پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

فرانس اپنی فوجیوں شمالی شام نہ بھیجے,ترک وزیر دفاع نور الدین جنیکلے
تاریخ :   01-04-2018

ترکی( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ) نے فرانس کو تنبیہ کی ہے کہ وہ شام میں فوجی موجودگی بڑھانے سے خبردار رہے۔ انقرہ حکومت کے مطابق اگر فرانس نے شام میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھائی تو اسے ’مداخلت‘ سمجھا جائے گا۔

ترک وزیر دفاع نور الدین جنیکلے کے مطابق، ’’اگر فرانس نے شمالی شام میں اپنے فوجیوں کو بھیجنے  کا کوئی بھی فیصلہ کیا، تو وہ غیر قانونی ہو گا اور ساتھ ہی بین الاقوامی قوانین کے منافی بھی ہو گا۔ لیکن اصل میں یہ ’دست درازی‘ (یا عسکری مداخلت) ہو گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر اگر فرانس نے دہشت گرد عناصر کی اپنے فوجیوں کے ذریعے براہ راست یا بالواسطہ مدد کرنے کی کوشش کی تو یہ ایک تباہ کن اقدام ہو گا۔

ترکی اور فرانس کے باہمی روابط میں پہلے سے موجود کشیدگی جمعرات کو اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی، جب فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے سیریئن ڈیموکریٹک فورسز ( ایس ڈی ایف) کے وفد سے ملاقات کی۔ ایس ڈی ایف کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔

کرد ذرائع نے بتایا کہ اس ملاقات کے بعد فرانس اپنے دستے شمالی شامی شہر منبج بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ علاقہ کرد جنجگو تنظیم ’ وائی پی جی‘ کے زیر انتظام ہے۔ تاہم بعد ازاں پیرس حکام نے اس خبر کی تردید کر دی۔

ترکی ’وائی پی جی‘ کو دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہوئے اسے کلعدم کرد تنظیم کردستان ورکرز پارٹی ’ پی کے کے‘ کا ایک بازو قرار دیتا ہے۔ پی کے کے گزشتہ تین دہائیوں سے ترکی میں عسکریت پسندانہ کارروائیوں میں ملوث ہے۔ اسے ترکی اور اس کے مغربی حلیفوں نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔

ترکی نے خود بھی رواں برس جنوری سے شمالی شام کے عفرین نامی علاقے میں ’وائی پی جی‘ کے خلاف عسکری کارروائی شروع کی تھی۔ اس دوران ترک دستوں نے اٹھارہ مارچ کو اس علاقے پر قابض ہونے کا دعوی کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی خون آشام کاروائیاں، 17 نوجوان شہید اور 100 زخمی
امریکا سے بے دخل کیے جانے والے روسی سفارتکار آج اتوار کی صبح ماسکو پہنچ گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »