اسرائیلی فوج ’فوری طور پر حملے بند, کرے، ترکی     No IMG     یورپی فوج‘ تشکیل دی جائے ,چانسلر انگیلا میرکل     No IMG     ترکی میں مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک     No IMG     آرمی چیف کی زیر صدارت کمانڈرز کانفرنس     No IMG     ٹریفک کےمختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق     No IMG     اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی مندی کا رحجان     No IMG     ایف بی آرنے وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کیلئے قائم کردہ جے آئی ٹی کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا     No IMG     نیب ادارہ ختم کر دیا جا ئے ، اہم ترین اعلان     No IMG     آصف علی زرداری، فریال تالپور اور دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 10 دسمبر تک کی توسیع     No IMG     ہولناک ٹریفک حادثہ، ڈرائیور ہلاک، 7 افراد زخمی     No IMG     فلسطینیوں نے مقبوضہ علاقوں پر 200 راکٹ فائر کئے ہیں جن کے نتیجے میں 19 صہیونی زخمی     No IMG     بالی ووڈ اداکارہ راکھی ساونت کوغیر ملکی خاتون ریسلر سے پنگا مہنگا پڑگیا‘ اداکارہ ہسپتال پہنچ گئی     No IMG     موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے نہ ہی صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی,چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG     چیئرمین نیب نے تمام افسران کے میڈیا کو انٹرویوز پر پابندی عائد کردی     No IMG     افریقی ملک یوگنڈا میں ایک اسکول میں آگ لگنے کے سبب 9 بچے ہلاک 40 زخمی     No IMG    

عمران،جہانگیرترین نااہلی کیس :ہر قانون کی خلاف ورزی کے اپنے نتائج ہوتے ہیں،جسٹس ثاقب نثار
تاریخ :   07-11-2017

‘اسلام آباد (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) سپریم کورٹ میں عمران خان اور جیانگیر ترین کی نااہلی کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حنیف عباسی کے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں حنیف عباسی کا کونسا بنیادی حقوق متاثر ہوا، کسی کو کامیابی

پر اعتراض ہے تو ٹربیونل سے رجوع کرتا جب کہ آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹ میں درخواست دائرہوسکتی ہے۔بعد ازاں عدالتی وقت ختم ہونے کے باعث عدالت عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت کل بدھ تک ملتوی کردی ۔ منگل کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے حنیف عباسی کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی سے کے لیے دائر کی درخواست کی سماعت کی ، دوران سماعت حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے تحریری بیان میں ترمیم کے لیے درخواست دی ہے جس کا جائزہ لیاہے، درخواست میں نئی دستاویزات لگائی گئی ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیس چل رہاہے سوال اٹھے تو نئی دستاویزات آئیں۔اکرم شیخ نے کہا کہ آپ کے اختیارات پرسوال کرنے والے کے منہ میں خاک، چیف جسٹس نے کہا کہ جج قانون کے تابع ہے اختیارات کی بات نہیں جس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اس مقدمہ میں جودستاویزات آئیں ہیں وہ متنازعہ ہیںجس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر دستاویزات متنازعہ ہوں تو پھرعدالت کو کیا کرنا چاہیے اس پراکرم شیخ نے دلائل میں کہا کہ نئی دستاویزات میں یورواکانٹ دکھایا گیا ہے، یورواکاونٹ کی اوپننگ آٹھ ہزار یورو سے ہے جب کہ عمران خان نے اپنے کاغذات اپنی اہلیہ کے اثاثے ظاہرنہیں کیے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جمائمہ خان کے اثاثے پوری دنیامیں ہوسکتے ہیں، آپ نے یہ اعتراض کبھی نہیں اٹھایا، جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ نے یہ تمام اثاثوں کا نقطہ پہلے نہیں اٹھایا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں حنیف عباسی کا کونسا بنیادی حقوق متاثر ہوا، کسی کو کامیابی پر اعتراض ہے تو ٹربیونل سے رجوع کرتا جبکہ آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹ میں درخواست دائرہوسکتی ہے اس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اپنی گزارشات تحریر صور ت میں جمع کرا رہا ہوں ، اکرم شیخ کے دلائل کے بعد جہانگیر ترین کی نااہلی کی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو حنیف عباسی کے وکیل عاضد نفیس نے دلائل کا آغاز کیا تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں اس معاملے میں بنیادی حقوق کا معاملہ کیا ہے، اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ حنیف عباسی کی نیت پر سوال اٹھایا گیا ہے، اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حنیف عباسی کے لیڈر کو عمران خان نے چیلنج کیا،یہ بتائیں حنیف عباسی کاکونسابنیادی حقوق متاثرہوا، اس پر عاضد نفیس کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کی نیت پردلائل دوں گا،ایس سی سی پی کے سیکشن15اور15اے بھی غیرقانونی قرارنہیں پایا،اگریہ سیکشن غیرآئینی قراردے دئیے جائیں لیکن نااہلی کاسوال رہے گا،جہانگیرترین نے ان سائیڈ ٹریڈنگ کرکے غیرقانونی آمدن حاصل کی ہے انکی کی نااہلی کے لیے یہ ایک نقطہ ہے ،ان سائیڈ ٹریڈنگ کااقدام جہانگیرترین کوغیرامین قراردینے کے لیے کافی ہے، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ امین کاکیامطلب ہے عاضد نفیس کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین نے غیرقانونی آمدن حاصل کی ،سیکشن 217کے جرم کے بعد جہانگیرترین کسی کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں بن سکتے ،اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاقانون کی خلاف ورزی بے ایمانی بن جاتی ہے،اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین 15اے،15بی اور224کی خلاف ورزی کی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیرترین نے رقم واپس کردی توجرم کیسے ہوگیا ، عاضد نفیس نے کہا کہ جہانگیرترین کمپنی ڈائریکٹر تھے یہ اقدام عام شخص کرتاتوبے ایمانی نہ ہوتی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون کی ہرخلاف ورزی کوبددیانتی میں کیسے فٹ کریں گے ،اتنے سالوں بعد کاروباری لین دین میں قانون کی خلاف ورزی پرکسی کونااہل کردیں مان لیتے ہیں غلطی ہوگئی قانون کی خلاف ورزی ہوگئی بددیانتی کہاں سے آئے گی،اس پر عاضد نفیس کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین نے غیرقانونی آمدن پرایس ای سی پی کوپینلٹی بھی اداکیںاس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ جہانگیرترین کی طرف سے پینلٹی اداکرنے کی تاریخ کیاہے ،عاضد نفیس کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین نے 12جنوری2008کوپینلٹی اداکی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاسیکشن 15اے،15بی غیرآئینی ہے اس پر عاضد نفیس کا کہنا تھا کہ کوئی ملزم قانون کوچیلنج نہیں کرسکتا جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ یہ بتائیں کہ کیافراڈیاجرم ہواہے ، اس پر عاضد نفیس کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین نے ان سائیڈ ٹریڈنگ کاجرم کیاہے ،ان سائیڈ ٹریڈنگ قانون کے تحت جرم ہے،جہانگیرترین نے اپناجرم تسلیم کیاپینلٹی دی ،جہانگیرترین نے 2013کے کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کی،2013کی غلط بیانی پرترین کا2015کاالیکشن کالعدم اورنااہلی ہوسکتی ہے ، آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی تاحیات ہو سکتی ہے، جہانگیر ترین نے لیز پر زرعی آمدن پر ٹیکس نہیں دیا، انکم ٹیکس قانون کے تحت زرعی آمدن پر ٹیکس دینا تھا،اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں جہانگیر ترین سے زرعی ٹیکس پوچھا گیا، جہانگیر ترین نے جو زرعی ٹیکس ادا کیا وہ کاغذات نامزدگی میں بتا دیا،جہانگیر ترین کے مطابق الیکشن فارم میں لیز زمین کا کالم نہیں ہے، جہانگیرترین اپنی زرعی آمدن تسلیم کرتے ہیں ،اس پر عاضد نفیس کا کہناتھا کہ جہانگیرترین اتنے سادے تھے تو ایف بی آرمیں بھی لیززمین کی زرعی آمدن نہ بتاتے،جہانگیرترین نے زرعی اورانکم ٹیکس اتھارٹی سے فائدہ اٹھایا چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیرترین کواپنی لیززمین کاغذات نامزدگی میں ذکرکرناچاہیے تھا،اس پر چیف جسٹس نے کسی نے کم ٹیکس دیاتوقانونی نتائج کیاہوں گے ،زرعی ٹیکس حکام نے جہانگیرترین کونوٹس نہیں کیا ،اس پر حنیف عباسی کے وکیل عاضد نفیس نے کہا کہ جہانگیر ترین نے صوبائی اور وفاقی حکومت کو مختلف گوشوارے دئے،جہانگیر ترین اپنے ہی گوشواروں کی وجہ سے پکڑے گئے ہیں،جہانگیر ترین کی بددیانتی سامنے آئی ہے بعدازاں عدالتی وقت ختم ہونے کے باعث کیس کی سماعت آج بدھ تک ملتوی کردی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email
یمنی باغیوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تمام ہوائی اڈے ، بندر گاہیں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
وہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ آنے والے الیکشن پرانی حلقہ بندیاں یا نئی حلقہ بندیوں کے تحت ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »