اسرائیلی فوج ’فوری طور پر حملے بند, کرے، ترکی     No IMG     یورپی فوج‘ تشکیل دی جائے ,چانسلر انگیلا میرکل     No IMG     ترکی میں مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک     No IMG     آرمی چیف کی زیر صدارت کمانڈرز کانفرنس     No IMG     ٹریفک کےمختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق     No IMG     اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی مندی کا رحجان     No IMG     ایف بی آرنے وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کیلئے قائم کردہ جے آئی ٹی کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا     No IMG     نیب ادارہ ختم کر دیا جا ئے ، اہم ترین اعلان     No IMG     آصف علی زرداری، فریال تالپور اور دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 10 دسمبر تک کی توسیع     No IMG     ہولناک ٹریفک حادثہ، ڈرائیور ہلاک، 7 افراد زخمی     No IMG     فلسطینیوں نے مقبوضہ علاقوں پر 200 راکٹ فائر کئے ہیں جن کے نتیجے میں 19 صہیونی زخمی     No IMG     بالی ووڈ اداکارہ راکھی ساونت کوغیر ملکی خاتون ریسلر سے پنگا مہنگا پڑگیا‘ اداکارہ ہسپتال پہنچ گئی     No IMG     موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے نہ ہی صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی,چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG     چیئرمین نیب نے تمام افسران کے میڈیا کو انٹرویوز پر پابندی عائد کردی     No IMG     افریقی ملک یوگنڈا میں ایک اسکول میں آگ لگنے کے سبب 9 بچے ہلاک 40 زخمی     No IMG    

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو منسوخ کرنے کے بجائے اس کی ترمیم کے واسطے 3 نئی شرائط پیش
تاریخ :   27-02-2018

امریکی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو منسوخ کرنے کے بجائے اس کی ترمیم کے واسطے 3 نئی شرائط پیش کی ہیں۔

جوہری معاہدے کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے پیش کی جانے والی اضافی شرائط میں ایران کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنا ، سائبر حملوں اور دھمکیوں کا سلسلہ بند کرنا اور پاسداران انقلاب کی اقتصادی سرگرمیوں کو منجمد کرنا شامل ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے کی مدت کی توسیع کے واسطے مذکورہ تین مطالبات کے علاوہ سابقہ مطالبات بھی پورے کرنے کی شرط رکھی ہے۔ سابقہ مطالبات میں ایران کا بیلسٹک میزائلوں کی تیاری ، ترقی اور تجربات کو روکنا ، خطّے کے ممالک سے پاسداران انقلاب کی فورسز کو واپس بلانا اور ایران میں تمام جوہری تنصیبات پر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنے کی اجازت دینا اور معاہدے کی اس شِق میں ترمیم کرنا جس کے مطابق ایرانی جوہری پروگرام 10 برس بعد دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے یورپی حلیفوں کو 120 روز کی مہلت دی تھی تا کہ اس دوران وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا جائزہ لے لیں۔ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ 11 مئی کو مہلت کے اختتام پذیر ہونے سے قبل اگر معاہدے کی اصلاح نہیں کی گئی تو امریکا معاہدے سے نکل جائے گا۔ ادھر ایران یہ دھمکی دے رہا ہے کہ اگر امریکا اس معاہدے سے باہر آیا تو تہران اپنی جوہری سرگرمیوں کی طرف پھر سے لوٹ جائے گا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو امریکا کی تاریخ کا بدترین سمجھوتا قرار دیتے ہیں۔

نئی شرائط کے حوالے سے ایسا لگتا ہے کہ ایران نے دباؤ کے سبب لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے عارضی طور پر بیلسٹک میزائلوں کے تجربات بھی روک دیے گئے ہیں۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی جانب سے کچھ عرصہ قبل جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایران یورینیئم کی افزودگی منجمد کرنے اور متنازع سرگرمیاں روک دینے کے حوالے سے کاربند رہا ہے۔ ایجنسی نے باور کرایا کہ تہران جوہری معاہدے کی تکنیکی شقوں کی پاسداری کر رہا ہے۔

سیاسی میدان میں حسن روحانی کی حکومت نے مغربی ممالک اور امریکا کو اس طرح کے اشارے بھیجے ہیں کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ یہاں تک کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور ان کے معاونین نے بہت سے مضامین ، انٹرویوز اور سیاسی محفلوں میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ان کی حکومت میزائل پروگرام سے متعلق مسائل کو زیر بحث لانے پر آمادہ ہے۔

البتہ ان تمام رعائتوں اور دست برداریوں کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ بعض شقوں میں ترمیم کی شرط اور واشنگٹن کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کہ معاہدے کی مدت مکمل ہو جانے کے بعد بھی ایرانی جوہری پروگرام پر پابندی برقرار رہے.. یہ اُن مشکل ترین شرائط میں سے ہے جو ایران میں سخت گیر حلقوں کے سامنے روحانی کی حکومت کے موقف کو کمزور بناتی ہیں۔

جہاں تک دیگر شرائط مثلا پاسداران انقلاب کی معیشت میں مداخلت ، خطے کے ممالک میں دہشت گری کی سپورٹ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا تعلق ہے تو یہ ایسے معاملات ہیں جن کے سبب سخت گیر حلقہ جن میں مرشد اعلی علی خامنہ ای سرفہرست ہیں جوہری معاہدے سے نکلنے کا رخ کر سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ خدا کی قسم میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں
سی پیک منصوبہ پاکستان اور چین کے ساتھ ساتھ افغانستان کے لیے بھی بے پناہ اہمیت کا حامل ہے,صدر مملکت ممنون حسین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »