مسلم لیگ ق نے کا تحریک انصاف کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو تحفظات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ     No IMG     تحریک انصاف نے سابق صدرآصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر بغیر تحقیقات کے بیانات دینے پر وزرا اور پنجاب پولیس پر سخت اظہار برہمی     No IMG     وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جسٹس ثاقب نثارپرتنقید، موجود چیف جسٹس کی تعریف     No IMG     برطانیہ میں بھی برف باری سے شدید سردی     No IMG     برطانیہ کے سابق وزیراعظم کے جان میجر نے موجودہ وزیرِاعظم تھریسا مے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپ سے علیحدگی (بریگزٹ) پر ریڈ لائن سے پیچھے ہٹ جائیں     No IMG     میکسیکو میں پیٹرول کی پائپ لائن میں دھماکے اور آگ لگنے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی     No IMG     امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات     No IMG     سی ٹی ڈی کے مطابق ذیشان کا تعلق داعش سے تھا ,صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت     No IMG     وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو معلوم ہی نہیں پھولوں کا گلدستہ کہاں پیش کرنا ہے کہاں نہیں؟     No IMG     لاہورمیں شہریوں نے پولیس کی دھلائی کر ڈالی، بھاگ کر جان بچائی     No IMG     وزارتِ تجارت نےکاروں کی درآمد پر لگائی جانی والی پابندیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے انہیں مزید سخت کردیا     No IMG     خواتین کے مساوی حقوق اور تشدد کے خاتمے کے لیے امریکہ، برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں خواتین کی جانب سے ریلیاں نکالی گئیں۔     No IMG     فرانس میں صدر میکروں کی حکومت کے خلاف پیلی جیکٹ والوں کا احتجاج اس ہفتے بھی جاری رہا، کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں     No IMG     وزیراعلیٰ پنجاب نے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرلیا     No IMG    

شریف خاندان کے قریبی بیوروکریٹس کی گرفتاریوں کا امکان ، جلد ایک وفاقی یا صوبائی وزیر بھی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے
تاریخ :   06-10-2018

لاہور( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو )مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کی گرفتاری اور دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر شریف خاندان کے قریبی بیوروکریٹس میں ایک بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق شریف خاندان کے قریب رہنے والے بیوروکریٹس کو بھی اپنے سروں پر تلوار

لٹکتی ہوئی نظر آنے لگی ہے جس پر انہیں اپنے مستقبل کے لالے پڑ گئے ہیں۔
بیوروکریسی میں اس حوالے سے چہ مگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد کئی انتظامی افسران اور بیوروکریٹس کی گرفتاریوں بھی عمل میں لائی جائیں گی جبکہ سابق وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف کے با اعتماد اور قریبی بیوروکریٹس پر بھی ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے۔ بیوروکریٹس کے ساتھ ساتھ آئندہ دنوں میں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں ایک سابق صوبائی یا وفاقی وزیر کی گرفتاری کا بھی امکان ہے کیونکہ کچھ اطلاعات کے مطابق آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف کے خلاف فواد حسن فواد وعدہ معاف گواہ بن گئے اوران ہی کے انکشافات پر شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا۔
دوسری جانب شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد کئی سرکاری افسران کے مابین بے چینی دیکھنے میں آئی۔ تاہم اب 56 کمپنیاں کیس میں مزید 8 افسران نے وعدہ معاف گواہ بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق 56 کمپنیوں کے حوالے سے کی گئی تحقیقات میں کرپشن کرنے والے سیاسی اور سرکاری با اثر مافیا کے خلاف سخت ایکشن لینے کے لیے نیب نے تیاری کر لی ہے ، اس کے علاوہ ان کیسز میں مزید اہم گرفتاریاں بھی عمل میں لائے جانے کا امکان ہے۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں جن اہم افراد کی گرفتاری کا امکان ہے ان کے حوالے سے اہم اداروں کو خبردار کر دیا گیا ہے تاکہ نظر رکھی جائے کہ کہیں یہ افراد ملک سے باہر نہ چلے جائیں۔اس صورتحال کے پیش نظر پنجاب کے کئی بیورو کریٹس نے بھی 56 کمپنیوں کے حوالے سے سارا ملبہ اپنے اوپر لینے کی بجائے سیاسی رہنماؤں پر ڈالنے کا عندیہ دے دیا ہے اور تنبیہہ کر دی ہے کہ اگر نیب نے انہیں بلایا تو وہ سب حقیقت بیان کر دیں گے کہ ہم نے کن کن سرکاری کاموں میں غیر قانونی احکامات کن کن سیاسی رہنماؤں کے کہنے پر کئے اور کون کونسی سیاسی شخصیت اس کام کے لیے مجبور کرتی رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو مسلم لیگ ن کو نہ صرف ضمنی انتخاب میں نقصان ہو گا بلکہ ممکنہ طور پر مسلم لیگ ن کی سیاست دم توڑ جائے گی ۔ شہباز شریف کی گرفتاری پر مسلم لیگ ن کی بڑا احتجاج ریکارڈ کروانے میں ناکامی اور مرکزی قیادت کا خاموش رد عمل بھی پُر اسرار قرار دیا جا رہا ہے ۔ کچھ مبصرین اسے ڈیل سے منسوب کر رہے ہیں جبکہ کچھ سیاسی مبصرین نے اس خاموشی کو طوفان سے پہلے کے سناٹے سے تشبیہہ دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی آئندہ حکمت عملی کیا ہو گی اور کون پارٹی معاملات کو آگے لے کر چلے گا ، پارٹی صدر کی گرفتاری کے بعد پارٹی معاملات مبینہ طور پر حمزہ شہباز کے سپرد کر دئے گئے ہیں، لیکن پارٹی کے کئی رہنما ان سے ناخوش ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کی ٹرافی پاکستان کے دورے میں اسلام آباد پہنچ گئی
غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور فلسطینیوں اوراسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں معاونت کے لیے تیار ہیں۔انجیلا مرکل
Translate News »