پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

فرانس نے جرمنی کی تجویز کو مسترد
تاریخ :   30-11-2018

پیرس ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) فرانس نے جرمنی کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یورپی یونین کی ایک مشترکہ نشست ہونا چاہیے۔ فرانس اس اہم عالمی ادارے میں مستقل رکن ہے اور وہ اس نشست کو کھونا نہیں چاہتا۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جرمنی کی اس تجویز پر عمل نہیں کیا جا سکتا کہ اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل میں فرانس کی نشست کو ختم کرتے ہوئے یورپی یونین کی ایک مشترکہ نشست بنا دینا چاہیے۔ جرمن وزیر مالیات اور نائب چانسلر اولاف شُلس نے یہ تجویز دی تھی۔

اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے فرانسیسی وزارت داخلہ کی طرف سے کہا گیا، ’’جب ہم نے اپنے قومی مؤقف کا دفاع کرنا ہوتا ہے تو ہم یورپ کے متقفہ مؤقف کو ملحوظ رکھتے ہیں۔‘‘

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فرانسیسی حکومت کی نمائندگی میں نہ صرف جرمنی بلکہ تمام یورپی یونین رکن ریاستوں کے مؤقف کو شامل کیا جاتا ہے۔

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ البتہ پیرس حکومت سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے تیار ہے اور اس اہم عالمی ادارے میں جرمنی، جاپان، بھارت، برازیل اور دو افریقی ممالک کو مستقل ممبران بنائے جانے کی حمایت کی جائے گی۔

فی الحال سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کی تعداد پانچ ہے۔ ان ممالک میں فرانس، برطانیہ، چین، روس اور امریکا شامل ہیں۔ یورپی یونین سلامتی کونسل میں مبصر ہے اور اسے ووٹنگ کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔

جرمنی کی وسیع تر مخلوط حکومت میں شامل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کے رکن اولاف شُلس نے تجویز دی تھی کہ فرانس کو سلامتی کونسل میں اپنی مستقل نشست کو یورپی یونین کی سیٹ میں بدل لینا چاہیے۔

انہوں نے برلن میں کہا، ’’مجھے یہ بات واضح ہے کہ اس سلسلے میں فرانس کو قائل کرنے کی خاطر کام کرنا پڑے گا۔‘‘ ان کے بقول ’لیکن یہ ایک دلیرانہ اور علقمندانہ مقصد ہو گا‘۔

شُلس کی یہ تجویز دراصل جرمنی کی اس دیرینہ خواہش کا متبادل ہے، جس میں جرمنی کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں ایس پی ڈی پیش پیش رہی ہے۔ کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) سے تعلق رکھنے والی چانسلر انگیلا میرکل نے بھی محتاط انداز میں اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں اضافے کا منصوبہ متنازعہ ہے کیونکہ پہلے ہی پانچ مستقل ارکان بہت سے معاملات پر ویٹو کا حق استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اس اہم ادارے میں فیصلہ سازی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
جرمن پولیس نے فرینکفرٹ میں ڈوئچے بینک کے صدر دفاتر پر چھاپے
یمن کی ہولناک جنگ دہشت گرد گروپوں کے اسلحے کے ذخیرہ یورپی ہتھیاروں سے بھرے ہیں
Translate News »