غزہ تباہی کے دھانےپر،کسی لمحے آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے اقوام متحدہ     No IMG     روس کے صدر ولادیمیر پوتین کی اہواز میں فوجی پریڈ پر دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت     No IMG     ترکی میں حکومت مخالف رہنما فتح اللہ گولن کے حامی 14 فوجی افسران سمیت 110 فوجیوں کو حراست میں لے لیا     No IMG     لاہور میٹرو بس میں لڑکی کا بھیک مانگنے کے انداز نے سب کو حیران کر دیا     No IMG     سابق وزیراعظم نواز شریف کا اہلیہ کے چالیسویں تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ     No IMG     اسلام آباد تیز رفتار گاڑی نے ایک پولیس اہلکار کو کچل دیا، ڈرائیور عابد گرفتار     No IMG     ،تحریک انصاف کی حکومت ابھی تک خارجہ پالیسی واضح کرنے میں ناکام رہی ہے،خواجہ آصف     No IMG     وزیر ریلوے شیخ رشید کا 8 نئی ٹرینیں چلانے کا اعلان 5 مال گاڑیوں اور 3 نئی مسافر ٹرینوں کا افتتاح بھی جلدی کیا جائے گا     No IMG     بھارت کی فوج دنیا کی بزدل ترین فوج ہے اس کیلئے کشمیری ہی کافی ہیں,وزیر اعظم آزاد کشمیر     No IMG     یورپی یونین کے رہنماؤں نے غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام کے لیے مصر سمیت شمالی افریقی ممالک سے رابطہ     No IMG     بھارتی آرمی چیف کو اپنے عہدے کے مطابق زبان استعمال کرنی چاہیےوفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری     No IMG     بھارت میں جنسی زیادتی کے الزام میں کیتھولک پادری گرفتار، درخواست ضمانت مسترد     No IMG     ممبئی میں 1993 میں ہونے والے بم دھماکوں کے ملزم خورشید عالم کو نیپال میں گولی مار کرقتل کر دیا گیا     No IMG     کیا منی لونڈرنگ کے ذریعے چرائی گئی دولت پاکستان واپس لائی جائے گی؟     No IMG     بھارت، نے دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان پر حملہ کروا دیا کیپٹن سمیت 7 فوجی شہید     No IMG    

شیل کمپنیزکوتوڑتے ہتھوڑا نہ ٹوٹ جائے،کیوں نہ ملک کے 100بڑے لوگوں کوعدالت بلالیں
تاریخ :   20-03-2018

اسلام آباد( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے غیرملکی اکاونٹس سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے کہا کہ شیل کمپنیزکوتوڑتے ہتھوڑا نہ ٹوٹ جائے،اب چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ ہی رقم واپس لانے میں ہماری مدد کریں گے،کیوں نہ ملک کے 100بڑے لوگوں کوعدالت بلالیں؟سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ پاکستانیوں کے غیرملکی اکاﺅنٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے ملک کی کرنسی گر رہی ہے، غیرقانونی چینل سے لوگ پیسہ باہرمنتقل کرکے قانونی طریقے سے واپس لے آتے ہیں،اوپن مارکیٹ میں ڈالرخرید کر سب کچھ پاک کرلیاجاتاہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ منی چینجرکواچھی پرسنٹیج دیں تووہ زرمبادلہ کابندوبست کردیتاہے۔اسپین،ملائشیا ،دوبئی،امریکہ اور فرانس میں لوگوں نے املاک خرید رکھی ہیں،جن لوگوں نے یہ گتھیاں بنائی ہیں وہی انہیں سلجھائیں گے،یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ قوم کا پیسہ واپس لایا جائے،شیل کمپنوں کو توڑتے ہتھوڑا نہ ٹوٹ جائے،اب چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ ہی رقم واپس لانے میں ہماری مدد کریں گے،ہم نے پاکستان سے بھاگ کر نہیں جانا ،ہمارے بچوں کا ہم پر حق ہے بچوں کو ایسا ملک دے کر جائیں جہاں وہ خوش و خرم رہیں،کیوں نہ ملک کے 100بڑے لوگوں کوعدالت بلالیں ؟ان لوگوں کوبلاکرپوچھ لیں اپنی بیرون ملک اثاثوں کی تفصیل دیں ،ممکن ہے بڑے لوگ ہماری بات مان کرتفصیلات دے دیں، کتنے لوگ ملک چھوڑ کرچلے جائیں گے ؟اپنے بچوں کوبہترین پاکستان دیناہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کو بیرون ملک اکاﺅنٹس کی تفصیلات لینے کاحکم دیاہے۔گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ بیرون ملک اثاثوں کی تصدیق ہوجائے گی لیکن وقت لگے گا،پوری دنیامیں ڈیکلئیرڈ اثاثوں کے گرد گھیراتنگ کیاجارہاہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ گھیراتنگ کرنے سے آپ کی کیامراد ہے ؟یہاں پاکستان میں کیسے گھیراتنگ ہوگا ؟گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ پورے ملک میں کرنسی کی آزادانہ نقل و حرکت ہو رہی ہے، فارن کرنسی سے متعلق قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے، قانون فارن کرنسی ایکسچینج چلانے والوں کے لیے بڑا نرم ہے، پیسے کی منتقلی کے حوالے سے لیگل ریجیم کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس نے بیرون ملک سے رقم واپس لانے کے لیے ورکنگ گروپ تشکیل دینے کاعندیہ دے دیا اور کہا کہ ورکنگ گروپ منی لامڈرنگ اور رقم لانے سے متعلق تجاویز دے گا ،ورکنگ گروپ کی تجاویز پارلیمنٹ کے سامنے رکھیں گے،معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے رکھنے کے بعد ہم بری الذمہ ہوں گے ،ایساخوف پیدانہیں کرناچاہتے جوہماری معشیت کے لیے نقصان دہ ہو۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان کے اکاﺅنٹس سے متعلق سوئس حکام سے معلومات مانگی ہے؟گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ معلوم نہیں کہ سوئس حکام کے پاس معلومات ہیں یا نہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حکومت سوئس حکام سے معلومات مانگے تو ہو سکتی ہیں۔چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ نے کہا کہ بیرون ملک تین اقسام کے اثاثے منتقل ہوئے، عوام کے بیرون ملک پیسے پر کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے، بیرون ملک منتقل پیسے کی ایک قسم وہ بھی ہے جس پر ٹیکس نہیں دیا گیا،ایسا پیسہ بھی منتقل ہوا جس پر ٹیکس ادا کیا گیا، بیرون ملک آف شور ٹرسٹ بنا کر بنا کر اثاثہ رکھا جاتا ہے، دیانت دار لوگوں کے لیے فارن کرنسی اکاﺅنٹس بند نہیں کر سکتے، ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو فارن کرنسی اکاﺅنٹ سے رقم منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، کرپشن اور مجرمانہ فعل کی رقم بیرون ملک نہیں جانی چاہیے، 2001میں نان ریذیڈنٹ کو 182دن کی رعایت دے دی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email
اسلام آباد سپریم کورٹ نے ڈاکٹر شاہد مسعود پر بجلی گرا دی ۔۔ غلط خبر چلانے کے جرم میں چیف جسٹس پاکستان کادھماکہ
میرپورخاص میں نجی میڈیکل کالج کی طالبہ کی ہاسٹل کی گلی سے ملنے والی لاش پولیس کے لیے معمہ بن گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »