گورنر پنجاب اپنے عہدے سے مستعفی     No IMG     دھاندلی کے خلاف ہرفورم پر آواز اٹھائیں گے,مسلم لیگ (ن) حمزہ شہباز شریف     No IMG     افغانستنا میں طالبان کی جانب سے چیک پوسٹ اور ایئربیس پر2 حملوں میں 56 اہلکار ہلاک     No IMG     ترکی کی طرف سے امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا آغاز ہوگیا ہے صدر اردوغان کے بہت سے حامیوں نے امریکی موبائل آئی فون کو توڑدیا     No IMG     ہرسال 15اگست کا دن کشمیری عوام کیلئے مصیبت اور مشکلات کا باعث بنتا ہے, تحریک حریت کے ترجمان     No IMG     سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں پاکستانی ایمبیسی میں جشن آزادی روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا ۔     No IMG     منی لانڈرنگ کیس میں سپریم کورٹ نے اومنی گروپ کی مالک انور مجید کو بیٹوں سمیت کمرہ عدالت سے گرفتار     No IMG     بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کے سامنے سب سے بڑااعلان کردیا     No IMG     تحریک انصاف کی بڑی اتحادی جماعت نے عمران خان کیخلاف بغاوت کردی     No IMG     لاہور: پنجاب اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا     No IMG     پاکستان تحریک انصاف سے اقتدار چھن جانے کا خدشہ, تحریک انصاف میں کھلبلی     No IMG     تحریک انصاف کے ایک اور رکن صوبائی اسمبلی ملک غلام عباس کھاکھی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے     No IMG     اگلے4 برسوں میں دنیا کے درجہ حرارات میں اضافہ ہوگا۔ سمندری شدید گرم ہونے سے ، طوفان اور قدرتی آفات کا خطرہ دنیا بھر میں بڑھے گا, سائنسدانوں     No IMG     قومی اسمبلی کے اسپیکراورڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے آج سخت مقابلہ متوقع ہے     No IMG     احتساب عدالت کے باہر حالات کشیدہ ہو گئے,پولیس اہلکاروں اور ن لیگی کارکنوں میں جھڑپیں     No IMG    

مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس
تاریخ :   17-05-2018

اسلام آباد ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) ::مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیر صدارتمسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس میں لیگی رہنماؤں نے پارٹی قائد نواز شریف کے بیانیے اور ان کی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شہباز شریف سے مداخلت کی درخواست کی۔ شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کو درپیش مشکلات اور سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔اجلاس میں پارٹی اراکین نے شہباز شریف کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ اراکین نے اجلاس میں کہا کہ نواز شریف کے بیان کے بعد ہمارے لیے ماحول سازگار نظر نہیں آرہا ،ارکان نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال میں ہمیں الیکشن مہم میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اجلاس میں پارلیمانی پارٹی کے اراکین نے شہباز شریف سے رہنمائی طلب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی بتائیں ہم کیا کریں۔اجلاس میں شریک ارکان کی رائے تھی کہ محاذ آرائی کے بغیر ہی الیکشن لڑنا اور جیتنا چاہئیے، نواز شریف کے بیان کے بعد ماحول کافی ناسازگار ہو گیا ہے ، ہمیں محاذ آرائی سے اجتناب کرنا چاہئیے، لیگی اراکین نے کہا کہ جس نے بھی متنازعہ صحافی کو نواز شریف سے ملوایا وہ غدار ہے۔ جو بیانیہ شہباز شریف کا ہے وہی نواز شریف کا بھی ہونا چاہئیے۔ارکان نے اس معاملے میں شہباز شریف سے مداخلت کی درخواست بھی کی اور کہاکہ نواز شریف کو دیرینہ ساتھیوں سے صلاح کرنے کا مشورہ بھی دیں، نواز شریف کو آپ کو پہلے ہی پارٹی صدر بنا دینا چاہئیے تھا۔پارلیمانی اراکین نے چودھری نثار علی خان کو واپس لانے کا مطالبہ بھی کیا ۔اراکین نے پارٹی صدر سے اپیل کی کہ ہمین اس بھنور سے نکالیں۔ شہباز شریف نے پارٹی اراکین کو یقین دہانی کروائی کہ میں آپ کے تحفظات اور تجاویز کو نواز شریف تک پہنچاؤں گا۔یاد رہے کہمسلم لیگ ن کے کئی رہنما نواز شریف کے ملک مخالف بیانیے پر پارٹی کو خیر باد کہہ چکے ہیں، پانامہ لیکس کیس میں پی ٹی آئی کو بڑی کامیابی حاصل ہونے کے بعد سے ہی پی ٹی آئی کی سیاسی فتوحات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔پانامہ لیکس کیس میں نا اہل ہونے پر مسلم لیگ ن کے رہنما نواز شریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونا پڑا بلکہ انہیں پارٹی صدارت کے عہدے سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف نے سپریم کورٹ سے نا اہلی کے بعد عدلیہ مخالف بیانات دینا شروع کر دئے جن کی ان کے اپنے پارٹی رہنماؤں نے بھی مخالفت کی۔ نواز شریف کی عدلیہ اور ریاستی اداروں کے مخالف پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کئی رہنما حکومتی جماعت سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں تاہم اب نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان کی وجہ سے بچے کُھچے پارٹی رہنماؤں نے بھی پارٹی چھوڑنے پر غور شروع کر دیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نواز شریف کے اس بیان سے ان کی پارٹی اور آئندہ الیکشن میں ان کے ووٹ بنک کو بھاری نقصان پہنچے گا ، جبکہ کچھ اطلاعات کے مطابق نواز شریف کے اس بیان کو لے کر پارٹی میں دھڑے بندی کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ لیکن نواز شریفاپنے بیان پر قائم ہیں اور ان کا کہناہے کہ میں سچ کہوں گا چاہے اس کے لیے مجھے کچھ بھی سہنا پڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »