محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG     پاکستان ,کو زاہدان کے دہشتگردانہ حملے کا جواب دینا ہوگا، ایران     No IMG    

لاہور میں خاتون نے اپنے شوہر کو طلاق دے دی
تاریخ :   30-10-2017

لاہور(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)میں خاتون نے اپنے شوہر کو طلاق دے دی ۔ اپنی نوعیت کی اس انوکھی خبر کے مطابق ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ خاتون نے نکاح نامے کا خانہ نمبر 18استعمال کیا ۔ خاتون نے موقف اختیار کیا کہ شوہر کو طلاق دینے کے لیے میں نے نکاح نامے کی شق نمبر اٹھارہ کا استعمال کیا جس کے بعد مذکورہ خاتون حق مہر لینے کے لیے پولیس اسٹیشن پہنچ گئی۔اس پر بات کرتے ہوئے ماہر قانون بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اس معاملے پر ایک کنفیوژن پھیلائی جا رہی ہے۔خاوند کو طلاق کا حق ہوتا ہے لیکن نکاح نامے میں درج کر سکتے ہیں کہ خاوند طلاق کا حق عورت کو بھی دے سکتا ہے ، اگر خاوند کی جانب سے یہ حق عورت کو دے دیا جائے تو عورت خاوند کے اس حق کو استعمال کر سکتی ہے اور خود اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے اوپر بہت بحث و مباحثہ ہو چکا ہے۔ اس کو با رہا چیلنج بھی کیا گیا اور سب سے پہلے موروکو نے ہی اس کو تجویز کیا تھا۔اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ نکاح نامے میں پہلے سے ہی درج کر دیا جائے کیونکہ اسلام کے شرعی قوانین کے مطابق بھی اگر خاوند شادی کے وقت نکاح نامے میں ہی اپنی بیوی کو طلاق کے حق کی اجازت دے دے تو وہ جائز ہے اسی لیے اس میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہئیے ۔اگر شق نہ بھی لکھی ہو ، اور خاوند بیوی کو طلاق کی اجازت نہ بھی دے تو عورت کے پاس خلع کا حق موجود ہے اور خلع کت لیے عورت کو وجہ بیان کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ، بس بیوی کو عدالت میں اتنا کہنا ہے کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی، بیوی کو شوہر پر کوئی الزام لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور خلع مل جاتی ہے۔اسی معاملے پر بات کرتے ہوئے مذہبی اسکالر مولانا راغب نعیمی نے کہا کہ شریعت میں طلاق کا حق خاوند کو دیا گیا ہے نکاح کی گرہ کو کھولنا خاوند کا ہی حق ہے۔عورت کو اسلام میں یا تو خلع لینے کا حق دیا گیا ہے جس میں وہ حق مہر کو معاف کرتے ہوئے خلع لے سکتی ہے یا پھر عورت کو تنسیخ نکاح کا حق دیا ہے جس میں عورت یہ موقف اپنا سکتی ہے کہ میرا شوہر میرا نان و نفقہ نہیں پورا کر پا رہا، جس پر ایک خاتون تنسیخ نکاح کر سکتی ہے۔ البتہ شوہر نکاح کے بعد اپنی رضا کے ساتھ بیوی کو طلاق کا اختیار دے دے تو شریعت اسے تسلیم کرتی ہے

Print Friendly, PDF & Email
پاکستان افغانستان کی تجارتی منڈی کھو سکتا ہے
اکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد اورجذبہ خیرسگالی کے تحت 68 بھارتی قیدیوں کی رہائی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »