گورنر پنجاب اپنے عہدے سے مستعفی     No IMG     دھاندلی کے خلاف ہرفورم پر آواز اٹھائیں گے,مسلم لیگ (ن) حمزہ شہباز شریف     No IMG     افغانستنا میں طالبان کی جانب سے چیک پوسٹ اور ایئربیس پر2 حملوں میں 56 اہلکار ہلاک     No IMG     ترکی کی طرف سے امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا آغاز ہوگیا ہے صدر اردوغان کے بہت سے حامیوں نے امریکی موبائل آئی فون کو توڑدیا     No IMG     ہرسال 15اگست کا دن کشمیری عوام کیلئے مصیبت اور مشکلات کا باعث بنتا ہے, تحریک حریت کے ترجمان     No IMG     سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں پاکستانی ایمبیسی میں جشن آزادی روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا ۔     No IMG     منی لانڈرنگ کیس میں سپریم کورٹ نے اومنی گروپ کی مالک انور مجید کو بیٹوں سمیت کمرہ عدالت سے گرفتار     No IMG     بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کے سامنے سب سے بڑااعلان کردیا     No IMG     تحریک انصاف کی بڑی اتحادی جماعت نے عمران خان کیخلاف بغاوت کردی     No IMG     لاہور: پنجاب اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا     No IMG     پاکستان تحریک انصاف سے اقتدار چھن جانے کا خدشہ, تحریک انصاف میں کھلبلی     No IMG     تحریک انصاف کے ایک اور رکن صوبائی اسمبلی ملک غلام عباس کھاکھی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے     No IMG     اگلے4 برسوں میں دنیا کے درجہ حرارات میں اضافہ ہوگا۔ سمندری شدید گرم ہونے سے ، طوفان اور قدرتی آفات کا خطرہ دنیا بھر میں بڑھے گا, سائنسدانوں     No IMG     قومی اسمبلی کے اسپیکراورڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے آج سخت مقابلہ متوقع ہے     No IMG     احتساب عدالت کے باہر حالات کشیدہ ہو گئے,پولیس اہلکاروں اور ن لیگی کارکنوں میں جھڑپیں     No IMG    

مسلم لیگ (ن) اپنے ان اراکینِ اسمبلی کی ناراضی دور کرنے کے لیے کوشاں
تاریخ :   01-12-2017

اسلام آباد(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اپنے ان اراکینِ اسمبلی کی ناراضی دور کرنے کے لیے کوشاں ہے جنہوں نے ختمِ نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے متنازع معاملے کے بعد سرگودھا کی ایک مذہبی شخصیت سے رابطہ کرکے اپنی جماعت کی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ ایک درجن قانون سازوں نے پیر وحید الدین سیالوی سے رجوع کر کے حلف نامے میں ہونے والی تبدیلی سے متعلق اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق ان اراکینِ اسمبلی نے اپنے استعفے بھی وحید الدین سیالوی کو پیش کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ ختمِ نبوت کے حلف نامے میں ہونے والی مبینہ تبدیلی کے بعد اور پھر اس تبدیلی کو درست کرنے کے باوجود بھی حکومت کو مذہبی و سیاسی حلقوں کے طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ معاملہ مسلم لیگ کے اندر بھی اختلاف کی وجہ بنا۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ختمِ نبوت کے حساس معاملے کے پیشی نظر بعض قانون ساز یہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ ان کی جماعت کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔

سیاسی امور کے تجزیہ کار احمد بلال محبوب نے جمعے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، “یہ امر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہماری ہاں سیاست کس حد تک مذہبی اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں کے اثر کے تحت آ چکی ہے۔”

انہوں نے کہا، “مذہب کا اثر ہماری سیاست میں ہمیشہ سے ہے اور رہے گا کیونکہ ملک کی بڑی اکثریت اسلام سے وابستہ ہے۔ لیکن اس طرح وزرا اور قانون ساز (مذہبی شخصیت) کے سامنے اپنے استعفے پیش کر یں گے اور پھر وہ بتائیں گے کہ آپ مسلمان ہیں یا نہیں اور آپ کو مسلمان ہونے کے لیےکیا کرنا چاہیے، یہ صورت حال پہلے نہیں تھی۔”

احمد بلال نے مزید کہا کہ یہ صورتِ حال بڑھتے ہوئے مذہبی اثر و رسوخ کی مظہر ہے اور اس سے ریاستی اداروں کی کمزوری کا اظہار ہوتا ہے۔

تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے ختمِ نبوت کے حلف نامے میں مبینہ تبدیلی کے معاملے کے اثرات مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک پر پڑ سکتے ہیں۔

دوسری طرف سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ختمِ نبوت کا معاملہ ہمیشہ سے ہی ایک حساس معاملے رہا ہے۔ لیکن ان کے بقول یہ ایک جذباتی معاملہ ہے اور سیاست پر اس کا اثر انداز ہونا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا، “اگر مسلم لیگ (ن) فوراً اس پیغام کو سمجھ گئی اور اس معاملے کو آگے مزید نہ بڑھنے دیا تو عام بریلوی مسلک کا ووٹر شاید اس سے متاثر نہ ہو۔ اب تک جو متاثر ہوئے ہیں وہ بریلوی مسلک کے بہت سرگرم کارکن ہیں۔”

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حکومت نے معاہدہ کر کے ایک مشکل کو ٹال دیا ہے جس سے ان کی مذہبی حلقوں سے کشیدگی میں کمی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ حمید الدین سیالوی کا پنجاب کے بعض عوامی حلقوں میں اثر و رسوخ ہے اور جب یہ معاملہ ان کے پاس گیا ہے تو مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنما اس معاملے پر اپنی وضاحت پیش کریں گے کیونکہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کی اکثریت اور ان کے ووٹر بھی مذہبی طور پر ایک ہی سوچ کے حامل ہیں۔

واضح رہے کہ ختمِ نبوت کے حلف نامے میں ہونے والی مبینہ تبدیلی کے بعد ایک مذہبی و سیاسی ‘تحریکِ لبیک یار سول اللہ ‘ نے تین ہفتوں سے زائد عرصے تک اسلام آباد میں دھرنا دیا۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ختمِ نبوت کے حلف نامے میں مبینہ تبدیلی کے ذمہ دار افراد کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور وزیرِ قانون زاہد حامد مستعفی ہوں۔

اگرچہ حکومت کا موقف تھا کہ حلف نامے میں تبدیلی ایک کلیریکل غلطی تھی جسے بعد میں درست کر لیا گیا اور اب اس معاملے پر کسی احتجاج یا دھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

لیکن بعد ازاں دھرنے کو پولیس کی مدد سے ختم کرنے کی ناکام کوشش کے بعد حکومت نے فوج کی مدد سے مذہبی جماعت کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد اس دھرنے کو ختم کرایا اور وزیرِ قانون کو بھی مستعفیٰ ہونا پڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »