پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے ہمارے سیاستدان تو اپنے 4 صوبے نہیں سنبھال سکتے۔شاہد خان آفریدی     No IMG     چین میں متعدد پاکستانیوں کی بیگمات گرفتار     No IMG     ساہیوال میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد گرفتار     No IMG     فیصل آباد میں وکلاء کا احتجاج     No IMG     اوورسیز پاکستانیوں کیلئے نیا پاکستان کالنگ ویب پورٹل کا افتتاح     No IMG     بلوچستان ریلوے کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں, وفاقی وزیر ریلوے     No IMG     اسمبلی کی تقریر کو عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا,سابق وزیر اعظم     No IMG     اسرائیلی فوج ’فوری طور پر حملے بند, کرے، ترکی     No IMG     یورپی فوج‘ تشکیل دی جائے ,چانسلر انگیلا میرکل     No IMG     ترکی میں مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک     No IMG     آرمی چیف کی زیر صدارت کمانڈرز کانفرنس     No IMG     ٹریفک کےمختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق     No IMG     اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی مندی کا رحجان     No IMG     ایف بی آرنے وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کیلئے قائم کردہ جے آئی ٹی کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا     No IMG     نیب ادارہ ختم کر دیا جا ئے ، اہم ترین اعلان     No IMG    

سکاٹ لینڈ کی ایک عدالت برطانیہ کے یورپی یونین سے آئندہ اخراج یا بریگزٹ کے خلاف مقدمے میں فیصلہ اگلے ہفتے
تاریخ :   03-02-2018

سکاٹ لینڈ(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) کی ایک عدالت برطانیہ کے یورپی یونین سے آئندہ اخراج یا بریگزٹ کے خلاف مقدمے میں فیصلہ اگلے ہفتے سنائے گی۔ اسی دوران لندن میں ملکی حکومت نے کہا ہے کہ بریگزٹ کے ساتھ برطانیہ یورپی کسٹمز یونین سے بھی نکل جائے گا۔برطانوی دارالحکومت لندن سے دو فروری کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی ایک عدالت کے ایک جج کی طرف سے یہ فیصلہ اگلے ہفتے کے اوائل میں سنایا جائے گا کہ آیا صرف برطانیہ کو اکیلے ہی یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ یورپی یونین کی رکنیت ترک کرنے کا فیصلہ اور اس پر عمل درآمد کر سکے۔

سکاٹ لینڈ کی رائل کورٹ آف سیشنز کے ایک ترجمان نے آج جمعے کے روز بتایا کہ یہ مقدمہ ایسے برطانوی اراکین پارلیمان کے ایک گروپ کی طرف سے دائر کیا گیا ہے، جو برطانیہ کے آئندہ بھی یونین کا رکن رہنے کے حق میں ہیں اور یہ فیصلہ پیر پانچ فروری یا منگل چھ فروری کو سنایا جا سکتا ہے۔

اس مقدمے میں درخواست دہندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک بار جب یہ طے ہو جائے کہ بریگزٹ کے فیصلے پر ممکنہ عمل درآمد کے معیشت اور سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، تو برطانیہ کو اپنے لیے یہ راستہ بھی کھلا رکھنا چاہیے کہ وہ آئندہ بھی یورپی یونین میں شامل ہی رہے، جو کہ دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک ہے۔ سکاٹش عدالت کے فیصلے سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ رائل کورٹ اس مقدمے کو یورپی عدالت انصاف میں بھیج دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔

بریگزٹ کے لیے لازمی کارروائی کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے یورپی یونین کو باقاعدہ طور پر یہ اطلاع کر چکی ہیں کہ ان کا ملک لزبن معاہدے کے آرٹیکل پچاس کے تحت یورپی یونین سے اخراج کا خواہش مند ہے۔

ٹریزا مے نے یورپی یونین کی قیادت کو سرکاری طور پر یہ اطلاع 29 مارچ 2017ء کو دی تھی اور اب 29 مارچ 2019ء تک دو سال کے عرصے کے اندر اندر بریگزٹ کا عمل مکمل کیا جانا ہے۔ ساتھ ہی مے یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ وہ یہ برداشت نہیں کریں گی کہ بریگزٹ کے عوامی فیصلے پر قانونی عمل درآمد کی راہ میں اب برطانوی پارلیمان میں کوئی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔

اس کے برعکس گزشتہ برس دسمبر میں برٹش پارلیمنٹ کے کئی ارکان نے مے کی خواہشات کے برخلاف نہ صرف پارلیمان میں ایک رائے شماری بھی کرائی تھی بلکہ انہیں کافی حد تک یہ مشروط اختیار بھی مل گیا تھا کہ وہ بریگزٹ سے متعلق حتمی یورپی برطانوی معاہدے کو قبول کرنے یا اسے مسترد کرنے کا حق بھی حاصل کر سکیں۔

دریں اثنا‍ء لندن ہی میں وزیر اعظم ٹریزا مے کے ایک ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم کو اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ جب برطانیہ یورپی یونین سے نکل جائے گا تو وہ یورپی کسٹمز یونین کا رکن ملک بھی نہیں رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تب برطانیہ یورپی مشترکہ منڈی کا حصہ بھی نہیں ہو گا۔

اسی دوران بریگزٹ امور کے نگران برطانوی وزیر ڈیوڈ ڈیوس نے کہا ہے کہ ان کے اپنے یورپی مذاکراتی ساتھی اور یونین کے اعلیٰ ترین مذاکراتی مندوب میشیَل  بارنیئر کے ساتھ بات چیت کا اگلا دور آئندہ ہفتے پانچ فروری کو لندن میں ہو گا۔

Print Friendly, PDF & Email
ایف آئی اے کی ٹیم نے سانحہ لیبیا میں ملوث چار ایجنٹوں کو حراست میں لے لیا
افغانستان میں امریکہ کی تازہ فوجی مہم جوئی سے امریکیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »