آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف پر فرد جُرم عائد کر دی گئی     No IMG     محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG    

عام انتخابات کے لیے مبصرین کی ملک گیر تیاریاں عروج پر
تاریخ :   04-07-2018

پاکستان(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) میں عام انتخابات کے تناظر میں یورپی یونین ملک بھر میں مبصرین کا جال بچھا رہی ہے۔ پاکستانی تنظیم ‘فافن’ کی ٹیم بیس ہزار تربیت یافتہ افراد پرمشتمل ہے اور پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے درجنوں حلقوں کا انتخاب کیا ہے۔

المی میڈیا کے نمائندوں نے بھی پاکستان کے مختلف شہروں میں انتخابی تیاری کے سلسلے میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو ملنے والی درخواستوں کو تیزی سے نمٹایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سفارت خانے بھی اپنے طور پر، محدود سطح پر، انتخابات کی نگرانی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔چونکہ ماضی میں فوجی آمروں کے جعلی ریفرنڈم، دھاندلیاں، خفیہ اداروں کی جانب سے حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ، اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت جیسے مسائل منظر عام پر آتے رہے ہیں اور تقریبا” ہر انتخابات کے بعد ہارنے والوں نے دھاندلی کا الزام لگایا ہے لہذا عالمی اور ملکی مبصرین کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔

اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا میں گردش کرنے والی چند خبروں کی تردید کے لیے الیکشن کمیشن نے ایک بیان جاری کیا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ غیر ملکی نگران ٹیموں کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ کمیشن کی پریس ریلیز کے مطابق، “انتخابی نگرانی کا عمل درحقیقت انتخابی قوانین کا حصہ ہے جس کی تفصیل اور طریقہ کار الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 238 میں درج ہے۔ الیکشن کمیشن مبصرین (ملکی و غیر ملکی ) کو انتخابی عمل کا اہم جزو سمجھتا ہے۔”

تاہم انتخابی نگرانی کے عمل میں کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر عمل لازم ہو گا۔ دستاویز کے مطابق، تمام غیر ملکی مبصرین “پاکستان کی خود مختاری اور پاکستانی عوام کے حقوق اور آزادیوں کا احترام کریں گے، پاکستان کے آئین و قوانین کا مکمل احترام کریں گے، الیکشن کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کی اتھارٹی کو کلیتا تسلیم کریں گے،انکی گاہے بگاہے جاری کی جانے والی ہدایات پر من و عن عمل کریں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مکمل احترام کریں گے۔”

ضابطہ اخلاق میں انتخابی مبصرین کی غیر جانبداری پر بہت زور دیا گیا ہے، “مبصرین کلیتا” غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں گے اور ایسا کوئی عمل نہیں کیا جائے گا جس سے یہ تاثر پیدا ہو کہ کسی جماعت یا امیدوار کی حمایت یا مخالفت کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف، مبصرین انتخابی عمل میں کسی نوعیت کی رکاوٹ ڈالنے کے مجاز نہ ہونگے، کام کے دوران الیکشن کمیشن کا جاری کردہ شناختی بیج نمایاں رکھیں گے اور انفرادی طور پر انتخابی عمل کے بارے میں بیانات جاری نہیں کریں گے۔”

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق میں یہ واضح بھی کر دیا گیا ہے کہ مبصرین مقامی ثقافت اور اقدار کا احترام کریں گے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں الیکشن کمیشن کسی مبصر کا اجازت نامہ منسوخ کرنے کا حق رکھتا ہے۔”

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے یورپی یونین کی الیکشن مانیٹرنگ ٹیم کے سربراہ مائیکل گاہلر کا کہنا تھا، “ہم اس مرتبہ نسبتا” بڑی ٹیم کے ساتھ کام کریں گے۔ ہماری ٹیم میں مقامی ذبانیں سمجھنے والے ماہرین بھی ہوں گے۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ میڈیا میں، گزشتہ انتخابات کی طرح، کسی سیاسی جماعت کو ابھارا یا دبایا تو نہیں جا رہا اور ہم سلامتی سے متعلق امور کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔”
پاکستان میں انتخابات کی نگرانی کرنے والی سب سے بڑی تنظیم ‘فافن’ سے وابستہ سرور باری نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’پاکستان کے ہر ضلع میں ہمارا ایک رابطہ کار، متعلقہ جماعتوں اور ریاستی اداروں کے ساتھ رابطہ میں رہتے ہوئے، مشاہدہ کرے گا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کے یکساں مواقع فراہم کیے جارہے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ ہم قومی اور علاقائی میڈیا پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ہمیں مانیٹرنگ میں آسانی ہو۔‘‘

پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے ایک مرکزی رہنما اسد بٹ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہم نے سندھ میں بیس انتخابی حلقوں کو نگرانی کے لیے چننا ہے،جہاں ہمیں سخت مقابلے کی توقع ہے۔ اسی طرح دیگر صوبوں میں درجنوں حلقے نگرانی کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔ ہمارے کارکن پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کریں گے، پولنگ ایجنٹوں اور عملے پرنظر رکھیں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کا بھی مشاہدہ کریں گے۔‘‘

سرور باری کے خیال میں بیشتر امیدواروں نے انتخابی عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، ’’نوے فیصد امیدواروں نے اس حوالے سے کوئی شکایات نہیں کیں۔ تاہم امیدواروں کو ہراساں کیے جانے کے کچھ واقعات ضرور ہوئے ہیں اور ایسے واقعات کی بڑی تعداد سندھ میں ہے۔‘‘ اسی طرح یورپی یونین کے چیف الیکشن آبزرور، مائیکل گاہلر کے مطابق، “ابھی تک یہی محسوس ہو رہا ہے کہ مبصر مشن کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
تیرہویں آئینی ترمیم کی منظوری پر صرف سردارعتیق اور مودی کو بہت تکلیف ہوئی ، پتہ نہیں دونوں کو کیا معاملہ ہے
جرمنی پہنچنے پر مہاجرین کے ساتھ اب کیا ہو گا؟
Translate News »