گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG     قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ     No IMG     اپوزیشن ,جماعتوں نے منی بجٹ مسترد کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کو سونے کی کلاشنکوف کا تحفہ مل گیا     No IMG     سعودی لڑکی رھف کا فرار ہونے کے بعد پہلا انٹرویو     No IMG     بنگلہ دیش,گارمنٹس ملازمین کا تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر مظاہرہ     No IMG     بھارتی فوج مغربی سرحد کیساتھ دہشتگردانہ کارروائیوں کیخلاف سخت ایکشن لینے سے نہیں ہچکچائے گی۔     No IMG     حکومت نے ایک ہفتے میں ہم سے 113 ارب روپے قرض لیاہے، پاکستانی اسٹیٹ بینک     No IMG     وزیراعظم کی اپوزیشن پر شدید تنقید     No IMG     چین کی عدالت نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں کینیڈا کے شہری کی 15 سال قید کی سزا کو پھانسی میں تبدیل کردیا     No IMG    

سینیٹ انتخابات: تحریک انصاف اورمسلم لیگ (ق) کے درمیان معاہد ہ طے پاگیا‘
تاریخ :   13-02-2018

لاہور(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) پنجاب اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کی نشستوں کے لیے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ق) ایک معاہد ہ طے پاگیا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اپوزیشن جماعتوں سے ہاتھ ملانے میں شک و شبہات کا شکار ہے۔دونوں جماعتوں کے درمیان معاہدے کے حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) اس بات پر راضی ہوئی ہیں کہ جنرل نشستوں پر ایک دوسرے کے امیدواروں کو ووٹ دینا دوسرے درجے پر ترجیح ہوگی جبکہ خواتین کی نشست پر مسلم لیگ (ق) اس بات پر راضی ہوئی ہے کہ تحریک انصاف کی امیدوار عندلیب عباس کو ووٹ دینا پہلی ترجیح ہوگی۔تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب میں سینیٹ کی جنرل نشست پر سابق گورنر چوہدری سرور جبکہ مسلم لیگ (ق) کی جانب سے سینیٹر کامل علی آغا نامزد کیے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت اس بات پر راضی ہوئی کہ ایک دوسرے کے امیدواروں کے مقابلے میں اپنے امیدواروں کو واپس نہیں لیںگے بلکہ ایک دوسرے کی حمایت میں ووٹ دینے کو دوسری ترجیح رکھیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ دونوں جماعتوں اور پیپلز پارٹی کے درمیان معاہدے میں ناکامی رہی اور پیپلز پارٹی نے سابق وزیر اعلیٰ میاں منظور وٹو کے داماد شہزاد علی خان کو اس نشست کے لیے نامزد کیا ہے۔اس بارے میں کامل علی آغا نے بتایا کہ اگرچہ تینوں اپوزیشن کی جماعتیں جنرل نشست کے لیے متفقہ امیدوار لانے پر راضی نہیں تھی، تاہم مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف آپس میں کچھ مفاہمت تک پہنچیں ہیں، کس سے دونوں جماعتوں کو پنجاب میں فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دو آزاد امیدواروں اور جماعت اسلامی کے ایک امیدوار کا ووٹ بھی (ق) لیگ کے امیدوار کی حمایت میں ہی ہوگا جبکہ پیپلز پارٹی کو بھی اس بات پر راضی کرنے پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ق) کے حق میں اپنا امیدوار دستبردار کردے یا پھر پی پی پی کے ایم پی ایز کی دوسری ترجیح ان کے امیدوار کو ووٹ دینا ہو۔کامل علی آغا نے بتایا کہ حکمران جماعتوں کے مختلف ایم پی ایزسے بھی ان کا رابطہ ہے اور کافی تعداد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی نے پہلی اور دوسری ترجیح پر ووٹ دینے کا وعدہ کیا ہے، جو ان کی قیادت کے لیے کافی حیران کن ثابت ہوگا۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری جنرل چوہدری منظور کا کہنا ہے کہ دونوں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے متفقہ امیدوار لانے میں دلچسپی ظاہر نہ کرنے کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان کے امیدوار شہزاد خان جنرل نشست پر اکیلے مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لیے رویہ کافی سخت ہے اور ہم حیران ہیں کہ آئندہ انتخا بات کے بعد یہ جماعت اتحادی حکومت بنانے کے لیے کس طرح دیگر سیاسی قوتوں کو ساتھ رکھے گی۔ادھر پنجاب اسمبلی میں تحریک اںصاف کے اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے امیدوار چوہدری سرور سینیٹ انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھائیں گے، ہم دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ انتخاب کے دن دو آزاد رکن صوبائی اسمبلی ہماری حمایت کریں گے۔چوہدری منظور کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے 31، مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے 8، 8 امیدوار ہیں جبکہ دو آزاد امیدوار اور ایک جماعت اسلامی کے ووٹ سے اپوزیشن کے پہلے ترجیحی ووٹ 50 تک ہوجائیں گے، تاہم جنرل نشست میں اپوزیشن کو ایک سیٹ حاصل کرنے کے لیے پہلی ترجیح پر 53 ووٹ کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
سپریم کورٹ نے 62ون ایف کیس کا فیصلہ محفوط کر لیا
سرگودھا شہر میں گاڑیوں کا داخلہ بند

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »