترکہ چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘‘

آسیان کانفرنس کے دوران وزیر اعظم مودی اور ان کے چینی ہم منصب لی کی چیانگ کے درمیان ملاقات بھی متوقع ہے۔ وزیر اعظم مودی منیلا میں اپنے تین روزہ قیام کے دوران پندرہویں بھارت آسیان اور بارہویں مشرقی ایشیا کانفرنس کے علاوہ آسیان کے قیام کی پچاسویں سالگرہ کی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔کسی بھارتی وزیر اعظم کا منیلا کا 36 برسوں کے وقفے کے بعد یہ پہلا دورہ ہے۔

آسیان اور بھارت کی مشترکہ آبادی 1.85بلین ہے جو دنیا کی مجموعی آبادی کا ایک چوتھائی ہے۔ دونوں کے درمیان2015\16 میں 65.04 بلین ڈالر کی تجارت ہوئی تھی، جو عالمی مارکیٹ کا 10.12 فیصد ہے۔ آسیان میں انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، برونائی، کمبوڈیا، لاؤس، میانمار اور ویت نام شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
یونان پہنچنے کی کوشش، نوّے مہاجرین اسمگلر سمیت پکڑے گئے, یونانی پولیس
اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کا آخری حد تک دفاع کروں گا, سابق وزیراعظم محمد نواز شریف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »