پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

شریف خاندان کے قریبی بیوروکریٹس کی گرفتاریوں کا امکان ، جلد ایک وفاقی یا صوبائی وزیر بھی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے
تاریخ :   06-10-2018

لاہور( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو )مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کی گرفتاری اور دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر شریف خاندان کے قریبی بیوروکریٹس میں ایک بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق شریف خاندان کے قریب رہنے والے بیوروکریٹس کو بھی اپنے سروں پر تلوار

لٹکتی ہوئی نظر آنے لگی ہے جس پر انہیں اپنے مستقبل کے لالے پڑ گئے ہیں۔
بیوروکریسی میں اس حوالے سے چہ مگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد کئی انتظامی افسران اور بیوروکریٹس کی گرفتاریوں بھی عمل میں لائی جائیں گی جبکہ سابق وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف کے با اعتماد اور قریبی بیوروکریٹس پر بھی ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے۔ بیوروکریٹس کے ساتھ ساتھ آئندہ دنوں میں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں ایک سابق صوبائی یا وفاقی وزیر کی گرفتاری کا بھی امکان ہے کیونکہ کچھ اطلاعات کے مطابق آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف کے خلاف فواد حسن فواد وعدہ معاف گواہ بن گئے اوران ہی کے انکشافات پر شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا۔
دوسری جانب شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد کئی سرکاری افسران کے مابین بے چینی دیکھنے میں آئی۔ تاہم اب 56 کمپنیاں کیس میں مزید 8 افسران نے وعدہ معاف گواہ بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق 56 کمپنیوں کے حوالے سے کی گئی تحقیقات میں کرپشن کرنے والے سیاسی اور سرکاری با اثر مافیا کے خلاف سخت ایکشن لینے کے لیے نیب نے تیاری کر لی ہے ، اس کے علاوہ ان کیسز میں مزید اہم گرفتاریاں بھی عمل میں لائے جانے کا امکان ہے۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں جن اہم افراد کی گرفتاری کا امکان ہے ان کے حوالے سے اہم اداروں کو خبردار کر دیا گیا ہے تاکہ نظر رکھی جائے کہ کہیں یہ افراد ملک سے باہر نہ چلے جائیں۔اس صورتحال کے پیش نظر پنجاب کے کئی بیورو کریٹس نے بھی 56 کمپنیوں کے حوالے سے سارا ملبہ اپنے اوپر لینے کی بجائے سیاسی رہنماؤں پر ڈالنے کا عندیہ دے دیا ہے اور تنبیہہ کر دی ہے کہ اگر نیب نے انہیں بلایا تو وہ سب حقیقت بیان کر دیں گے کہ ہم نے کن کن سرکاری کاموں میں غیر قانونی احکامات کن کن سیاسی رہنماؤں کے کہنے پر کئے اور کون کونسی سیاسی شخصیت اس کام کے لیے مجبور کرتی رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو مسلم لیگ ن کو نہ صرف ضمنی انتخاب میں نقصان ہو گا بلکہ ممکنہ طور پر مسلم لیگ ن کی سیاست دم توڑ جائے گی ۔ شہباز شریف کی گرفتاری پر مسلم لیگ ن کی بڑا احتجاج ریکارڈ کروانے میں ناکامی اور مرکزی قیادت کا خاموش رد عمل بھی پُر اسرار قرار دیا جا رہا ہے ۔ کچھ مبصرین اسے ڈیل سے منسوب کر رہے ہیں جبکہ کچھ سیاسی مبصرین نے اس خاموشی کو طوفان سے پہلے کے سناٹے سے تشبیہہ دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی آئندہ حکمت عملی کیا ہو گی اور کون پارٹی معاملات کو آگے لے کر چلے گا ، پارٹی صدر کی گرفتاری کے بعد پارٹی معاملات مبینہ طور پر حمزہ شہباز کے سپرد کر دئے گئے ہیں، لیکن پارٹی کے کئی رہنما ان سے ناخوش ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کی ٹرافی پاکستان کے دورے میں اسلام آباد پہنچ گئی
غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور فلسطینیوں اوراسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں معاونت کے لیے تیار ہیں۔انجیلا مرکل
Translate News »