پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

لیبیا :سیف الاسلام کو انتخابات میں حصہ لینے سے کوئی نہیں روک سکتا‘قذافی کے حامی حلقے
تاریخ :   29-12-2017

لیبیا  (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) میں آئندہ برس ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں سابق صدر کرنل معمر قذافی کے حامی ایک بار پھر میدان میں ہیں اور وہ مقتول لیڈر کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق دار ٹھہراتے ہوئے ان کی حمایت میں مہمات چلا رہے ہیں۔

 سیف الاسلام اگرچہ اب اپنے ملک میں کسی جیل میں قید تو نہیں تاہم ہیگ میں قائم عالمی فوج داری عدالت میں ماخوذ ہونے کی بناء پر وہ اب بھی ایک متنازع شخصیت ہیں۔

دوسری جانب قذافی کے حامی حلقے سیف الاسلام کی انتخابات میں آمد اور ملکی سیاست میں حصہ لینے کو امن واستحکام کی بحالی کے معنوں میں لیتے ہیں۔

سیف الاسلام کو لیبیا کی جیل سے رہا ہوئے چھ ماہ گذر چکے ہیں مگر وہ بدستور روپوش ہیں۔ ان کے ٹھکانے کے بارے میں درست معلومات موجود نہیں اور نہ ہی ان صحت کے حوالے سے کسی قسم کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ عالمی فوج داری عدالت کو بھی مطلوب ہیں۔ عالمی فوج داری عدالت سیف کی گرفتاری کے احکامات دے چکی ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے کرنل قذافی کے حامیوں کو پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حق دے دیا ہے اور ان کے سیاسی عمل کا حصہ بننے کی حمایت کی ہے۔ مگر اسی جلو میں لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب غسان سلامہ کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی عدالت انصاف کو مطلوب ایک اشتہاری [سیف الاسلام] کو لیبیا میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اخبار ’الحیاۃ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سیف الاسلام کو اپنے حوالے سے قانونی تنازعات کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کرنل قذافی کا بیٹا جب تک عالمی عدالت کی طرف سے جاری کردہ فیصلوں اور نوٹس پر اپنی پوزیشن واضح نہیں کرتا اس وقت تک اسے لیبیا میں کسی سیاسی عمل کاحصہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اقوام متحدہ کے مندوب غسان سلامہ کے بیان کے رد عمل میں لیبیا کے ایک سرکردہ سیاسی رہ نما اور رکن پارلیمنٹ صالح فحیمہ نے کہا کہ سیف الاسلام کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا حیران کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیف الاسلام کو قومی مصالحتی عمل کے تحت رہائی ملی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیف الاسلام لیبیا کا شہری ہے اور اسے ریاستی باشندہ ہونے کے ناطے تمام بنیادی حقوق اور ذمہ داریوں کا حق دار ہے۔ اگر وہ لیبیا میں کسی سیاسی عہدے کے لیے خود کو نامزد کرتا ہے تو انہیں روکنے کا کوئی جواز نہیں ہونا چاہیے۔

 ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو سے بات کرتے ہوئے صلاح سلامہ نے کہا کہ لیبیا میں ووٹروں کی کثرت نہ ہونے کے باوجود سیف الاسلام کے حامی ووٹروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی فوج داری عدالت کی طرف سے سیف الاسلام پر عاید کردہ الزامات انہیں ملکی سیاست میں حصہ لینے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ لیبیا کا قانون اس حوالے سے خاموش ہے۔ اگر کوئی شخص عالمی عدالت کو مطلوب ہو تو بھی وہ انتخابی مہمات میں حصہ لے سکتا اور امیدوار بن سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
فلم ”ٹائیگر زندہ ہے “ نے ریلیزکے5 روز میں 173کروڑ کا بزنس کر لیا۔
ایران:مشہد میں ایرانیوں نے صدر روحانی اور سپریم لیڈر خامنہ ای مخالف نعرے لگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »