آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے     No IMG     نیازی صاحب کی نااہلی نے پاکستان کو ایشیا کی بدترین معیشت بنا دیا,مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف     No IMG     ایران سے بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکا کی جانب سے اپنی ائیرلائنز کو خلیجی فضائی حدود میں محتاط رہنے کی ہدایت     No IMG     آصف علی زرداری کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات     No IMG     سمندر میں تیل، گیس کے ذخائر نہ مل سکے، ڈرلنگ روک دی گئی, ندیم بابر     No IMG     شامی فوج کے فضائی دفاعی سسٹم نے دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں اسرائیل کا ڈرون کو مار گرایا     No IMG     لالہ موسی میں قمر زمان کائرہ کے بیٹے اسامہ قمر اور ان کے دوست حمزہ آہوں سسکیوں میں سپرد خاک     No IMG     ملک چلانے کے لئے اسی قوم سے پیسہ اکٹھا کر کے دکھاؤں گا,وزیراعظم عمران خان     No IMG     عوام کو پتہ چلا کہ معاشی بدحالی کیا ہوتی ہے: مریم نواز     No IMG     وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دو روزہ سرکاری دورے پر کویت روانہ     No IMG     بارسلونا قونصلیٹ نے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان کردیا     No IMG     کوئٹہ میں بم دھماکے کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی     No IMG     امریکہ نے ایک پاکستانی کمپنی سمیت متعدد اداروں پر پابندی عائد کردی     No IMG     بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کے لیڈرکی بیٹی نامعلوم افراد کی چھیڑ چھاڑ     No IMG     ضلع کشمور کی تحصیل کندھ کوٹ میں ایک مسافر وین میں سلنڈر پھٹنے سے 2 بچوں اور 2 خواتین سمیت 5 افراد جھلس کر جاں بحق     No IMG    

فیصل آباد میں جعلی اکاﺅنٹ پکڑے گئے‘بنکوں کا عملہ بھی ملوث نکلا
تاریخ :   17-04-2019

فیصل آباد((ورلڈ فاسٹ نیوز فاریو) فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) کے مقامی دفتر نے فیصل آباد کے گھنٹہ گھر بازار اور دیگر علاقوں میں قائم بینکوں میں درجنوں بے نامی اکاﺅنٹس کا انکشاف کیا ہے. نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ترجیحی بنیادوں پر

بائیومیٹرکس کے ذریعے اکاﺅنٹس کی تصدیق کی درخواست بھی کی ہے.
ذرائع نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کو درخواست دینے کا فیصلہ شہیر ٹیکسٹائل کیس میں تحقیقات کے دوران بینکوں کا کردار سامنے آنے کے بعد کیا گیا.
14 مارچ کو ایف بی آر نے 20 سے زائد افراد کے خلاف ٹیکس چوری کا مقدمہ درج کیا تھا جس میں 2 بینک مینیجر بھی شامل تھے‘ایف بی آر نے 21 کروڑ 20 لاکھ روپے کے ٹیکس فراڈ کے الزام میں 9 مشتبہ ملزمان کو بھی گرفتار کیا تھا.

تفتیش کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ بے نامی اکاﺅنٹس محمد وسیم، یاسر مقبول، محمد عثمان او بابر علی کے نام سے نجی بینکوں کی شاخوں میں مونٹ گومری بازار، باوانا بازار، لیاقت ٹاو¿ن، عبداللہ پور، گلبرگ کالونی، کارخانہ بازار، پیپلزکالونی اور سوتر منڈی میں کھولے گئے تھے. یہ اکاﺅنٹس سپلائرز کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی سیکشن 73 کی تعمیل دکھانے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوئے‘ذرائع کا کہنا ہے کہ بے نامی اکاﺅنٹس کے ذریعے کروڑوں روپے کے کاروبار کا طریقہ کلاک ٹاور کے بازاروں میں نیا نہیں ہے جسے اس ضلع کا تجارتی مرکز سمجھا جاتا ہے جو پاکستان کا ٹیکسٹائل دارالحکومت کہلاتا ہے.
بے نامی اکاﺅنٹس کے ذریعے کاروبار کرنے والے افراد کے طریقہ کار سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک بڑی اکثریت اکاﺅنٹس کے لیے ٹی بوائے، ڈرائیور اور دیگر ملازمین کواستعمال کرتی ہے. انہوں نے بتایا کہ کئی مرتبہ گھر بیٹھے ماہانہ خطیر رقم کمانے سے متعلق اشتہارات بھی میڈیا میں گردش کرتے دکھائی دیتے ہیں‘ذرائع نے کہا کہ ایسے افراد کے شناختی کارڈ بے نامی اکاﺅنٹس کے لیے استعمال ہوتے تھے اور اکاﺅنٹ ہولڈرز کے دستخط بینک حکام کے ساتھ قانونی سہولت کے ذریعے تبدیل کیے گئے تھے.
اسٹیٹ بینک کو لکھے گئے خط میں ایف بی آر نے کہا کہ ڈائریکٹر آف انٹیلی جنس اور انویسٹی گیشن فیصل آباد کی جانب سے اسی طرح کی کارروائیوں میں ایک درجن سے زائد بینک اکاﺅنٹس ایسے پائے گئے سیلز ایکٹ 1990 کے سیکشن 73 کے تعمیل ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں. خط میں کہا گیا کہ ان میں سے اکثر اکاﺅنٹس ٹیکس فراڈ کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں جو کلاک ٹاور کے علاقے میں 8 بازاروں میں قائم مختلف بینکوں میں موجود ہیں‘ایف بی آر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے بائیومیٹرک تصدیق سے متعلق ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی ہے.
ٹیکس فراڈ سے متعلق تحقیقات کرنے والے ایک عہدیدار نے بتایا کہ لوگوں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ شناختی کارڈ، چیک بک اور ایف بی آر کی جانب سے جاری کیا گیا لاگ اِن پاسورڈ کو کیسے محفوظ رکھا جائے یہی ٹیکس فراڈ کے بنیادی ہتھیار ہیں. انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو لازمی ایک ایسا طریقہ کار متعاف کروانا چاہیےجس کے تحت کسی فرد یا ادارے کو دوسری مرتبہ ایک ہی نام سے رجسٹر کروانے کی اجازت نہ ہو.
عہدیدار نے کہا کہ جیسے قومی ٹیکس نمبر منفرد ہے اسی طرح کاروبار کا نام بھی منفرد ہونا چاہیے تاکہ کوئی بھی بینک کو دھوکا دینے، ایف بی آر اور جن کمپنیوں سے کاروبار کررہے ہیں ان سے فراڈ کی کوشش نہ کرسکے. انہوں نے کہا کہ شہیر ٹیکسٹائل کیس میں فراڈ کرنے والوں کی جانب سے کمپنی کا قومی ٹیکس نمبر استعمال کیا گیا تھا جبکہ وہ کمپنی کاروبار نہیں کررہی تھی‘تاہم نہ تو مالک نے ایف بی آر ریکارڈ میں کمپنی کو بلاک کروایا اور نہ ہی اس کا آفیشل اکاﺅنٹ معطل کیا تھا.

Print Friendly, PDF & Email
چلی میں چھوٹا طیارہ ایک گھر پر گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک
حمزہ شہبازعبوری ضمانت میں توسیع کے لیے ہائی کورٹ پہنچ گئے
Translate News »