چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

مذاکرات کی کامیابی تک شام اور عراق سے نہیں نکلیں گے,امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس
تاریخ :   14-11-2017

امریکی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) سربراہی میں قائم اتحاد شام اور عراق میں داعش کے خلاف جنگ اُس وقت تک جاری رکھے گا جب تک اقوام متحدہ کی طرف سے جاری امن مذاکرات آگے نہیں بڑھتے۔ یہ بات امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمیز میٹس کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’جب تک جنیوا امن مذاکرات آگے نہیں بڑھتے، ہم اُس وقت تک چھوڑ کر جانے والے نہیں ہیں۔‘‘ میٹس کا مزید کہنا تھا، ’’آپ کو اس بگڑی ہوئی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے اب کچھ کرنا ہے، صرف یہ نہیں کہ آپ فوجی لڑائی تو لڑیں اور باقی صورتحال کے لیے محض گڈ لک کہہ کر چھوڑ دیں۔‘‘

سابق میرین جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی سربراہی میں اتحاد کا ہمیشہ سے ہدف داعش کے خلاف لڑنا اور شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک سفارتی حل تلاش کرنا تھا: ’’ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ایک سفارتی حل کے لیے صورتحال کو موزوں بنایا جائے۔‘‘

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹِس کی طرف سے یہ بیان امریکا اور روس کی طرف سے ہفتہ 11 نومبر کو جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان کے دو دن بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ شامی تنازعے کا ’’کوئی فوجی حل‘‘ نہیں ہے۔

امریکا اور روس کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق، ’’دونوں صدور نے شام کی خودمختاری، اتحاد، آزادی، علاقائی سالمیت اور غیر فرقہ ورانہ کردار کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی تائید کی۔‘‘ اس بیان میں شامی بحران کے تمام فریقوں سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے جنیوا امن مذاکرات میں شریک ہوں۔

اقوام متحدہ کی طرف سے شامی بحران کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی آئندہ تاریخ 28 نومبر مقرر کی گئی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت جنیوا میں یہ مذاکرات شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسٹیفان ڈے مِستورا کی سربراہی میں کرائے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اب تک شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ان امن مذاکرات کے سات راؤنڈ منعقد ہو چکے ہیں تاہم ان میں سب سے بڑی رکاوٹ کو دور کرنے کی کوئی راہ نہیں نکل سکی اور یہ رکاوٹ شامی صدر بشار الاسد کے مستقبل کے حوالے سے ہے۔

مارچ 2011ء میں حکومت مخالف مظاہروں سے شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زائد شامی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی ملین گھر بار سے محروم ہو کر مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
مسلہ کشمیر ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ،جنرل زبیر
روہنگیا مسلمانوں پر کوئی ظلم نہیں کیا اورنہ ہی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ : برمی فوج

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »