پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

مجھے باندھ کر زبردستی میرا بچہ ضائع کیا گیا
تاریخ :   25-05-2018

اٹلی ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) میں زیرِتعلیم پاکستانی طالبہ جس نے اپنے گھر والوں پر پاکستان لے جا کر دھوکے سے اسقاطِ حمل کروانے کا الزام عائد کیا تھا بازیابی کے بعد واپس اٹلی پہنچ گئی ہے۔

19 سالہ فرح نامی طالبہ اٹلی کے شہر ویرونا میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور چند ماہ قبل وہ حاملہ ہو گئی تھیں۔

فروری میں ان کے گھر والے انھیں مبینہ طور پر زبردستی واپس پاکستان لے گئے تھے اور بعد ازاں انھوں نے اپنے دوستوں سے اپیل کی اور کہا کہ ان کی مرضی کے خلاف ان کا بچہ گرایا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے انھیں اسلام آباد میں پاکستانی حکام نے ریسکیو کیا

کچھ روز تک اطالوی سفیر کے گھر پر رہنے کے بعد فرح جمعرات کی صبح میلان کے میلپینسا ہوائی اڈے پر پہنچیں۔ اب اطالوی پولیس ان کا بیان لے گی جس کے بعد قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اطالوی میڈیا میں شائع ہونے والے فرح کے بیانات کے مطابق انھوں نے اپنے والدین پر الزام لگایا کہ انھوں نے فرح کو ’نشہ آور ادویات دے کر بستر سے باندھ کر اسقاطِ حمل پر مجبور کیا۔‘

یاد رہے کہ فرح کی کہانی منظرِ عام پر آنے سے چند ہفتے قبل ہی ایک اطالوی خاتون کی پاکستان میں ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی جنھیں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔

26 سالہ اطالوی شہری ثنا چیمہ کی موت 18 اپریل کو ہوئی تھی اور ان کے اہلخانہ کا موقف تھا کہ وہ بیمار تھیں۔ جس روز وہ ہلاک ہوئیں اس کے ایک دن بعد انھیں اٹلی واپس جانا تھا۔ تاہم ان کی پر اسرار حالات میں موت پر اٹلی کے ذرائع ابلاغ میں انہیں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کرنے کے حوالے سے خبریں شائع ہونے کے بعد مقامی پولیس نے جانچ پڑتال شروع کی تھی۔

اطالوی وزیرِ خارجہ اینجلو الفانو نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ’فرح آخرکار اٹلی لوٹ آئی ہیں اور اب محفوظ جگہ پر ہیں۔‘ اینجلو الفانو نے پاکستانی حکام کے تعاون کی تعریف بھی کی۔

اطالوی میڈیا کے مطابق فرح کا خاندان 2008 میں ویرونا منتقل ہوا تھا۔ اسی شہر میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ان کی ملاقات ان کے موجودہ منگیتر سے ہوئی اور وہ حاملہ ہو گئیں۔

فرح نے پہلی بار حکام سے ستمبر میں رابطہ کیا تھا اور انھیں خواتین کے مقامی شیلٹر نے تحفظ دیا ہوا تھا۔ ان کے والد کو برے سلوک کے حوالے سے مقامی حکام کے پاس رپورٹ کیا جا چکا ہے۔

تاہم بعد میں ان کی اپنے خاندان کے ساتھ صلح ہو گئی تھی اور وہ اس خیال سے ان کے ساتھ پاکستان گئی تھیں کہ ان کے بھائی کی شادی ہو رہی ہے۔

جب ویرونا میں ان کی ساتھی طلبا نے اپنی ٹیچرز سے رابطہ کیا تو خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ سماجی امور کی ایک مقامی اہلکار کا کہنا ہے کہ ان کے دستاویزات چوری کر لیے گئے تھے اور ان پر کڑی نظر رکھی جا رہی تھی۔

خیال رہے کہ فرح اطالوی شہری نہیں ہیں اس لیے اٹلی کی وزارتِ خارجہ اور ویرونا پولیس نے پاکستانی حکام سے مدد مانگی جنھوں نے اسلام آباد میں فرح کا گھر تلاش کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
اسرائیلی سپریم کورٹ نے فلسطینیوں کے سروں سے چھت چھین لی
پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ 13 خواجہ سراوں نے ملک بھر سے الیکشن لڑنے کا اعلان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »