پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے ہمارے سیاستدان تو اپنے 4 صوبے نہیں سنبھال سکتے۔شاہد خان آفریدی     No IMG     چین میں متعدد پاکستانیوں کی بیگمات گرفتار     No IMG     ساہیوال میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد گرفتار     No IMG     فیصل آباد میں وکلاء کا احتجاج     No IMG     اوورسیز پاکستانیوں کیلئے نیا پاکستان کالنگ ویب پورٹل کا افتتاح     No IMG     بلوچستان ریلوے کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں, وفاقی وزیر ریلوے     No IMG     اسمبلی کی تقریر کو عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا,سابق وزیر اعظم     No IMG     اسرائیلی فوج ’فوری طور پر حملے بند, کرے، ترکی     No IMG     یورپی فوج‘ تشکیل دی جائے ,چانسلر انگیلا میرکل     No IMG     ترکی میں مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک     No IMG     آرمی چیف کی زیر صدارت کمانڈرز کانفرنس     No IMG     ٹریفک کےمختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق     No IMG     اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی مندی کا رحجان     No IMG     ایف بی آرنے وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کیلئے قائم کردہ جے آئی ٹی کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا     No IMG     نیب ادارہ ختم کر دیا جا ئے ، اہم ترین اعلان     No IMG    

مجھے باندھ کر زبردستی میرا بچہ ضائع کیا گیا
تاریخ :   25-05-2018

اٹلی ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) میں زیرِتعلیم پاکستانی طالبہ جس نے اپنے گھر والوں پر پاکستان لے جا کر دھوکے سے اسقاطِ حمل کروانے کا الزام عائد کیا تھا بازیابی کے بعد واپس اٹلی پہنچ گئی ہے۔

19 سالہ فرح نامی طالبہ اٹلی کے شہر ویرونا میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور چند ماہ قبل وہ حاملہ ہو گئی تھیں۔

فروری میں ان کے گھر والے انھیں مبینہ طور پر زبردستی واپس پاکستان لے گئے تھے اور بعد ازاں انھوں نے اپنے دوستوں سے اپیل کی اور کہا کہ ان کی مرضی کے خلاف ان کا بچہ گرایا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے انھیں اسلام آباد میں پاکستانی حکام نے ریسکیو کیا

کچھ روز تک اطالوی سفیر کے گھر پر رہنے کے بعد فرح جمعرات کی صبح میلان کے میلپینسا ہوائی اڈے پر پہنچیں۔ اب اطالوی پولیس ان کا بیان لے گی جس کے بعد قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اطالوی میڈیا میں شائع ہونے والے فرح کے بیانات کے مطابق انھوں نے اپنے والدین پر الزام لگایا کہ انھوں نے فرح کو ’نشہ آور ادویات دے کر بستر سے باندھ کر اسقاطِ حمل پر مجبور کیا۔‘

یاد رہے کہ فرح کی کہانی منظرِ عام پر آنے سے چند ہفتے قبل ہی ایک اطالوی خاتون کی پاکستان میں ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی جنھیں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔

26 سالہ اطالوی شہری ثنا چیمہ کی موت 18 اپریل کو ہوئی تھی اور ان کے اہلخانہ کا موقف تھا کہ وہ بیمار تھیں۔ جس روز وہ ہلاک ہوئیں اس کے ایک دن بعد انھیں اٹلی واپس جانا تھا۔ تاہم ان کی پر اسرار حالات میں موت پر اٹلی کے ذرائع ابلاغ میں انہیں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کرنے کے حوالے سے خبریں شائع ہونے کے بعد مقامی پولیس نے جانچ پڑتال شروع کی تھی۔

اطالوی وزیرِ خارجہ اینجلو الفانو نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ’فرح آخرکار اٹلی لوٹ آئی ہیں اور اب محفوظ جگہ پر ہیں۔‘ اینجلو الفانو نے پاکستانی حکام کے تعاون کی تعریف بھی کی۔

اطالوی میڈیا کے مطابق فرح کا خاندان 2008 میں ویرونا منتقل ہوا تھا۔ اسی شہر میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ان کی ملاقات ان کے موجودہ منگیتر سے ہوئی اور وہ حاملہ ہو گئیں۔

فرح نے پہلی بار حکام سے ستمبر میں رابطہ کیا تھا اور انھیں خواتین کے مقامی شیلٹر نے تحفظ دیا ہوا تھا۔ ان کے والد کو برے سلوک کے حوالے سے مقامی حکام کے پاس رپورٹ کیا جا چکا ہے۔

تاہم بعد میں ان کی اپنے خاندان کے ساتھ صلح ہو گئی تھی اور وہ اس خیال سے ان کے ساتھ پاکستان گئی تھیں کہ ان کے بھائی کی شادی ہو رہی ہے۔

جب ویرونا میں ان کی ساتھی طلبا نے اپنی ٹیچرز سے رابطہ کیا تو خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ سماجی امور کی ایک مقامی اہلکار کا کہنا ہے کہ ان کے دستاویزات چوری کر لیے گئے تھے اور ان پر کڑی نظر رکھی جا رہی تھی۔

خیال رہے کہ فرح اطالوی شہری نہیں ہیں اس لیے اٹلی کی وزارتِ خارجہ اور ویرونا پولیس نے پاکستانی حکام سے مدد مانگی جنھوں نے اسلام آباد میں فرح کا گھر تلاش کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
اسرائیلی سپریم کورٹ نے فلسطینیوں کے سروں سے چھت چھین لی
پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ 13 خواجہ سراوں نے ملک بھر سے الیکشن لڑنے کا اعلان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »