امریکی صدر شیر کی دم کے ساتھ کھیلنا ترک کردے ۔ مزاحمت یا تسلیم کے علاوہ کوئي اور راستہ نہیں۔     No IMG     افریقی ملک مراکش کی عدالت نے ایک بچی کی اجتماعی عصمت ریزی کے گھناؤنے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع     No IMG     دوست کو چاقو کے وارسے قتل کرنے والی حسینا کو سزائے موت     No IMG     بہاولپور جلسے میں کم تعداد پر عمران خان برہم لیکن پارٹی عہدیداران نے ایسی بات بتادی کہ کپتان کیساتھ جہانگیر ترین بھی حیران پریشان     No IMG     اکرام گنڈا پور کے قافلے پر خود کش حملہ، ڈرائیور شہید، تحریک انصاف کے امیدوار اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد زخمی     No IMG     پاکستان اچھا کھیلاہم بہت براکھیلے،زمبابوین کھلاڑی کا اعتراف     No IMG     پاکستان سمیت دنیا بھر میں28 جولائی کو مکمل چاند گرہن ہوگا     No IMG     حنیف عباسی کا فیصلہ انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں , شہباز شریف     No IMG     سعودی عرب غیر ملکی ٹرک ڈرائیوروں پر پابندی سے ماہانہ 200ملین ریال کا نقصان ہوگا     No IMG     امریکہ میں کال سینٹر اسکینڈل میں ملوث 21 بھارتی شہریوں کو20 سال تک کی سزا     No IMG     اسرائیی حکومت نے القدس میں سرنگ کی مزید کھدائی کی منظوری دے دی     No IMG     ویتنام کے شمالی علاقوں میں سمندری طوفان سے 20 افراد ہلاک اور14 زخمی ہوگئے     No IMG     شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا ملنے سے اب این اے 60 راولپنڈی کا الیکشن یکطرفہ ہو جائے گا     No IMG     حنیف عباسی نے انسداد منشیات عدالت کی جانب سے دی گئی عمرقید کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان     No IMG     اسرائیل کے مجرمانہ حملوں میں 4 فلسطینی شہری شہید     No IMG    

متحدہ عرب امارات

  • دبئی میں برقع پہن کر بیوی کی جاسوسی کرنے والا کو پولیس نے پکڑ لیا

    دبئی( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) متحدہ عرب امارات میں پولیسنے میٹرو اسٹیشن سے برقع پوش بھارتی شہری کو حراست میں لے لیا جو اہلیہ کی جاسوسی کے لئے برقع پہن کر اس کا پیچھا کررہا تھا۔عرب ٹی وی کے مطابقدبئی میٹرو اسٹیشن پر اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی جب پولیس اہلکار نے ایک مشکوک برقع پوش کو تلاشی کی غرض سے روک لیا۔

    اہلکار کے حکم پر جب اس نے نقاب الٹا تو برقع پوش کوئی عورت نہیں بلکہ مرد تھا جس پر 2 ہزار درہم جرمانہ عائد کر کے حراست میں لے لیا گیا اور عدالت میں پیش کردیا جہاں اقبالی بیان میں بیوی کی جاسوسی کا اقرار کرتے ہوئے شوہر نے بتایا کہ اپنی ہم وطن اہلیہ کی جاسوسی کرنے کے لیے میں نے بھیس بدلا لیکن اس سے قبل کہ میں اپنی بیوی کو پکڑتا پولیس نے مجھے ہی دھرلیا۔

  • متحدہ عرب امارات نے18 سال سے کم عمر بچوں کی ویزا فیس معاف

     متحدہ عرب امارات( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) نے سیاحت کو مزید فروغ دینے کے لیے 18 سال سے کم عمر بچوں کی ویزا فیس معاف کردی۔متحدہ عرب امارات کی انتظامیہ نے موسم گرما سے بھرپور لطف لینے کے لیے خوش خبری کا اعلان کرتے ہوئے 18 سال سے کم عمر افراد کو ویزا فیس کی ادائیگی سے مستثنیٰ  قرار دے دیا۔ یو اے ای کی کابینہ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں سیاحت کی غرض سے آنے والے 18 سال سے کم عمر بچوں کی ویزا فیس معاف کردی گئی ہے یہ قانون ہر سال موسم گرما کے دوران 15 جولائی سے 15 ستمبر تک لاگو ہوگا،

  • مُتحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین کا ’بی آؤٹ کیو’ کے خلاف سعودی اقدامات کا خیر مقدم

    مُتحدہ عرب امارات( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو)، مصر اور بحرین نے سعودی عرب کی طرف سے ایک نجی نشریاتی ادارے’بی آؤٹ کیو‘ کے خلاف اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس سے قبل فٹ بال کی عالمی ایسوسی ایشن [ فیفا] کی جانب سے ’بی آؤٹ کیو‘ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا گیا جس پر سعودی عرب کی طرف سے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ ٹی وی چینل سعودی عرب میں روس میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے میچوں کو غیر قانونی

    طور پر نشر کررہا ہے۔

    تینوں عرب ممالک نے ’بی آئوٹ کیو‘ کے خلاف سعودی عرب کے اقدمات کو درست اور قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بھی اپنے ہاں اس تی وی چینل کے خلاف ایسے قانونی اقدامات کریں گے۔

    تینوں ممالک نے کہا ہے کہ ’بی کیو اؤٹ کیو‘ٹی وی چینل عرب ممالک کے نظریاتی مالکانہ حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے۔

    مُتحدہ عرب امارات کی نیشنل میڈیا کونسل نے سعودی عرب اور ’فیفا‘ کی طرف سے نجی ٹی وی چینل کے خلاف اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی چینل سعودی عرب کے شاہی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔

    ادھر مصر کی سپریم کونسل برائے اطلاعات نے بھی’بی آئوٹ کیو‘ کے معاملے میں سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنانے کو مسترد کردیا ہے۔

    سعودی وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیفا کی جانب سے اس اقدام سے مملکت کی وزارت تجارت اور سرمایہ کاری کی بی آؤٹ کیو ٹی وی اور بی اِن کی غیر قانونی نشریات کو رکوانے کے لیے ان تھک کوششوں کو تقویت ملے گی۔ سعودی عرب اپنی حدود میں انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے تحفظ کے لیے اقدامات کررہا ہے۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ بی آؤٹ کیو کی نشریات سعودی عرب کے علاوہ مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا ] مینا] کے خطے کے ممالک میں بھی غیر قانونی طور پر اور سرقہ بازی کے ذریعے دکھائی جارہی ہیں۔اس کے باوجود بعض غیر ذمے دارانہ میڈیا رپورٹس میں سعودی عرب کو بی آؤٹ کیو کے سرقے سے جوڑنے کی غیر منصفانہ اور غلط کوشش کی گئی ہے۔

  • دبئی میں 7 پاکستانی شہریوں کو چوری کرنے کے الزام میں گرفتار

    دبئی(ورلڑ فاسٹ نیوز فار یو) میں 7 پاکستانی شہریوں کو چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے جانے والے 7 پاکستانی شہریوں پر ایک بکتر بند گاڑی سے 47 کروڑ روپے چُرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ دبئی میں قانون نافذ

     

    کرنے والے اداروں نے 7 پاکستانی شہریوں کو 47 کروڑ روپے چوری کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ بکتر بند گاڑی رقم منتقل کرنے والی ایک کمپنی کی تھی۔ کمپنی میں کام کرنے والے تین پاکستانی ڈرائیوروں کو بھی مجرموں سے تعلق ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے اس چوری سے متعلق تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔ ڈرائیورز کی گرفتاری کے بعد 4 مزید ملزمان کو چوری میں لوجیکل سپورٹ فراہم کرنے پر حراست میں لیا گیا۔

    قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے سے متعلق مزید تفتیش بھی کر رہے ہیں۔

    سکیورٹی حکام نے بتایا کہ زیر حراست تمام افراد کو اس جُرم کے مرتکب ہونے پر تین سال جیل کاٹنے کے بعد ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ کمپنی میں کام کرنے والے دو نیپالی گارڈ نے پاکستانی ڈرائیوروں کے ساتھ رابطہ ختم ہونے پر کمپنی کے مینجر کو آگاہ کیا۔ ملزموں کو پہچاننے کے لیے سی سی ٹی کیمروں کی مدد بھی لی گئی ہے۔جس میں پاکستانی ڈرائیوروں کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔حراست میں لیے گئے ایک ڈرائیور کی عمر 30سال ہے جب کہ ایک اور ڈرائیور کی عمر لگ بھگ 39 سال ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد ملحقہ علاقوں میں چھاپے مارے جہاں سے پاکستانی ڈرائیوروں کو گرفتار کیا گیا۔حراست میں لیے گئے تمام افراد اب دبئی کے قانون کے مطابق سزا پوری کریں گے اور اس کے بعد ہی وطن واپس لوٹ سکیں گے۔

  • دُبئی: سرکاری ملازمین کی چھُٹیوں کے لیے نئی پالیسی کا اعلان

    دُبئی(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو):  دُبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی جانب سے سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود پر مبنی ہیومن ریسورس قانون کا اعلان کر دیا گیا۔ نو وضع قانون کی رُو سے آٹھویں گریڈ سے گیارھویں گریڈ تک کے ملازم سالانہ 25چھُٹیاں تنخواہ کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں جبکہ اس سے پہلے ان چھُٹیوں کی تنخواہ 22 تھی۔ساتویں گریڈ اور اس سے نچلے درجے کے ملازمین کے لیے تنخواہ کے ساتھ چھُٹیوں کی تعداد 15 سے بڑھا کر 18 کر دی گئی ہے۔اماراتی ملازمین کے گھرانوں کے 21 سال تک کی عمر کے افراد ٹریول الاؤنس کے حقدار ٹھہریں گے جبکہ اس سے پہلے یہ سہولت 18 سال تک کی عمر کے فیملی ممبران تک محدود تھی۔ غیر مُلکی ملازمین کے 21 سال سے کم عمر تین بچوں کو ٹریول الاؤنس کی سہولت حاصل ہوگی۔

    جیون ساتھی کے انتقال کی صورت میں ملازمین کو 10 دِن کی تعطیلات کی اجازت دی گئی ہے جبکہ دیگر قریبی رشتے داروں کی وفات پر پانچ دِن کی رُخًصت سے نوازا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ اس قانون کی رُو سے کئی دیگر فوائد کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ جن میں اوقاتِ کار میں کمی اور پانچ دِن کی خصوصی رخصت بھی شامل ہے۔ سرکاری ملازمین کو دیگر محکموں میں بہتر ملازمت کے حصول کے حوالے سے بھی ترجیح دی جائے گی۔ قانون کے مطابق ہفتے کے دوران 40 گھنٹے کے لازمی اوقاتِ کار کی پابندی کا خاتمہ کر کے ملازمین کو اوور ٹائم کا حق دِیا گیا ہے۔خرابی صحت کا شکار ملازمین کو بیماری کی مزید رُخصت لینے کا حق دیا جارہا ہے۔ ملازمین اِن ہاؤس پروموشن کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں جبکہ انہیں وقتاً فوقتاً بونس سے بھی نوازا جائے گا۔ نئے قانون کی رُو سے مزید تعلیم کے حصول کے خواہش مند سرکاری ملازمین کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی اور اُنہیں تحقیقی اور تعلیمی مقالوں پر کام کرنے کی غرض سے پانچ دِن کی رخصت بمعہ تنخواہ کی سہولت دی جائے گی۔دُبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے نئے قانون کے حوالے سے ٹویٹ پر اپنے خیالات شیئر کرتے ہوئے کہا’’ نئے ہیومن ریسورس قانون کی تشکیل کا مقصد سرکاری ملازمین کو کام کے لیے انتہائی سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ یہ قانون ہمارے ملازمین کو بہتر مستقل اور اُنہیں پُرمسرت بنانے کے وِژن کی ترجمانی کرتا ہے۔ ہم اپنی معاشی کامیابیوں کے مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے ملازمین کو روزگار اور اُن کی فلاح و بہبود کے حوالے سے بہترین اقدامات کرنا چاہ رہے ہیں۔‘‘ جبکہ دُبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد نے اس نئے قانون کو سراہتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ قانون دُبئی حکومت کی جانب سے جاری اُن کوششوں کے سلسلے میں ایک بڑی جست ثابت ہو گا جس کا مقصد گورنمنٹ کے اداروں میں کام کے ماحول اور ادارہ جاتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنا نا اور اُنہیں بین الاقوامی معیار عطا کرنا ہے۔ اس قانون میں سرکاری ملازمین کی ضروریات کو ترجیح دی گئی ہے جس سے اُن کی صلاحیتیں اور مہارتیں بھی نکھریں گی اور وہ نِت نئی اختراعات اور موقعوں کی طرف مائل ہو ں گے۔

  • یو اے ای: غیر ملکیوں کےویزے میں ایک سال کی توسیع

    دبئی (ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے جنگوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک کے شہریوں کو مزید ایک سال کے لیے مملکت میں قیام کی اجازت دے دی ہے۔

    امارات کی کابینہ نے سوموار کو اس ضمن میں ایک قرارداد کی منظوری دی ہے۔اس کے تحت جنگوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک کے شہریوں کے ویزوں میں غیر مشروط طور پر مزید ایک سال کے لیے توسیع کردی جائے گی۔ وہ ویزے کی مدت ختم ہونے کی صورت میں اس سال یکم اگست سے 31 اکتوبر تک یو اے ای میں مزید قیام کر سکتے ہیں ۔ان کے خلاف ویزے سے متعلق کسی بے ضابطگی پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور وہ جرمانے سے بھی مستثنا ہوں گے۔

    کابینہ کا اجلاس یو اے ای کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی صدارت میں ہوا ۔ یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق ’’ امارات اقتصادی ترقی ، ثقافتی اقدار اور سماجی اور سیاسی استحکام کے لیے ایک عالمی ماڈل پر عمل پیرا ہے۔اس کی خارجہ پالیسی شیخ زاید بن سلطان آل نہیان نے ایک طویل عرصہ قبل دانش ،جدیدیت اور تمام ریاستوں سے بہتر تعلقات برقرار رکھنے کے تزویری اصول پر استوار کی تھی تاکہ دنیا بھر میں ضرورت مند اور مصائب سے دوچار افراد کی مدد کی جاسکے اور بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے فروغ میں موثر کردار ادا کیا جا سکے‘‘۔

  • متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنے 4 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف

    متحدہ عرب امارات(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) نے یمن میں اپنے 4 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے مغرب میں اس کے 4 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ یمن پر مسلط کردہ جنگ میں متحدہ عرب امارات سعودی عرب کا اہم اتحادی ملک ہے۔

    ذرائع کے مطابق یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ کو تین سال گزر گئے ہیں لیکن سعودی عرب کو یمنی عوام کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے سعودی عرب نے اس جنگ میں دل کھول کر یمن کے نہتے عربوں  کا ناحق خون بہایا ہے جس کا اسے تاوان ادا کرنا پڑےگا۔

  • متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ تعاون کے 20 معاہدے طے پا گئے

    جدہ ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے دونوں ملکوں کی مشترکہ معاشی، ترقیاتی اور عسکری سوچ کے مظہر 44 سٹرٹیجک منصوبوں کی منظوری دی ہے۔

    ان منصوبوں کی منظوری جدہ میں سعودی عرب اور یو اے ای کی کوارڈی نیشن کونسل کے پہلے اجلاس میں دی گئی جس کی صدارت ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی۔

    اجلاس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کوارڈی نیش کونسل کے تنظیمی ڈھانچے کا اعلان کیا گیا۔ اس کونسل کا مقصد اہدافی منصوبوں اور پروگرامات پر عمل درآمد کی رفتار اور تعاون کو تیز کرنا ہے۔کونسل کے اہداف میں عالمی سطح پر دونوں ملکوں کی معیشت، انسانی ترقی، سیاسی، سیکیورٹی اور عسکری تعاون کے انڈیکس کو بڑھاوا دینا شامل ہے۔ نیز دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح وبہبود اور مسرت کا حصول بھی کونسل کے مقاصد میں شامل ہے۔

    اجلاس کے اختتام پر شیخ محمد بن زاید نے کہا کہ ہم تاریخ کے غیر معمولی دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ہمارے پاس عرب تعاون کا ایک انتہائی اہم نمونہ پیش کرنے کا موقع ہے۔ دونوں ملکوں کا استحکام اور اتحاد دراصل ہمارے مفادات کے تحفظ کا ضامن ہے۔ اس سے ہماری معیشت مضبوط ہو گی جس سے دونوں ملکوں کے عوام کا مستقبل بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔
    انھوں نے مزید کہا کہ ہم عرب دنیا کی ایسی دو بڑی معاشی طاقتیں ہیں جو انتہائی جدید فوج رکھتی ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا جی ڈی پی تین ٹریلین ڈالرز مالیت کا ہدف چھو رہا ہے۔ ہماری مشترکہ برآمدات دنیا میں چوتھے نمبر پر ہیں جس کی مالیت 750 ارب ڈالر ہے۔ نیز دونوں ملک سالانہ بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں پر 150 ارب اماراتی درہم خرچ کر رہے ہیں جس سے باہمی تعاون کے بڑے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

    ابوظہبی-ریاض کونسل کا قیام مئی 2016 میں یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر عمل میں آیا۔ کونسل دنیا کے سامنے ملکوں کے درمیان تعاون کا ایک رول ماڈل پیش کرتی ہے۔ درایں اس کے ذریعے خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے درمیان تعاون بھی مضبوط ہوتا ہے۔

    اجلاس کے اختتام پر دونوں رہنماوں نے کونسل کی پہلی میٹنگ کے محضر نامہ پر دستخط کئے۔

  • پولیس اہلکار کوکاٹنے پرغیرملکی خاتون کو جیل بھیج دیا گیا

    دبئی ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) میں مقیم ایک اُزبک خاتون کو اتوار کے روز دبئی کی عدالت نے چھے ماہ کے لیے جیل بھیج دیا ۔ خاتون پر ایک خاتون پولیس اہلکار کو ڈیوٹی کے دوران دائیں کلائی پر دانتوں سے کاٹنے اور گالیاں دینے کا الزام تھا۔ سرکاری استغاثہ کے مطابق 27 سالہ اُزبک خاتون نے 15 مارچ 2018ء کو ال برشا میں خاتون پولیس افسر کی جانب سے گرفتار کیے جانے کی کوشش پر مزاحمت کا مظاہرہ کیا تھا۔اُس وقت وہ نشے کی حالت میں تھی۔ عدالت نے ملزمہ کو خاتون پولیس اہلکار پر دورانِ ڈیوٹی حملہ آور ہونے‘ گرفتاری پرمزاحمت کرنے‘ گالیوں بھری زبان استعمال کرنے اور بغیر لائسنس کے شراب استعمال کرنے کا مُرتکب پایا ہے۔ ملزمہ کی سزا پُوری ہونے کے بعداُسےمتحدہ عرب امارات سے ڈی پورٹ کرنے کا حُکم بھی سُنایا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خاتون پولیس اہلکار نے شکایت درج کرائی تھی کہ اُس کے انچارج افسر نے اطلاع دی کہ ایک خاتون نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کر رہی ہے اور پولیس سے تعاون نہیں کر رہی۔خاتون اہلکار کے مطابق ’’میں اُس جگہ پر گئی جہاں خاتون موجود تھی۔ اُس کے ساتھ کار میں ایک اور خاتون بھی تھی۔ اُن میں سے دُوسری خاتون میرے احکامات کو مانتے ہوئے کار سے اُتر کر پولیس کی گاڑی میں جا بیٹھی۔ جبکہ ڈرائیونگ کرنے والی خاتون کو جب گرفتار کرنے کی کوشش کی اُس نے فرار ہونے کی کوشش کے دوران مجھے دانتوں سے کاٹ کھایا۔ ‘‘ نشے میں دُھت خاتون نے گرفتاری میں مزاحمت کے دوران پولیس اہلکارکو گالیا ں بھی دیں مگر پھر اُسے قابو کر کے ہتھکڑیوں میں جکڑا گیا اور پولیس کی کار میں بٹھادیا گیا۔گرفتار کی گئیں دونوں خواتین پولیس کی گاڑی میں ایک دُوسرے سے گُتھم گُتھا ہو گئیں۔ انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا جبکہ زخمی خاتون اہلکار کو طبی معانے کے لیے بھیج دیا گیا۔ اُزبک خاتون نے تفتیش کے دوران اعتراف کر لیا کہ وہ نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کر رہی تھی اور اس نے گرفتاری پرمزاحمت کرنے کے دوران خاتون پولیس اہلکار پر حملہ آور بھی ہوئی تھی۔ خاتون نے پولیس اہلکار کی کلائی پر دانت گاڑنے کا بھی اعتراف کر لیا۔ ملزمہ کو سزا کے خلاف پندرہ دِن کے اندر عدالت میں اپیل کرنے کا حق دیا گیا ہے

  • متحدہ عرب امارات کے ایک شہری نے معمولی سی بات پر شادی کے 15 منٹ بعد ہی بیوی کو طلاق دیدی

    متحدہ عرب امارات ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) کے ایک شہری نے معمولی سی بات پر شادی کے 15 منٹ بعد ہی بیوی کو طلاق دیدی۔ اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ایک دلہا اور دلہن کے والد کے درمیان جہیز کے لیے 1 ایک لاکھ کویتی ریال دینے کا معاہدہ طے پایا جس کی آدھی رقم یعنی 50 ہزار کویتی ریال شادی سے پہلے یعنی جب بات طے ہوئی اس وقت دینے تھے اور بقایا رقم شادی کے فوراً بعد ادا کرنے تھے۔

    معاہدے کے مطابق دلہے نے 50 ہزار کویتی ریال اپنے سسر کے حوالے کیے جس کے بعد خوش اسلوبی سے تمام معاملات طے پائے اور شادی کے بعد جب دلہا جانے لگا تو دلہن کے والد نے بقایا رقم کا مطالبہ کیا جس پر دلہا نے کہا کہ مجھے صرف 5 منٹ دیں، پیسے گاڑی میں رکھے ہیں جو میں لاکر دیتا ہوں تاہم دلہن کے والد نے یہ ماننے سے انکار کردیا۔

    دلہن کے والد نے کہا کہ وہ خود جانے کے بجائے اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کو پیسے لینے کے لیے بھیجے اور وہ گاڑی سے پیسے لاکر دے تاہم دلہا کو اپنے سسر کی یہ بات پسند نہ آئی اور اسے اپنی توہین سمجھا جب کہ اس نے غصے میں آکر دلہن کو طلاق دے دی۔

  • متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ڈرائیورز کو وارننگ جاری کر دی
    دبئی ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ڈرائیورز کو خبردار کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابقمتحدہ عرب امارات کی حکومت نے ڈرائیورز کو وارننگ جاری کر دی ہے۔اور ڈرائیوروں کو گاڑی چلانے سے پہلے مکمل آرام کرنے کا کہا گیا ہے۔اور کہا ہے کہ آگر آپ کو ڈرائیونگ کرنے کے دوران اونگھ آئے یا آپ  ڈر محسوس کریں تو آپ ڈرائیونگ کرنا وہیں روک دیں۔کیونکہ ایسی صورتحال میں گاڑی چلانا خطرے سے خالی نہیں ہے اوراس سے ڈرائیور کی زندگی اور دیگر لوگوں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔اور یہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔اور ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔قوانین کی خلاف ورزی پر 23 بلیک پوائنٹس اور 2000 درہم جرمانہ عائد کیا جائے گا۔جب کہ ڈرائیور کی گاڑی کو بھی 60دن کے لیے قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔ان قوانین کے بعد ٹریفک حادثات سے ہونے والی اموات میں کمی کرنے میں مدد ملے گی۔یاد رہے گزشتہ برس دبئی میں خطرناک طریقے سے گاڑیاں چلانے کے مرتکب افراد کو ایک ماہ تک روزانہ چار گھنٹے صفائی کرنے کی سزا سنائی گئی تھی۔عرب ٹی وی کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم اور حاکم دبئی شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے مذکورہ سزا ان منچلوں کو دی تھی جنہوں نے شاہراہ عام پر نہایت بے احتیاطی اور لاپرواہی کے ساتھ گاڑی چلاتے ہوئے نہ صرف اپنی بلکہ سڑک پر پیدل اور سوار چلنے والے دوسرے شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالا تھا۔تاہم اب رمضان المبارک کے مہینے میں متحدہ عرب امارات نے ڈروائیوروں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈرائیونگ س پہلے انی نیند پوری کر لیں۔اور اس کے بعد گاڑی چلائیں۔بصورت دیگر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
  • متحدہ عرب امارات نے ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان

    دبئی( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) متحدہ عرب امارات نے ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے،جس کے بعد اب سرمایہ کاروں پروفیشنلز اور ان کے اہلخانہ کو 10 سالہ رہائشی ویزا مل سکے گا۔ملک میں کمپنیوں کی فارن آنر شپ سسٹم میں بھی تبدیلی کی گئی ہے جس سے عالمی سرمایہ کاروں کی طرف سے 100 فیصد مل سکے گا۔تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے سرمایہ کاروں اور پروفیشنلز اور ان کے اہلخانہ کیلئے 10 سالہ رہائشی ویزا کا اعلان کیا ہے ،ڈبلیو اے ایم کے مطابق کابینہ نے قومی معیشت میں صلاحیتوں کو راغب کرنے کیلئے ویزا سسٹم کا اعلان کیا ہے۔نئے ویزا سسٹم سے سرمایہ کاروں اور صلاحیت کاروں کو 10 سالہ رہائش مل سکے گی جس میں بالخصوص میڈیکل ،سائنٹیفک ،ریسرچ اور ٹیکنیکل فیلڈ ز کے ساتھ ساتھ تمام سائنسدانوں متحدہ عرب امارات میں پڑھنے والے طالبعلموں اور موجدوں کو پانچ سالہ رہائش مل سکے گی ،،متحدہ عرب امارات کے میڈیا کے مطابق 10 سالہ ویزا خصوصی طلبا کیلئے ہے۔۔متحدہ عرب امارات کے نائب صدر ،وزیرا عظم اور دبئیکے حکمران شیخ محمد بن راشد المختوم کی سربراہی میں کابینہ نے ابوظہبی میں صدارتی محل میں فیصلے کی منظوری دی۔اجلاس میں ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شیخ سیف بن زید النہیان ،نائب وزیر اور وزیر صدارتی امور شیخ منصور بن زید النہیان دیگر وزرا کے ساتھ موجود تھے۔ملک میں کمپنیوں کے فارن اونر شپ سسٹم میں تبدیلی کا بھی اعلان کیاگیا ،جس کے مطابق سال کے آخر میں گلوبل انوسٹرز کی جانب سے 100 فیصد حصول ہوسکے گا۔شیخ محمد بن راشد المختوم نے معیشت کت وزیر کو ہدایت دی کہ قرارداد پر عملدرآمد اور اسے جمع کرانے کیلئے رواں سال کے تیسرے کوارٹر میں کیا جائے۔قانون کے مطابق غیر ملکی عموماً کسی اماراتی فرم سے 49 فیصد سے زائد نہیں لے سکیں گے علاوہ یہ کہ وہ خصوصی فری زون میں شامل ہو۔